فلسطین – اسرائیل تنازع: اقوام متحدہ پر سوالیہ نشان

7

نقطہ نظر: ڈاکٹر محمد منظور عالم
فلسطین دنیا کے قدیم ترین ملکوں میں سے ایک ہے ۔ مختلف قوموں نے مختلف اوقات میں یہاں حکمرانی کی ہے ۔ انبیاءکرام کا مسکن اور مرکز بھی یہ سرزمین رہی ہے ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام میں سے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے ان میں سے متعدد کا مرکز یہی علاقہ رہا ہے ۔ یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں کا مذہبی لگاؤ بھی اس خطہ سے ہے ۔ رومن امپائر کی بھی یہاں کی حکومت تھی ۔ عیسائیوں کی بھی حکومت رہی اور مسلمانوں نے بھی طویل عرصہ تک یہاں حکومت کی ۔ مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار کے دوران دوسرے مذاہب کے شہریوں کو بھی رہنے اور جینے کا مکمل حق دیا کسی کو جلا وطنی پر مجبور نہیں کیاکسی کو بے وطن نہیں کیا لیکن بیسوی صدی میں یہاں کے حقیقی شہریوں اور باشندوں سے ان کا وطن چھین کر باہر سے آئے لوگوں کو بسا دیا گیا ۔ برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے فلسطینیوں اور عربوں کے گھروں میں جرمنی ، آسٹریلیا ، فرانس، اندلس اور دنیا کے دیگر خطے سے آئے لوگوں کو آباد کردیا اور 14مئی 1948 کو اسرائیل نام کی ریاست قائم کرکے یہاں برسوں سے آباد عربوں کو بے گھر کردیا ۔ اقوام متحدہ نے بھی اسے تسلیم کرلیا اورعالمی طاقتوں کے سہارے اسرائیل اپنا رقبہ وسیع کرتا رہا ہے ۔ 1948 میں اسرائیل کا رقبہ پچاس فیصد سے بھی کم تھا اور اب فلسطین کی 87 فیصد اراضی پر اسرائیل کا قبضہ ہوچکا ہے اور آئے دن یہودی باز آبادی کاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ ویسٹ بینک ، مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کو بھی اسرائیل اپنا حصہ بنانا چاہتا ہے اور مکمل طور پر فلسطین کا خاتمہ اس کی پلاننگ کا حصہ ہے ۔ اپنے اسی مقصدکیلئے اسرائیل لگا تار فضائی حملہ کرکے فلسطین کے بے گناہ شہریوں کو مارتا رہتا ہے اور انہیں فلسطین چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ دوسری طرف فلسطینی اپنا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بندوق کے جواب میں پتھر چلاکر اسرائیل کی دہشت گردی سے خود کو بچانا چاہتے ہیں تو اسے دہشت گردی کا نام دے دیا جاتا ہے ۔
حالیہ دنوں میں بھی یہی ہوا ہے ۔ 7مئی کو جمعۃ الوداع تھا ۔ مسجد اقصی میں مسلمان نمازا ادا کررہے تھے تبھی اسرائیلی فوج نے ان پر حملہ کردیا ۔ افرا تفری ہوگئی ۔ 11 فلسطینی اسرائیلی حملہ میں شہید ہوگئے ، دسیوں زخمی ہوگئے ، مسجد میں لگا مائک اور کئی سارا سامان تباہ ہوگیا ۔ عبادت کے دوران حملہ دنیا کی بدترین سفاکی اور بربریت ہے لیکن اسرائیل نے یہ سب کیااور پوری دنیا کئی دنوں تک خاموش تماشا بنی رہی ۔ نمازیوں پر حملہ اور بیت المقدس کی زمین مسلمانوں پر تنگ کرنے کے ردعمل میں حماس نے جوابی کاروائی کی، حماس نے جب دیکھا کہ اسرائیل کی دہشت گردی پر پوری دنیا خاموش ہے۔ اقوام‌متحدہ بھی اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ امریکہ اسرائیل کو ظلم کرنے کیلئے ہتھیار سپلائی کررہا ہے تو پھر حماس نے  اسرائیل پر راکٹ داغنا شروع کیا ۔ حماس کی جوابی کاروائی میں اسرائیل نے غزہ پٹی پر بموں کی برسات کردی ۔ لگاتار میزائیلوں سے حملہ شروع کردیا ۔ بلندترین ،عمارت ، اسکول ، مہاجر کیمپ ، رہائشی مکانات ، میڈیا اور سرکاری دفاتر ، ہسپتال ، سڑک ہر ایک کو نشانہ بنایا اور میزائل کے حملہ میں تباہ کردیا ۔ حماس اور فلسطین کے درمیان تقریبا گیارہ دنوں تک جنگ جاری رہے‌۔ اس جنگ میں 254 سے زیادہ بے گناہ فلسطینیوں کی اسرائیلی حملہ میں شہادت ہوئی ہے ۔ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہیں ۔ پچاس سے زیادہ اسکول اور دو سو سے زیادہ رہائشی مکانات کو تباہ کردیا ہے اسرائیل نے ۔ اسرائیلی دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ نے اپنا ہنگامی اجلاس طلب کیا لیکن امریکہ سمیت متعدد ممالک نے اسرائیل کے ظلم کی حمایت کی ۔ نہتے فلسطینیوں پر حملہ روکنے کی حمایت نہیں کی اور بالآخر اقوام متحدہ ایک مشترکہ بیان جاری کرنے میں بھی ناکام رہا ۔ مصر کی پہل پر  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس کے بعدجنگ بندی پر دونوں فریقین نے رضا مندی ظاہر کی‌اور وقتی طور پر یہ جنگ رک گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ ظلم کو روکنے میں ناکام کیوں ثابت ہوتاہے ۔
اقوام متحدہ اسرائیل پر لگام کام کیوں نہیں لگاتا۔بیت المقدس کا علاقہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں میں ہے اس کے باوجود اسرائیل وہاں باز آباد کاری کیوں کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے مظلوم ملکوں کو انصاف کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کمزور ممالک کا محافظ بننے میں ناکام کیوں ثابت ہو رہا ہے۔ طاقتور ممالک پر روک لگانے میں اقوام متحدہ جرأت کیوں نہیں دیکھاتا ہے۔ اقوام متحدہ اپنے اختیارات اور طاقت کا استعمال صرف کمزور ممالک کے لئے ہی کیوں کرتا ہے؟۔
اسرائیل علاقہ کیلئے سنگین خطرہ ہے‌۔ جب اسرائیل نام کی ریاست مشرق وسطی میں وجودِ میں لائی گئی ہے پورا مشرق وسطی بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ چند ممالک کو چھوڑ کر کہیں بھی سکون۔ سلامتی اور ترقی نہیں ہے۔ امریکہ کا دوہرا کردار ایک مرتبہ پھر سب کا سامنے کھل اچھی طرح آیا کہ اس نے کھل کر اسرائیل کے حملوں کی حمایت کی۔ اسرائل نے بے گناہ بچوں اور خواتین پر حملہ کرکے انہیں ماردیا۔ اسکول پر بمباری گی۔ ہسپتال۔ پانی کی ٹنکی۔ رہائشی مکانات اور میڈیا کے دفاتر پر حملہ کیا واضح طورانسانی حقوق کے خلاف کرائم گا ارتکاب کیا ہے لیکن اس کے باوجود خود کو انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والے امریکہ اور یورپین ممالک نے اسرائیل کی حمایت کی آخر یہ کیسی انسانیت ہے۔ انسانی حقوق کا یہ کون سا پیمانہ ہے۔ کیا معصوم بچوں کا قتل امریکہ اور یورپ کی نظر میں کرائم اور دہشت گردی نہیں ہے۔ کیا عورتوں پر میزائل سے حملہ کرنا انسانیت کی پامالی نہیں ہے۔ کیا اسکولوں کو تباہ کرنا امریکہ کی نظر میں اسرائیل کا درست فیصلہ تھا۔ آخر ہیومن رائٹس اور انسانیت کے نام پر یہ دوہرا معیار کیوں؟۔ ظالموں کی حمایت اور مظلوموں کی مخالفت کیوں؟ خود کو سپر پاور کہنے والے کی پالیسی میں یہ تضاد کیوں۔ کیا فلسطین اور غزہ کے بچوں اور خواتین کی کوئی اہمیت نہیں ہیں‌ یہ انسانوں کی فہرست سے باہر ہیں۔ کیا ان کے جان و مال کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایک طرف دنیا کے سپر پاور امریکہ کا یہ دوہرا معیار ہے دوسری طرف اقوام متحدہ بے بسی اور بے حسی کا شکار ہے۔ ستر سالوں میں اس ادارے کی وجہ سے مسلمانوں پر طرف ظلم ہوا ہے آج تک کوئی انصاف نہیں مل سکا ہے‌۔
مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے  عرب ممالک اور دوسرے مسلم دیشوں کو ایک ساتھ آنا چاہیے  اور کوئی روڈ میپ تیار کرنا چاہیے کیونکہ بیت المقدس اور مسجد اقصی صرف  فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے  عوام، حقوقِ انسانی کے علمبرداروں،  حقوق انسانی کارکنان اور تمام  مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور ہر ایک انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے  اسے حل کرنا کیونکہ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔
(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری ہیں)