جنگ بندی کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاری کے باعث ہنوز کشیدگی برقرار

25

اسرائیل لاکھ مظالم ڈھالے، وہ اپنے آباء و اجداد کی وراثت نہیں چھوڑیں گے: فلسطینی باشندے

غزہ – مقبوضہ بیت المقدس:  اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کے بعد حالیہ تنازع کی وجہ شیخ جراح کے علاقے میں اب بھی حالات کشیدہ ہیں۔
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ تنازع کی وجہ شیخ جراح کا علاقہ ہے جہاں اب بھی حالات کشیدہ ہیں جب کہ یہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل لاکھ مظالم ڈھالے، وہ اپنے آباء و اجداد کی وراثت نہیں چھوڑیں گے۔
شیخ جراح کی رہائشی 23 سالہ مونا الکرد کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان  1950 کی دہائی سے یہاں رہائش پذیر ہے، وہ ایسے ہی اس علاقہ کو کیسے چھوڑ سکتی ہیں۔ مونا الکرد کے والد کا کہنا ہے کہ وہ کسی اسرائیلی عدالت کا فیصلہ نہیں مانتے،  2009 میں اسرائیلی آبادکاروں نے زبردستی ان کے گھر کے پر قبضہ کر لیا تھا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں تقریباً ہر کسی کے گھر میں  اسرائیلی رہائش پذیر ہیں۔
صرف شیخ جراح ہی نہیں بلکہ مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں 2 لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کار آباد ہیں جب کہ فلسطینیوں کی آبادی 3 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
واضح رہے کہ شیخ جراح میں یہودی آبادکاری کے خلاف احتجاج کے باعث شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیلی کی جانب سے شدید بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری کی گئی تھی، 11 روز تک جاری رہنے والی اس بمباری میں 66 بچوں سمیت 254 افراد شہید ہوگئے تھے۔