آر جے ڈی کے بند کے دوران کارکن صبح تقریباً ساڑھے نو بجے پٹنہ کے راجندر نگر ٹرمنل پر ریل پٹری پر لیٹ گئے، جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے آمدورفت میں رخنہ پڑا۔
پٹنہ: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹر(این آر سی) کے خلاف بہار کی اہم اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے آج کے بند کے دوران ریاست میں ٹرین اور روڈ ٹرانسپورٹ میں رخنہ ڈالا گیا۔ آر جے ڈی کے بند کے دوران کارکن صبح تقریباً ساڑھے نو بجے پٹنہ کے راجندر نگر ٹرمنل پر ریل پٹری پر لیٹ گئے، جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے آمدورفت میں خنہ پڑا۔ دوسری طرف راجدھانی کے اہم ڈاک بنگلہ چوراہا اور انکم ٹیکس گولمبر کے نزدیک مظاہرہ کرکے ٹریفک میں رخنہ ڈالا گیا۔
سیکڑوں کی تعداد میں آر جے ڈی کے جھنڈا۔بینر لئے کارکن ٹریفک پولیس پوسٹ پر چڑھ کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس دوران وہاں موجود پولیس نے کچھ دیر بعد ہی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ آر جے ڈی کے اس بند کو مہاگٹھ بندھن میں ان کی معاون جماعت راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) اور لیفٹ پارٹیوں نے بھی حمایت دی ہے۔
آر ایل ایس پی کے صدر اور سابق مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا بند کی حمایت میں پٹنہ کی سڑکوں پر مارچ کرکے بند کو کامیاب بنانے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اوپیندر کشواہا نے مرکزی حکومت سے اس کالے قانون کو واپس لینے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سے پیدا ہوئے عوامی جذبات کی مرکزی حکومت قدر کرے اور اسے فوری طور پر واپس لے۔
بند کے پیش نظر راجدھانی پٹنہ کے اہم بازار سمیت کئی بڑے ادارے احتیاط کے طور پر بند رہے، وہیں کچھ اہم اسکولوں کی انتظامیہ نے اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ بازار میں سناٹا چھایا ہوا ہے اور دفتر جانے والے لوگ گلیوں سے جا رہے ہیں۔ پٹنہ کے کئی متبادل راستوں میں گاڑیوں کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے جام کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
اس درمیان ارریہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق بڑی تعدادا میں آر جے ڈی کارکنوں نے اسٹیشنوں پر دھرنا دیکر ارریی، جوگ بنی سواری گاڑی کو روک دیا۔ اس کے علاوہ قومی شاہراہ سمیت کئی ریاستوں پر بند حامی مظاہرہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک بری طرح سے ٹھپ ہے۔ جہان آباد میں بھی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف آر جے ڈی اور لیفٹ پارٹیوں کے کارکنوں نے پٹری پر دھرنا دیکر پٹنہ۔رانچی جن شتابدی ایکسپریس ٹرین کو کچھ دیر کے لئے روک دیا۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر جگہ جگہ مظاہرین ٹریفک میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔

Leave a Reply