چرچ کو بم سے تباہ کرنے کے الزام میں آر ایس ایس کے 3 کارندےگرفتار








28 دسمبر کو ’جے شری رام‘کا نعرہ لگاتے ہوئے مغربی بنگال میں ایک چرچ پر 8 افراد کے گروپ نے حملہ کر دیا تھا۔ ان سب کے خلاف پولس میں شکایت درج کرائی گئی تھی جن میں سے 3 ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دو دن قبل (28 دسمبر، ہفتہ) مشرقی مدنا پور واقع ایک چرچ پر ہوئے حملے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ہفتہ کے روز 8 افراد پر مشتمل ایک گروپ نے جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے چرچ پر بم پھینکے تھے۔ اس بم اندازی کی وجہ سے چر چ تباہ ہوگیا تھا۔ یہ واقعہ کولکاتا سے 120کلو میٹر دوری پر واقع بھگوان پور میں پیش آیا تھا۔ ایس پی آلوک گھوش کا کہنا ہے کہ جن 8لوگوں کے خلاف پولس میں شکایت درج کرائی گئی ہے ان سب کا تعلق آر ایس ایس اور بی جے پی سے ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اڑیسہ، دہلی اور مدھیہ پردیش میں بھی چرچ پر حملے ہوئے تھے۔تاہم بنگال میں پہلی مرتبہ چرچ پر حملے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ہفتہ کے روز دوپہر دو بجے کے قریب ہفتہ واری پروگرام میں شرکت کیلئے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے جب اچانک چرچ پر حملہ کر دیا گیا۔ حملے کی وجہ سے چرچ کی کرسی، ٹیبل اور کھڑکی ٹوٹ کر تباہ ہوگئی۔

اس درمیان چرچ سے منسلک عہدیداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ جن شرارتی عناصر نے چرچ میں توڑ پھوڑ کی ہے ان کا تعلق بی جے پی سے تھا۔ حالانکہ پارٹی نے اس طرح کے الزامات کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ ترنمول کانگریس کی سازش ہے کیونکہ وہ بی جے پی کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ ضلع بی جے پی لیڈر کا کہنا ہے کہ چرچ پر حملے میں کوئی بھی آر ایس ایس اور بی جے پی ورکر ملوث نہیں ہے بلکہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس نے بی جے پی کی شبیہ خراب کرنے کے لیے خود چرچ پر حملہ کیا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *