مدھیہ پردیش کے ایک قصبہ میں شدت پسندوں کا مسلمانوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ ۔ متعدد زخمی








شاجا پور: (ملت ٹائمز ڈیسک) کرکٹ کھیلتے ہوئے کہا سنی ہوئی اور پھریہ ہندومسلمان کے درمیان لڑائی کا سبب بن گیا ۔اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں نے غنڈہ گردی شروع کردی ۔ بڑی تعداد میں جمع ہوکر مسلمانوں کی دکانوں کو لوٹ لیا ۔ ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈا لیکر سڑکوں پر نکل پڑے اس انداز میں جیسے وہ چین سے قبضہ کی ہوئی بستیوں کو آزادکرانے جارہے ہوں ۔ راستے میں جو بھی مسلمان نظر آیااس پر حملہ کردیا اور پولس تماشا دیکھتی رہی ۔
یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے شاجا پور ضلع کا ہے ۔ یہاں ایک قصبہ ہے اکوڑیا ہے ۔ 9فروری کو کچھ لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے ۔ان میں 18سال کا ایک مسلمان بھی تھا ۔کھیل کے درمیان لڑائی ہو ئی اور لگا کہ بات ختم ہوگئی لیکن آگے جو کچھ ہوا اس بارے میں وہاں کے لوگوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا ۔
9فروری2021 ۔ منگل کا دن ۔ رات کے آٹھ بجے ۔ دو سو جوان ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈا لیکر اکوڑیا قصبہ میں آگئے ۔ راستے میں جو مسلمان ملا اسے بری طرح مارا ۔ مسلمانوں کی دکانوں کو لوٹ لیا ۔مقامی لوگوں کی جانکاری کے مطابق دس کانوں کو شدت پسندوں نے لوٹ لیا ۔ 20 زیادہ زخمی بھی ہوئے ہیں ۔ جن میں دو لوگ شدید زخمی ہیں اور ہسپتال میں ان کا علاج چل رہاہے ۔ بقیہ لوگوں کو معمولی چوٹ آئی ہے۔ کچھ دیر میں پولس بھی وہاں پہونچ گئی ۔ اس نے روکنے کی کوشش بھی کی لیکن دنگائیوں نے پولس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ اس کی بات نہیں سنی اور دکانوں کو لوٹنا جاری رکھااور پھر ہمیشہ کی طرح پولس تماشا دیکھتی رہ گئی ۔ مقامی لوگوں نے فون پر بتایا کہ پولس نے کوشش کی روکنے کی لیکن وہ رکے نہیں ۔
اس دنگا اور غنڈ ی گردی کی کچھ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے ۔ ان دنگائیوں اور غنڈوں نے ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈا کی ٹک ٹاک ٹائپ ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر بھی اپلوڈ کیا ہے اور اس میں جو سونگ ہے وہ سننے سے تعلق رکھتاہے ۔موت سے کیوں ڈرنا ہے ۔ آسمان میں جاکر دھاڑ دو ۔
شاجا پور کے ایس پی نے فون پر ملت ٹائمز سات کرتے ہوئے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے کہ کرکٹ کھیلنے کے دوران لڑائی ہوئی اور پھر دوگروپوں کے درمیان فرقہ وارانہ لڑائی شروع ہوگئی ۔ ایس پی کا کہناہے کہ صرف دو لوگ زخمی ہوئے ہیں دونوں طرف سے ۔ آروپیوں کو گرفتار بھی کیا جارہاہے ۔حالات ابھی قابو میں ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ یکطرفہ طور پر اقلیتی فرقہ پر حملہ ہوا ۔ حملہ آور بڑی تعداد میں تھے اور کئے گاﺅں سے اکٹھاہوئے تھے ۔ جے شری رام اور کمیونل نعرے لگارہے تھے ۔ یہ سب بجرنگ دل اور اس جیسی شدت پسندوں تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ۔اور پولس نے الٹے دس سے زیادہ مسلم نوجوانوں کو ہی گرفتار کرلیاہے ۔ جبکہ حملہ اور اکثریتی فرقہ کے صرف دو تین جوانوں کو گرفتار کیاگیاہے ۔
اکوڑیا مدھیہ پردیش کے شاجا پور ضلع میں ایک قصبہ ہے ۔ اندور اور بھوپال کے بیچ میں ہے یہ ۔ یہاں تقریبا 7000 کی آبادی ہے ۔ مسلمانوں کی تعداد یہاں بہت کم ہے ۔ لوگوں کا کہناہے کہ یہاں مسلمان صرف 300 ہیں ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *