پٹنہ سے ملحق مکامہ کے سینکڑوں لوگ دیگر ریاستوں میں رہ کر اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے کئی افراد بہار واپس آ گئے ہیں اور اب انھیں روزگار کی فکر ستا رہی ہے۔
کورونا کی دوسری لہر میں ملک کے تقریباً سبھی حصوں میں متاثرین کی تعداد بڑھنے کے بعد بہار کے پردیسی اب واپس اپنی ریاست لوٹنے لگے ہیں۔ انھیں اپنی ریاست لوٹنے کے لیے ریلوے نے کئی خصوصی ٹرینیں بھی چلائی ہیں۔ اب ریاست واپس آنے والے مہاجر مزدوروں کو روزگار کی فکر ستانے لگی ہے۔ کوئی کسانی کی بات کر رہا ہے تو کوئی مزدوری کرنے کی بات کر رہا ہے۔
بہار کی راجدھانی پٹنہ سے ملحق مکامہ کے سینکڑوں لوگ دیگر ریاستوں میں رہ کر اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ان میں سے کئی لوگ واپس اپنے گاؤں آ گئے ہیں۔ گھوسواری گاؤں کے رہنے والے آنند کمار کہتے ہیں کہ اس گاؤں کے درجنوں لوگ باہر کمانے گئے تھے اور اب لاک ڈاؤن کے اندیشہ کے بعد واپس گھر لوٹ آئے ہیں، یا لوٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال جب لاک ڈاؤن لگا تھا تب بھی لوگوں کی گھر واپسی ہوئی تھی، لیکن پھر ماحول بہتر ہونے پر سبھی روزگار کی تلاش میں بہار سے واپس چلے گئے تھے۔ ایک بار پھر لاک ڈاؤن جیسے حالات پیدا ہونے پر لوگوں کی گھر واپسی شروع ہو گئی ہے۔
گھوسواری کے قریب ایک دوسرے گاؤں کے باشندہ صوبیدار رائے ممبئی میں رہ کر سیکورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے تھے۔ پوری فیملی کو کورونا ہو گیا، جس میں ان کی بیوی کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد وہ ممبئی کو چھوڑ کر واپس اپنے گاؤں لوٹ آئے۔ انھوں نے کہا کہ بڑے شہر میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ بڑی مصیبت سے واپس لوٹے ہیں۔ اب جو بھی ہو، باہر نہیں جائیں گے۔ یہیں کھیتوں میں کام کر لیں گے۔
پیشے سے فیکٹری مزدور رام صورت بھی پونے سے بہار لوٹے ہیں۔ گزشتہ سال کورونا میں حالات بگڑنے پر وہ گھر لوٹ آئے تھے۔ حالات کچھ بہتر ہوئے تو فیکٹری کے مالک نے واپس کام پر بلا لیا۔ لیکن اب پھر سبھی گھر لوٹ آئے ہیں۔ بہار میں فیملی ہے، کچھ دن یہاں رہیں گے اور جب حالات بہتر ہوئے تو واپس کام پر چلے جائیں گے۔ انھیں سکون ہے کہ اپنی ریاست واپس آ گئے ہیں۔ حالانکہ ان سے جب پوچھا گیا کہ روزگار کیسے ملے گا، تب وہ کہتے ہیں کہ کچھ دن تو ایسے ہی نکل جائے گا، لیکن طویل مدت تک ایسی حالت بنی رہی تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف پورنیہ کے چنکا گاؤں کے رہنے والے رام نندن تو اب باہر جانا ہی نہیں چاہ رہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال واپس آئے اور اب کھیتی کر رہے ہیں۔ باہر جانے کا کیا فائدہ ہے۔ وہ دیگر لوگوں کو بھی صلاح دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کام کی یہیں تلاش کی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت بھی لوگوں کو کام دینے کی سمت میں کام کر رہی ہے جو اچھی بات ہے۔

Leave a Reply