سیتامڑھی : (معراج عالم بیورو رپورٹ) سیتامڑھی کلکٹریٹ کانفرنس ہال میں سیتامڑھی ضلع اوقاف کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت سیتامڑھی ضلع اوقاف کمیٹی کے صدر جناب ڈاکٹر الحاج محمد ساجد علی خان نے کی ۔
میٹنگ میں سیتامڑھی ضلع کے کئی بلاکوں سے لوگوں نے شرکت کی اور اپنے اپنے خیالات پیش کئے شرکت کرنے والوں میں کمیٹی کے سکریٹری جناب محمد جلال الدین خان اقلیتی فلاح و بہبود کے ضلع آفیسر نیرنجن کمار ،مولانا محمد پھول حسن ، مولانا محمد اکرام الحق قاسمی بوکھرا ، ‘محمد طالب حسین آزاد ابراہیم پوری رونی سیدپور ‘ پروفیسر محمد نقیب اختر ‘ مولانا محمد یونس قاسمی جعفر پور، مولانا محمد عظیم الدین قاسمی جعفر پور بیلسنڈ ،محمد صابر حسین روپولی بیلسنڈ ، راشد فہمی پریہار ، محمد عمر سیف اللہ پریہار، مولانا مفتی احمد قاسمی ، محمد اشتیاق عالم تسلیمی ریگا ، محمد ضمیر الحق ،مولانا محمد طیب عالم مرغیا چک ،محمد قمر اختر محمد رحمت اللہ خان سیتامڑھی ضلع کے بی جے پی ایم ایل اے ڈاکٹر میتھلیش کمار مولانا غلام جیلانی محمد مرتضیٰ محمد اسرار الحق پپو پوپری خالد ہاشمی محمد ارمان علی محمد زبیر بیلسنڈ سمیت کئی اہم لوگوں کا نام قابل ذکر ہے میٹنگ میں آٹھ ایجنڈوں پر غور و خوض کیا گیا جس میں اسپیشل طور پر ہورے زمین کے سروے کے پیش نظر وقف کی زمین مسجد کی زمین اور قبرستان کی زمین کے کاغذات حاصل کرنا سیتامڑھی ضلع میں مسلم ہائ اسکول کاقیام عمل میں لانا شامل ہے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سیتامڑھی شہری حلقہ کے ایم ایل اے ڈاکٹر میتھلیش کمار نے کہا کہ آپ تمام لوگ پوری طرح مطمئن رہیں ہم آپ کے ترقیاتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ۔
اس موقع سے صدر جناب الحاج محمد ساجد علی خان نے اپنی جانب سے سیتامڑھی ضلع کے اقلیتی فلاح و بہبود کے آفیسر نیرنجن کمار کو گفٹ دے کر اعزاز بخشا ساتھ ہی ایم ایل اے ڈاکٹر متھلیش کمار کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے اعزاز بخشا ڈاکٹر محمد ساجد علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ تمام لوگ آج ہی سے اپنی اپنی ذمہ داریوں میں لگ جائیں راشد فہمی پریہار نے کہا کہ اس بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے لگ جائیں ایم ٹی حسین آزاد نے کہا کہ رونی سیدپور بلاک کے کئی گاؤں میں وقف کی کافی تعداد میں زمین ہے جہاں پر مسلم ہائی اسکول آسانی کے ساتھ بن سکتا ہے۔
سبھی شرکاء اس بات متفق تھے کہ ضلع میں جلد از جلد اردو ہائی اسکول سمیت دیگر اقلیتی تعلیمی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ مسلمانوں میں تعلیمی رجحانات میں اضافہ ہو ۔

Leave a Reply