حیدرآباد: (پریس ریلیز) امیرشریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ایسا حادثہ ہے؛ جس کی تلافی بظاہر بہت دشوار ہے، اللہ تعالی نے ان کو گہرے علم ، وسیع مطالعہ، خوبصورت قلم، شائستہ زبان کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیت اور اس سے بڑھکر قائدانہ جرأت و ہمت سے نوازا تھا، وہ حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ کے صرف نسبی ہی وارث نہیں تھے؛ بلکہ غیر معمولی جرأت اور حسن تدبر میں بھی ان کے سچے اور پکے جانشین تھے، انہوں نے بہت کامیابی کے ساتھ اپنے دادا حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے لگائے ہوئے پودے ’جامعہ رحمانی مونگیر‘ کو ایک سایہ دار تناور درخت بنادیا، تزکیہ و احسان کی نسبت سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے حلقہ کو وسعت دی، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تاسیس کے وقت سے اس میں شریک تھے، حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کی وفات کے بعد اس کے سکریٹری منتخب ہوئے، اور حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب کی وفات کے بعد بہ اتفاق رائے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ان کا انتخاب عمل میں آیا، ان کایہ دور ہندوستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے بہت ہی شورش اور آزمائش کا دور تھا، انہوں نے تدبر، حوصلہ مندی اور جرأت کے ساتھ ان حالات کا سامنا کیااور ملت کے سفینہ کی ناخدائی کرتے رہے۔انہوں نے قضاءکے نظام کو ملک کے چپہ چپہ میں پھیلایا، اصلاح معاشرہ کی کوششوں کو ایک تحریک بنادیا، قانون شریعت کی تفہیم کی کوششوں کو فروغ دیا اور ہر کام میں اپنے رفقاءکو ساتھ رکھا، وہ امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ساتویں امیر شریعت منتخب ہوئے اور مختصر وقت میں اس کے تمام شعبوں کو منظم اور منضبط کرنے کی کامیاب جدوجہد فرمائی، عصری تعلیم کے میدان میں رحمانی 30 کے ذریعہ انہوں نے جو خدمت انجام دی ہے؛ وہ ایک بڑا اور مثالی کارنامہ ہے۔
یقیناً ان کی وفات پوری ملت اسلامیہ کے لئے نہایت صدمہ انگیز واقعہ ہے، اس حقیر کو ان سے تلمذ کا شرف بھی حاصل تھا، اس لئے یہ میرے حق میں ذاتی نقصان بھی ہے، دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالی بال بال مغفرت فرمائے ، درجات بلند کرے، امت کو ان کے بدل سے نوازے اور جن کاموں کو انہوں نے شروع کیا تھا، وہ سارے کام جاری و ساری رہیں۔

Leave a Reply