نئی دہلی: (ملت ٹائمز)31دسمبر 2019 اور یکم جنوری 2020 کی رات میں پوری دنیا سال نو کا جشن منارہی تھی۔ مختلف طرح کی پارٹیاں منعقد ہورہی تھیں لیکن اس بیچ دہلی کے اوکھلا میں ہزاروں خواتین ظلم اور بربریت کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی تھیں ،ہندوستان کے دستور ، آئین اور وقار کی حفاظت کیلئے جنگ لڑرہی تھیں ۔ دہلی اور نوئیڈا کو جوڑنے والی سڑک کالندی کنج روڈ پر بیٹھ کر ہندوستان کے آئین کے حفاظت اور بھارت بچاﺅ کی تحریک میں پیش پیش تھیں اور مسلسل اٹھارہویں دن بھی وہ ظلم کے خلاف لڑرہی تھیں۔
بات اوکھلا کے شاہین باغ کی ہے جہاں خواتین گذشتہ اٹھارہ دنوں سے متنازع شہریت ایکٹ ، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کررہی ہیں اور سرکار سے مطالبہ کررہی ہیں کہ وہاں تینوں چیزوں کو واپس لے کیوں کہ یہ آئین دستور اور ملک کے سیکولرزم کے خلاف ہے ۔
نئے سال کی رات میں ہزاروں کی تعداد میں مردو خواتین نے یہاں شرکت کی ۔ ملت ٹائمز کا اندازہ ہے کم وبیش پچیس ہزارسے زیادہ یہاں سڑکوں پر لوگ موجود تھے ۔ اس موقع پر یوگیندر یادو ،ایڈوکیٹ محمود پراچہ ذیشان ایوبی سمیت کئی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی اور مظاہرین کو حوصلہ دیا ۔

Leave a Reply