جب تک اسرائلی قبضہ نہیں ہٹتا، امن قائم نہیں ہوگا : فلسطینی صدر محمود عباس

5

میڈیا رپورٹوں کے مطابق صدر محمود عباس نے کہا کہ جب تک اسرائیلی قبضہ نہیں ہٹ جاتا، امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو لگاتار نشانہ بنائے جانے کے درمیان امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر گفتگو کی۔ جو بائیڈن نے اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے پر زور دیا ہے اور اس دیرینہ تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
صدر بائیڈن نے ہفتہ کے روز فلسطینی صدرمحمود عباس سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور یہ ان کا جنوری میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد فلسطینی صدر سے یہ پہلا رابطہ تھا۔ انھوں نے غزہ پر اسرائیلی فوج کی تباہ کن بمباری اور اسرائیلی علاقوں پر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے راکٹ حملوں کے تناظرمیں تبادلہ خیال کیا ہے۔
ادھر، فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر سے اسرائیل کی طرف سے کیے جا رہے حملوں کے خلاف اقدام اٹھانے کی اپیل کی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق صدر محمود عباس نے کہا کہ جب تک اسرائیلی قبضہ نہیں ہٹ جاتا، امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔
فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق ’’ جو بائیڈن نے صدر محمود عباس کو بتایا ہے کہ امریکا خطے میں تشدد میں کمی کے لیے متعلقہ فریقوں سے بات چیت کر رہا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’امریکا مشرقی القدس (یروشلیم) کے علاقے شیخ جرّاح سے فلسطینیوں کی (جبری) بے دخلی کا مخالف ہے۔‘‘
گفتگو کے دوران محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام امن چاہتے ہیں۔ ایسے میں وہ اس مسئلہ پر بین الاقوامی ثالثی کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ وہیں، امریکی صدر نے بھی امن قائم کرنے اور مغربی علاقہ میں قیام امن پر زور دیا۔
خیال رہے کہ اسرائیل 10 مئی سے ہی غزہ کی پٹی پر بمباری کر رہا ہے جبکہ فلسطین کی جانب سے حماس ان حملوں کا جواب دے رہی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج حماس کے ٹھکانوں کے علاوہ عام لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اب اس نے اپنی فوج کو بھی میدان میں اتار دیا ہے۔