فلسطینیوں کے ساتھ 1917 سے ناانصافیاں جاری، محمود عباس کا اقوام متحدہ میں بیان

26

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے مطالبہ کیا کہ امریکہ میں رواں سال کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد آئندہ سال کے اوائل میں قضیہ فلسطین کے حل کے لیے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ 1917 سے نا انصافیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ میں رواں سال کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد آئندہ سال کے اوائل میں قضیہ فلسطین کے حل کے لیے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس سے‌ خطاب میں صدر محمود عباس نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت حقیقی امن عمل میں شمولیت کے لیے عالمی سطح پر کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے۔ تاہم یہ کانفرنس امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد منعقد کی جائے۔
محمود عباس نے کہا کہ عالمی کانفرنس کے انعقاد کے مطالبے کا مقصد ارض فلسطین پر قابض اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کا خاتمہ اور فلسطینی قوم کو اس کی آزادی اور خود مختاری کی منزل تک پہنچانا ہے۔
انہوں‌ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ امن فارمولہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی ڈیل کو نہ صرف ہم نے بلکہ پوری دنیا نے مسترد کردیا ہے۔ یہ فارمولہ بین الاقوامی آئینی قرار دادوں کے خلاف ہے۔
محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حق خود ارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کی مدد سے اپنے قبضہ کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے جسے فلسطینیوں نے مسترد کیا ہے اور پوری دنیا ہمارے نصب العین کی حمایت کر رہی ہے، ہم اسرائیل – فلسطین تنازعہ کا جامع اور پائیدار حل چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی فلسطینی کاز کے لئے وقف کیے رکھی ہے ہم اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہیں مگر اسرائیل ریاستی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے جو فلسطینیوں کا قتل عام، املاک کو مسمار، مذہبی مقامات پر حملے، یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔