لکھنو: (ملت ٹائمز) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس میں تنظیم کے خلاف اترپردیش کی بی جے پی حکومت کی جاری سازش کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ ریاست میں تنظیمی کارکنان کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف عوامی مظاہروں سے متعلق واقعات میں غلط طریقے سے پھنسایا گیا ہے۔ ریاستی ایڈہاک کمیٹی کنوینر وسیم احمد اور ممبران قاری اشفاق اور محمد ندیم کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا، اب ان پر سنگین قسم کے الزامات لگاکر انہیں میڈیا کے سامنے تشدّد کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پویس نے ان میں سے دو کا چہرہ ڈھک کر انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا، تاکہ اس پورے معاملے کے پیچھے دہشت گردانہ ماحول تیار کیا جائے۔ پولیس کی یہ کاروائی دراصل ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے بے بنیاد الزام کی ایک کڑی ہے، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ تمام ناخوشگوار واقعات کے پیچھے پاپولر فرنٹ کا ہاتھ ہے۔ مرکزی سیکریٹریٹ نے ریاستی حکومت سے سیاسی انتقام کو بند کرنے، تمام جھوٹے مقدمات کو واپس لینے اور گرفتار لیڈران کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے سے بے چین ہوکر، بی جے پی کی ریاستی حکومتیں لوگوں کے احتجاجات کو منتشر اور ختم کرنے کے لئے غیرانسانی تشدد اور دیگر ظالمانہ طریقے اپنا رہی ہیں۔ حالیہ گرفتاریاں ان کی اسی ناپاک سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بڑے پیمانے پر ہو رہے احتجاجات اور مظاہروں کو کمزور اور بدنام کرنے کے لئے انہیں دہشت گردانہ کاروائیوں کی شکل میں پیش کرنا ہے۔ آج لوگ تفریقی و امتیازی قانون سی اے اے اور ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کے منصوبے کے خلاف بلاتفریق ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ صرف بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں ہی عوام کو پولیس کی بربریّت اور ظالمانہ کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صرف اتر پردیش کے اندر ایک 8 سالہ معصوم سمیت اب تک کل 18 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ان میں سے اکثر کی موت پولیس کی گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ بے قصور لوگوں کے ساتھ پولیس کا ایسا تشدد پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔ ریاست سے آنے والے ویڈیو اور دوسرے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے میں پولیس ہی سب سے آگے رہی ہے اور انہوں نے پ ±رامن مظاہرین کے خلاف اندھا دھند تشدّد کا رویہ اپنایا ہے۔ اور اب عوام کی توجہ کو بھٹکانے کے لئے وہ بے قصوروں کو ملزم بناکر پیش کر رہے ہیں۔
بیان میں یوپی حکومت کی جنونی چالوں کے خلاف جمہوری و قانونی طریقوں سے لڑائی لڑنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی اجلاس میں تمام طبقات کے لوگوں سے یہ اپیل کی گئی کہ وہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں، بالخصوص یوپی میں جمہوری مظاہروں کو دبانے کی کوشش اور بے قصوروں کی غیرقانونی گرفتاریوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

Leave a Reply