یوم جمعہ: حماس کا مسجد اقصیٰ مارچ آج

9

غزہ میں بمباری جاری، شہداء کی تعداد ۲۵۶ اسرائیلی ہوائی اڈوں پر جوابی حملہ، سلامتی کونسل کے اجلاس کو ویٹو کرنے پر چین امریکہ پر برہم 

بیت المقدس: غزہ سے موصولہ خبروں کے مطابق غاصب صیہونی حکومت نے اس شہر پر جارحیت کے گیارہویں روز، شمالی اور وسطی علاقوں نیز خان یونس میں السطر الغربی کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک فلسطینی خاتون شہید اور چار بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔جبالیہ کیمپ کے رہائشی علاقوں پر صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں کی بمباری میں کم سے کم چار فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے، وسطی غزہ کی خیابان الجلا کے قریب واقع ایک رہائشی مکان کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر زمیں بوس ہوگیا۔غزہ میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے اب تک اس علاقے میں تنتیس میڈیا ہاوسز کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد ۲۵۶سے زیادہ ہوگئی جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ زخمی ہیں ۔حماس نے جمعہ کے پیش نظر فلسطینی عوام سے بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ کی جانب کوچ کرنے کو کہا ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق حماس کے لیڈر محمد حماد نے یہ کہا کہ لڑائی کو اب تک ۱۱ دن ہوچکے ہیں، یہ لڑائی خالص خون کی لڑائی ہے اور اس میں ہماری قیمتیں جانی گئی ہیں، ہم نے غاصب حکومت کو ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں۔اب بھی ہماری قوم قربانیاں پیش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے قدس کے لوگوں اس لڑائی کو طویل بنادو، تاکہ ان کے شہر، قصبے اور افراد پر سکون نہ رہیں،مسجد اقصیٰ کی طرف مارچ کرو۔ قرآن کی آیت پڑھتے ہوئے انہوں نے کہا انفرو ۔۔۔نکل پڑو پیدل یا سواری سے اور اپنے وجود کو سیسہ پلائی دیوار بنادو قدس کے لیے، انسانی چین بناکر قدس کی حفاظت کرو اور خبیث صہیونی سازش کوناکام بنادو۔ قدس کی حفاظت کے لیے اب تک جو قربانیاں پیش کی گئیں ہے اسے رائیگاں نہ جانے دیں، شہدا کے ساتھ وفاداری کا ثبوت پیش کریں۔غزہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں کم سے کم دس صحافی زخمی ہوئے ہیں جن میں تین کو صیہونی فوجیوں نے شمالی غزہ میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔اسی دوران بعض میڈیا رپورٹوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جمعے سے غزہ میں جنگ بندی نافذ ہوجائے گی جس کے پیش نظر آئندہ چند گھنٹوں کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہاسرائیل اور حماس کے درمیان جمعے کی صبح تک فائر بندی ہونے کا امکان ہے۔ پچھلے گیارہ روز سے غزہ پر جاری وحشیانہ صیہونی حملوں میں ڈھائی سو کے قریب فلسطینی شہید اور کئی ہزار دیگر زخمی ہوگئے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ اسپتال مساجد اور اسکول بھی صیہونی حملوں سے محفوظ نہیں رہے-دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ فلسطینی مجاہدین نے جمعرات کی صبح اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے، صیہونی حکومت کے حتسریم اور تل نوف ایئر بیس نیز متعدد صہیونی علاقوں پر راکٹ اور میزائیل برسائے ہیں۔اسلامی تحریک حماس کی فوجی شاخ عزالدین قسام بریگیڈ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صیہونی حکومت کے دو فوجی ہوائی اڈوں حتسریم اور تل نوف پر کئی راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ سے رات بھر۸۰راکٹ اسرائیل پر داغے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسرائیلی فوج نےغزہ میں حماس کی ۱۰۰ کلو میٹر طویل سرنگیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ درایں اثنا صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے ترجمان نے بھی اعتراف کیا ہے کہ فلسطینیوں نے اب تک اسرائیل پر ہزاروں میزائل برسائے ہیں۔ آفر گونڈلمین نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ حماس اور جہاد اسلامی نے غزہ سے تقریباً چار ہزار میزائل اور راکٹ اسرائیل پر فائر کیے ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عرب کمیونٹی کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن میں گذشتہ چوبیس گھںٹوں میں مزید 58 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق قابض فوج نے عرابہ شہر سے 3 شہریوں کو حراست میں لیا جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ ابو اسنان سے 5، طمرہ سے 4، باقہ سے 2، دیر حنا سے 5، عین السھلہ سے 2، کفر یاسیف سے 2، الجدیدہ سے دو، عکام الناصرہ سے اکتیس اورجنوبی فلسطین سے 31 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ روز دارالحکومت تل ابیب میں خطرے کے سائرن بجائے جانے کے بعد بڑی تعداد میں یہودی پناہ گاہوں میں جا گھسے۔ ایک مقامی نیوز ویب سائٹ عکا نیوز کے مطابق تل ابیب سے ہزاروں یہودی آباد کاروں نے اجتماعی نقل مکانی کرتے ہوئے پناہ گاہوں میں پناہ لے لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں کو فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں کا خوف ہے اور وہ گھروں سے باہر نہیں نکلتے۔ عکا نیوز کے نامہ نگار نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ بیت حورون یہودی کالونی اور دوسری کالونیوں میں آباد کاروں نے مکانات کرائے پر لینا شروع کیے ہیں۔ یہودی آباد کاروں کا اجتماعی فرار فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کے خوف کا واضح ثبوت ہے۔ ادھر چین نے مشرق وسطی کے تناؤ میں امریکا کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے فلسطین سے متعلق اجلاس کو ویٹو کر کے سلامتی کونسل کو مفلوج کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اسرائیل سے فلسطین کے ساتھ مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر امریکا کا کردار مایوس کن ہے۔ امریکا نے اس اہم مسئلے پر بلائے گئے اجلاس کو ویٹو کرکے سلامتی کونسل کو مفلوج کردیا۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ٹوئٹ میں صارفین سے سوال کیا کہ جب فلسطینی عوام تکلیف میں مبتلا ہیں۔

(بشکریہ ممبئی اردو نیوز)