مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر جارحانہ حملہ، صہیونی دہشت گردی کی بدترین مثال : جمعیۃ علماء ہند

6

نئی دہلی: (پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند نے جمعہ کی شب اسرائیلی ظالم اور دہشت گرد فوج کے ذریعہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں نمازیوں پر اندھا دھند گرینیڈ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے میں دو سو سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثر کی آنکھیں، چہرے اور سر وں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے رمضان المبارک کی مقدس شب میں عبادت گزاروں پر حملے کو ہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسجد اقصی میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ بین الاقوامی معاہدے اور مسلمانوں کے جذبات کی تذلیل ہے، اس پر عالمی برادری کی خاموشی شرمناک ہے۔
مولانا مدنی نے اس کے علاوہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں سے ان کے مکانات خالی کروا کر وہاں اسرائیلی سیادت قائم کرنے کے اقدامات کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے مشرقی پروشلم خالص فلسطینیوں کے لیے ہے، اس میں کسی بھی طرح کی مداخلت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔ اس طرح کے اسرائیلی اقدامات سے خطے میں قیام امن کی کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
مولانا مدنی نے اقوام متحدہ، یوروپین یونین، ورلڈ مسلم لیگ، حکومت ہند اور تمام انصاف بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ اس جارحانہ دہشت گردی کے خلاف پختہ قدم اٹھائیں، نیز اسرائیلی افواج کو بلاتاخیر مسجد اقصی کے حدود سے باہر کیا جائے اور مشرقی یروشلم میں اس کی مداخلت کو روکا جائے۔