مفتی اسعد میر صاحب دارالعلوم رامپورہ سورت کا جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک پہنچنے پر شاندار استقبال

مفتی اسعد میر صاحب دارالعلوم رامپورہ سورت کا جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک پہنچنے پر شاندار استقبال

وہ دن دور نہیں کہ آج بھی جامعہ عائشہ سے ایسی مائیں نکلیں گی جن کے بطن سے ایسے بچے پیدا ہوں گے کوئی قاسم نانوتوی ہوگا، کوئی شیخ الہند، کوئی شیخ الاسلام، کوئی حکیم الامت ہوگا
(ملت ٹائمز-عامرظفر قاسمی)
بسفی-مدھوبنی: پروگرام کا باقاعدہ آغاز فاطمہ بنت محمد توقیر کی قران مجیدکی تلاوت سے کیا گیا۔فاطمہ نے نہایت خوب صورت لب و لہجے میں قران مجید کی تلاوت پیش کی۔
فاطمہ ناز بنت مولانا محمد نسیم احمد قاسمی نے نعت نبی کا نذرانہ پیش کیا
حمدوثناء اور نعت رسول مقبول کے بعد اسمائے حسنیٰ دلکش انداز میں پڑھے گئے۔ جامعہ کی چند طالبات نے بہت اچھے انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا
آمنہ فردوس بنت مفتی محمد حسنین قاسمی، روحی فاطمہ، ارم فاطمہ ،صدف انجم، عالیہ پروین، مختلف درجات کی طالبہ نے تقریر پیش کیا،
اس کے بعد جامعہ کی چند طالبات نے کلمہ مع ترجمہ انگریزی بھی پیش کیا، اردو تقریر کے علاوہ ہندی اور انگریزی میں بھی طالبات نے تقریر پیش کی
پھر طالبات نےنہایت خوبصورت انداز میں استقبالیہ (welcome) ترانہ پیش کیا،
کلمات تشکر، جامعہ کا تعارف
تعلیم نسواں کا مشہور اور عظیم مرکزی ادارہ جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک، بسفی، ضلع مدھوبنی ،بہار
صرف لڑکیوں کے لئے دینی عصری. تعلیم وتربیت کا ایک عظیم مرکزی ادارہ ہے
جہاں قرآن پاک. دینیات. فارسی عربی تادورہ حدیث (فضیلت) کے علاوہ. علوم عصریہ. ہندی. انگریزی. حساب. سائنس. وغیرہ کی عمدہ انداز میں تعلیم دی جاتی ہے، اس کے علاوہ سلائی سینٹر بھی قائم ہے، جس میں بچیاں علم کے ساتھ ساتھ ہنر سے بھی آراستہ ہورہی ہے ۔
جامعہ عائشہ صدیقہ کا تعمیری منصوبہ مختلف قسم کے علوم وفنون اور اصلاحی دعوتی صنعت وحرفت کے کاموں کو انجام دینے کے پیش نظر بہت وسیع اور طویل ہے
جامعہ عائشہ صدیقہ کے بانی وناظم مفتی محمد حسنین قاسمی نے پیش کیا ۔
مفتی محمد اسعد میر صاحب دارالعلوم رامپورہ سورت نے اپنے بیان میں مفتی صاحب کی کارکردگی اور انکی خدمات کا اعتراف کیا۔
مہمان مکرم نے کہا کہ مفتی صاحب پوری محنت ولگن کے ساتھ کام کو انجام دے رہے ہیں، اور تمام اساتذہ کرام کا انکو تعاون حاصل ہے، اور آپ حضرات کی کوششوں سے یہ کام انجام پارہا ہے ۔
مہمان معزز نے جامعہ عائشہ کے تمام شعبوں جات کا جائزہ لیا اور دیکھا، اور خوشی کا اظہار کیا، اور سارے کام نظم ونسق کے ساتھ انجام دیا جارہا ہے، اور یہاں کے ذمے داران نہایت مخلص اور جفا کش ہیں، پوری محنت اور لگن کے ساتھ کام کو آگے بڑھا رہے ہیں، مطبخ کا جائزہ لیا، اور مسجد کا معائنہ کیا، مدرسے کی زمین اور اس پر جو تعمیری منصوبہ ہے، ان تمام کاموں کا مہمان مکرم نے تفصیلی جائزہ لیا، اور فرحت ومسرت کا اظہار کیا، اور انہوں نے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ جامعہ عائشہ صدیقہ اس علاقے کا مرکزی ادارہ ہے، جہاں شروع سے ہی تعلیم پر توجہ دی گئی ہے، مہمان معزز نے کہا کہ میری طرف سے جو ممکن ہوسکے گا ان شاءاللہ ادارے کا تعاون کرتا رہوں گا، اور ضرورت ہے اس بات کی کہ اس ادارے کو آگے بڑھایا جائے ۔
جامعہ عائشہ سے ایسی ہی مائیں نکلیں گی جن کے بطن سے ایسے بچے پیدا ہونگے کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی ہوگا، کوئی قاسم نانوتوی ہوگا، کوئی شیخ الاسلام ہوگا، کوئی شیخ الہند ہوگا، کوئی شیخ الاسلام ہوگا، کوئی حکیم الامت ہوگا ،کوئی حکیم الاسلام ہوگا، کوئی نظام الدین اولیاء ہوگا، کوئی قطب الدین بختیار کاکی ہوگا، کوئی خطیب الاسلام ہوگا، اور انہوں نے کہا کہ ان شاءاللہ یہ ادارہ بہت جلد تاریخی ادارہ ہوگا، اور بہت خوشی کی بات ہے کہ شروع سے ہی اس دارے میں اہم شخصیات کی تشریف آوری ہوتی رہی ہے یہ بھی ادارے کی مقبولیت کی علامت ہے، اور اکابرین نے اس ادارے کے کام پر اعتماد کیا ہے اور ناچیز کو بھی دیکھ کر بڑی فرحت ہوئی، اور یہاں جو کام ہورہا ہے ہے اخلاص وللہیت کے ساتھ ہورہا ہے ۔
جن کے کرادر سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سےپتھر بھی پگھل سکتے ہیں
اس کے بعد مہمان مکرم نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکمیل حدیث پر اللہ کی شکر گزاری کے بعد اساتذہ معلمات اور طالبات کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کو مبارکباد پیش کی۔ طالبات کی عملی تربیت پر خوبصورت اور مفصل بیان فرمایا۔ مولانا محمد نسیم احمد قاسمی صدر جامعہ عائشہ صدیقہ اپنے بیان میں کہا کہ
عالم کی فضیلت اور علم حاصل کرنے کی اہمیت واضح کی۔ ان کی تقریر جامع اور پراثر تھی جس کے اثرات لوگوں کے چہروں سے نمایاں تھے
نظامت کے فرائض اقراء شاکر طالبہ دورہ حدیث شریف نے انجام دیا، شرکت کرنے والوں میں مولانا محمد نسیم احمد قاسمی، قاری ارشاد صاحب، مولانا ارشاد قاسمی، مولانا رضاؤالدین قاسمی ،مولانا نجیب اللہ قاسمی، مولانا عبدالعزیز قاسمی، قاری حفظ الرحمن ،مولانا امداد اللہ ، حافظ نقی،قاری تقی احمد، ماشٹر صلاح الدین، قاری ممتاز احمد جامعی،جملہ اساتذہ و معلمات وطالبات، اور علاقے کی معزز شخصیات نے شرکت کی ۔
مختصر دعا کے ساتھ اس پروگرام کا مکمل اختتام ہوا۔
اللہ تعالی جامعہ کے تمام معلمین، منتظمین اور معاونین کی کاوشوں کو قبول ومنظور فرمائے۔ اور اس ادارے کو قیامت تک زندہ و پائندہ اور شاد و آباد رکھے
آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *