مولانا سلمان ندوی کے نام ان کے ایک شاگرد نے لکھا کھلا خط، ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف ہورہے مظالم پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ

21

(حضرت مولانا سلمان حسنی ندوی دامت برکاتہم کے نام ایک کھلا خط)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم المقام واجب الاحترام حضرت مولانا سلمان حسنی ندوی صاحب دامت برکاتہم وعمت فیوظہم!

– سابق استاذ دارالعلوم ندوة العلماء لکھنو ومہتمم جامعہ سید احمد شھید کٹولی ملیح آباد وکلیہ ام المومنین حفصہ للبنات کٹولی ملیح آباد -.

امید کہ آن حضرت خیروعافیت سے ہوں گے.!

ناچیز نے اس سے قبل متعدد بار آپ کو مختلف مسائل پر ای میل کیا ہے اور فون پر رابطہ کی کوشش بھی کی ہے مگر افسوس کہ کوئی جواب نہ مل سکا، آج پھر ایک خط ارسال کرنے کی جسارت کر رہا ہے امید کہ توجہ فرمائیں گے!

میں ایک مسلمان ہوں اور بلاواسطہ ندوة العلماء کا طالب علم ہوں نیز آپ کا شاگرد بھی ہوں۔ اس معنی کر اپنے استاذ سے طالب علمانہ سوال کا حق بھی رکھتا ہوں، اسی رشتہ کو ذہن میں رکھ کر کچھ ایسے سوالات آن حضرت کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جنہوں نے میرے ذہن و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اس امید کے ساتھ کہ آن حضرت تسلی بخش جواب دے کر میرے ذہن و دماغ کو مطمئن کریں گے!

سوال سے قبل آن جناب کی علمی جلالت شان، خاندانی نسبت اور آپ کی خدمات کا اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آن جناب کا تعلق نا صرف حسنی خاندان سے ہے بلکہ اس خانوادہ کے علوم و معارف کے امین سمجھے جاتے ہیں، قرآن کریم، تفسیر اور حدیث شریف کے استاذ ہونے کے ساتھ زبان بیان میں اپنی مثال آپ ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو عمدہ تعبیرات سے لیث بڑی صاف ستھری زبان عطاء کی ہے، کامیاب مقرر و دلسوز واعظ سے آپ کی شناخت ہوتی ہے، ایک بڑی جماعت آپ کو اسلامک اسکالر بھی مانتی ہے۔ عالمی سطح پر آپ کے کارنامے اور خدمات کا وسیع ترین باب ہے، وہ آپ ہی تھے جنہوں نے امام حسن البناء کی قائم کردہ اور اس کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرنے والے محمد مرسی کی تنظیم ” اخوان المسلمین ” کو حمایت دی تھی اور یہ حمایت یقیناً صرف اس لئے تھی کہ وہ فلسطین میں ہورہے مظالم اور بیت المقدس کی حفاظت کیلیے کمر بستہ تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے ہندوستان میں بیٹھ کر عالم اسلام کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف بارہا آواز بلند کی، فلسطین کے حق میں آپ نے آواز اٹھائی، بیت المقدس کیلیے بھی آپ ہی کی آواز اٹھی، یہی نہیں بلکہ وہ بھی آپ ہی تھے جنہوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کو ایک لمبا چوڑا خط لکھ کر اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا اور اسکو خلیفةالمسلمین تسلیم کیا تھا؛ گرچہ بعد میں آپ کو رجوع کرنا پڑا. آپ نے اسی ہندوستان سے علامہ یوسف القرضاوی کیلیے بھی صدا بلند کی تھی، الملک سلمان کو مبارکباد پیش کیا تھا غرضیکہ ملک کے باھر اسلام اور اسکے متبعین پر ہو رہے مظالم اور پروپیگنڈوں کا نا صرف مثبت جواب دیا بلکہ دفاع کی حتی المقدور کوشش بھی کی۔

آپ نے غیر ملکی یہودی اور صیہونی میڈیا کا آپریشن بھی کیا ـ یقیناً یہ خدمات قابل تحسین ہیں؛ لیکن افسوس یہ ہے کہ خود اپنے گھر میں ہو رہے مظالم پر آپ کی زبان اب تک خاموش ہے، آپ کے علم میں ہوگا کہ ابھی کچھ دنوں قبل لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے بعنوان (سی اے بی) پاس ہوا جو پھر (سی اے اے) ہوگیا، پورا ملک تسلیم کر رہا ہے کہ یہ قانون جمہوریت اور اسکے آئین کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے بے شمار اداروں اور یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات پرزورانداز میں احتجاج کر رہے ہیں اور اس قانون کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، دارالعلوم دیوبند، جامعہ ندوةالعلماء لکھنو، جامعہ ملیہ اسلامیہ دھلی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دھلی یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی ، انٹگرل یونیورسٹی لکھنو، جادو پور یونیورسٹی، ممبئی یونیورسٹی، بہار، لکھنؤ، بنگلور، مالیگاوں، کیرل، بھٹکل اور حیدرآباد ملک کی ہر یونیورسٹی وشھر کے طلباء و جماعت سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، اور مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں، ان کی یہ آواز ملک کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں میں پہونچ چکی ہے اور سادہ لوح عوام اور دیہاتی بھی دستور کے تحفظ و بقاء کیلئے پابہ رکاب ہو چکے ہیں؛ الحمدللہ یہ تحریک کامیابی کی طرف گامزن بھی ہے ؛ جس کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ مسلم سے زیادہ برادران وطن اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں، ان احتجاجوں میں بلا تفریق مذہب و ملت، مسلم وغیر مسلم، مرد و عورت ، حتی کہ دودھ پلانے والی عورتیں، نوجون و بوڑھے ، اور فلمی دنیا کے اداکار سب شامل ہورہے ہیں، اور میڈیا کے سامنے اپنے غصے کا اظہار کررہے ہیں اور حکومت سے سوالات کررہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس بھیڑ میں ہمارے اپنے ہی ہماری نظروں سے اوجھل ہے، دوسروں کی آوازیں تو سنائی دے رہی ہے لیکن اپنی آواز سننے کے لئے کان ترس رہی ہے، ملت اپنے شخص کو تلاش کررہی ہے، آپ تو ملت کی تعمیر و ترقی اور انکی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی فکر سے یوگی جی سے گلے لگارہے تھے، آج ملت کا وجود خطرہ میں ہے، آپ تو ملک میں امن و سلامتی کی غرض سے ڈبل شری کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہے تھے آج پورا ملک جل رہا ہے،

ہندوستان میں بیٹھ کر فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آواز کو آج ملت اسلامیہ اپنے ہی گھر میں ڈھونڈ رہی ہے!

ملت یہ کہتے ہوئے چلارہی کہ

ملک کے باہر اخوان المسلمین کے لیے جو آواز اٹھی تھی، کیا وہ ہمارے لیے بھی اٹھے گی؟

ملت پوچھ رہی ہے: ملک کے باہر تنظیموں کی حمایت میں اٹھنے والی آواز ملک کے اندر برسرعام ظلم کرنے والی تنظیموں جیسے ” آر ایس ایس ” کے خلاف آواز کب بلند ہوگی؟

ملک کے باہر علامہ یوسف القرضاوی کےلیے جو آواز اٹھی تھی کیاوہ آواز ندوہ، جامعہ، علی گڑھ اور ملک کے ان تمام طلبہ ومصنفین کیلیے اٹھے گی جو اس بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گرفتار ہوئے؟

ملک کے باہرجس طرح شاہ سلمان کو مبارکبادی کا خط بھیجا گیا تھا؛ کیا کوئی خط ہندوستان کے مودی، یوگی و شاہ کو بھی بھیجا گیا یا بھیجا جائے گا؟

آپ نے ملک کے باہر فلسطین و برما میں مردوں عورتوں اور بچوں کے خلاف ہورہے ظلم کے خلاف آواز بلند کی کیا وہ آواز ملک کے اندر لکھنو، کانپور، رام پور، بلند شھر اور آسام میں ہورہے ظلم و ظالم پولیس کی بربریت کے خلاف بلند ہوگی؟

اخوانیوں کے قتل کے خلاف جو آپ کا غصہ تھا کیا وہ غصہ صوبہ اتر پدیش کے ان اٹھارہ اور ملک بھر کے پچیس شھداء، سات سو پچاس جیل بھیجے گیے اور پانچ ہزار چارسو مقید لوگوں کےلیے بھی ہے؟

ملک کے باہر علماء و صلحاء و مفکرین کو جیل بھیجے جانے پر سعودی حکومت اور السیسی کے تئیں آپ کی جو ناراضگی تھی کیا وہ ناراضگی ان طلبہ ندوہ، جامعہ، علی گڑھ اور مفکرین ومصنفین ملک کی گرفتاری پر بھی ہے جن کو جبرا مارتے پیٹتے ہویے لے جایا گیا؟

صیہونی میڈیا کے دوغلے پن کا جس قینچی سے آپ نے آپریشن کیا تھا کیا وہی قینچی آپ ہندوستانی ” مودیا ” پر بھی چلائیں گے؟

تعلیم کی فکر کو لیکر جس جذبہ سے آپ نے اسلام دشمن وزیر اعلی اترپردیش سے ملاقات کی تھی کیا اسی جذبہ سے مسلم عوام پر ہورہے ظلم کے خلاف میمورنڈم کے ساتھ صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلی سے ملاقات کریں گے؟

ملک بھر میں آپ کے منعقدہ پروگراموں میں گرمی یا سردی کی پرواہ کیے بغیر آپ کی باتوں کو بے تابی سے سننے والی قوم آج حکومت کے ظلم سے جوجھ رہی یے، گھروں میں گھس کر سامان کی توڑ پھوڑ کی جارہی ہے ماؤں بھنوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے کیاآپ اپنےان محبین کیلیے گھر سے باہر نکلیں گے؟

بات بات پرلائیو کانفرنس سے اپنی رائے کا اظہار کیا جاتاتھا آج پورا ملک روڈ پر ہے کیا آپ اس سلسلہ میں اپنی کوئی رایے ظاہر کریں گے؟

آپ کے جامعہ حفصہ سے فارغہ پورے صوبہ سے آنے والی آپ کی بچیاں آپ کو پکار رہی ہیں کہ ہمارے باپ دادا و بھائیوں کو پلس کی گولیوں نے شہید کردیا؛کیا ہمارے روحانی والد کو بھی سانپ سونگھ چکا ہے؟

آپ کہاں ہیں؟ کیا کررہے ہیں؟

یوپی سے مسلسل دہشت زدہ لوگ درخواست کر رہے ہیں کہ حالات بہت خراب ہیں’

پولیس نے کون سا ظلم ہے جو نہیں کیا۔ اینٹ پتھر چلانے سے لے کر گولی چلانے تک’ اندھا دھند لاٹھیاں برسانے سے لے کر گاڑیوں میں آگ لگانے تک ۔۔۔ دوکانوں اور مکانوں کے باہر لگے CCTV کیمرے تک توڑ ڈالے ۔۔۔ عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ مچائی ۔۔۔ گھروں میں گھس کر بوڑھوں اور نوجوان بچیوں تک پر ڈنڈے برسائے ۔۔۔ لوٹ پاٹ مچائی ۔۔۔ گالیاں دیں ۔۔۔ فرقہ واریت کے زہر میں بجھے ہوئے نعرے تک لگائے؛ ان کی مدد کریں کیا آپ کی شخصیت، زبان، قلم، للکار، پہنچ اور تعلقات استعمال میں آئیں گے ؟ اس کا کوئی فائدہ ہوگا؟ اخیر میں ادباً عرض یہ ہے کہ ملک میں ہورہے مظالم کے خلاف اللہ کے واسطہ باہر نکلیے، یہ وقت سیاسی اور سماجی قائدین کے اشتراک عمل کا متقاضی ہے ۔۔۔ خدا کے لئے ایک ساتھ جمع ہوکر کوئی لایحہ عمل بنائیے ۔۔۔ یوپی کے خود سر اور منتقم مزاج وزیر اعلی کے خلاف وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ سے شکایت کریں ۔۔۔ قومی میڈیا کے سامنے آکر بتائیں اور اپنی ایک مانگ رکھیں۔

ایسے حالات میں آپ کی خاموشی تکلیف دہ ہے، افسوس کن ہے، بہت سارے سوال پیدا کرتی ہے،آپ تو لکھنو سے قریب رہتے ہیں کیا آپ کے پاس اتناوقت نھیں ہے کہ دوبول بول سکیں؟ حکومت سے اچھے تعلقات اور پھنچ ہونے کے باوجود خاموشی کا کیا مطلب ہے؟ آپ کی تھوڑی سی مشقت قوم کی مشکلات کی آسانی کا سبب بن سکتی ہے۔

چنانچہ عاجزانہ درخواست ہے کہ کہ اٹھیے، باہر نکلیے، آواز اٹھاییے اور حکومت سے ملکر اپنی سیاسی و سماجی بصیرت کے ساتھ امت کیلیے کچھ کریے، یہ ملت آپ کی ممنون و مشکور ہوگی۔

 فقط والسلام

مرسل. محمد سلمان سیتاپوری

infotosn@gmail.com