پارلمینٹ میں کہی گئی بات جھوٹ ہے یا ریلی میں کہی گئی بات، مودی سرکار پہلے اس کو واضح کرے : ملی کونسل






نئی دہلی: (پریس ریلیز) وزیر اعظم نریندر مودی اور پوری بی جے پی کابینہ کو پہلے دیش کے عوام کے سامنے یہ واضح کردینا چاہیئے کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں کی گئی بات درست ہے یا پھر ریلی میں کہی گئی بات درست اور صحیح ہوتی ہے کیوں کہ این آرسی پر ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہاتھاکہ ہم پورے ملک میں این آرسی لائیں گے ،بی جے پی کا یہ بنیادی ایجنڈا ہے۔ اس سے قبل انہوںنے کئی ریلی میں بھی اس طرح کی بات کی تھی او راب 22دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاہے کہ ہماری پارٹی اور لیڈر نے کبھی پورے ملک میں این آرسی کی بات نہیں کی ہے ، کبھی کوئی چرچانہیں ہواہے ،لوگ افواہ پھیلارہے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔ لہذا بی جے پی حکومت کو سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق واضح کرنا چاہیئے۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا۔

انہوں نے کہاکہ متنازع شہر یت ایکٹ سے مسلمانوں،دلتوں ،سکھوں ،عیسائیوں اور تمام سیکولر عوام کو شدید اختلاف ہے۔یہ ہندوستان کے آئین اور دستور کے خلاف ہے اور اسی بنیاد پر سبھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کا یہ جملہ بھی غلط ہے کہ مسلمانوں اور تمام مظاہرین کو اپوزیشن پارٹیوں نے اکسایاہے۔ یا کسی کے اشارے پر پروٹیسٹ کررہے ہیں۔ حقیقت جانے بغیر یہ سب کررہے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ سبھی مظاہرین مکمل عقل وشعورکے ساتھ اور حقائق جاننے کے بعد ہی پروٹیسٹ کررہے ہیں اور یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سرکار یہ قانون واپس نہیں لیتی ہے کیوں کہ مذہب کی بنیاد پر شہریت ہندوستان کے آئین سے متصادم ہے اور جب بات آئین کو بچانے کی ہوگی تو ملک کے دیگر طبقات کے ساتھ مسلمان ہمیشہ سب سے آگے رہیں گے۔ملک کے سبھی طبقہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں نے دیش کو آزاد کرانے میں سب سے زیادہ قربانی دی تھی اور اب وہ دیش اور دیش کے آئین کو بچانا بھی اپنا فرض اور وطن سے محبت سمجھتے ہیں اور سبھی دیش واسیوں کے ساتھ میں مسلمان بھی اس فہرست میں سب سے آگے ہیں اور متنازع شہریت ایکٹ کی مخالفت کررہے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *