نمازِ جمعہ کے لیے مسجد الاقصیٰ پہنچے مسلمانوں پر اسرائیلی فوج کا حملہ، کئی نمازی زخمی

نمازِ جمعہ کے لیے مسجد الاقصیٰ پہنچے مسلمانوں پر اسرائیلی فوج کا حملہ، کئی نمازی زخمی

غزہ پر اسرائیلی جنگجو طیاروں کی بمباری آج دوسرے دن بھی جاری رہی، حالانکہ غزہ کی فلسطینی وزارت صحت نے اس دوران کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
اسرائیل ایک بار پھر بربریت پر اتر آیا اور نماز جمعہ کے لیے پہنچے فلسطینیوں پر ربر بلٹس فائر کئے، جس کے نتیجے میں متعددنمازی زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایک بار بھر مسجدالاقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ اسرائیلی فورسز کی جانب سے نماز جمعہ کے لیے آئے فلسطینیوں پر ربر بلٹس کا استعمال کیا گیا۔ ربربلٹس فائرکرنے پر متعدد نمازی زخمی ہوگئے۔
میڈیا ذرائع سے موصول خبروں کے مطابق غزہ پر اسرائیلی جنگجو طیاروں کی بمباری آج دوسرے دن بھی جاری رہی، حالانکہ غزہ کی فلسطینی وزارت صحت نے اس دوران کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے شمالی علاقے موضع بیت لاحیہ اور خان یونس شہر میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی اور زرعی اراضی کو ہدف بنایا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ ’’یہ حملہ فلسطین کی جانب سے آتشی غباروں کو بھیجنے کے عمل کے جاری رہنے کے جواب میں کیا گیا ہے اور غزہ کی پٹی پر ہونے و الے واقعات کی ذمہ دار حماس کے فوجی ڈھانچوں کو ہدف بنانے کے عمل کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔‘‘
اس درمیان حماس نے اسرائیلی حملوں کے برخلاف دھمکی دی ہے۔ ترجمان حماس فیضی برحوم نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ”قابض اسرائیل کا مزاحمتی ٹھکانوں پر بمباری کرنا برے حالات سے دو چار نئی حکومت کے اپنے حوصلے بلند کرنے کے لیے ایک ڈرامے کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ دو روز قبل نئے اسرائیلی وزیراعظم کے اقتدار سنبھالتے ہی اسرائیلی فورسز نے غزہ پر بمباری شروع کردی تھی۔ سیزفائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی طیاروں نے رات گئے غزہ اور خان یونس پربم برسائے۔ اسرائیلی بم باری سے متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ حماس کے ترجمان نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی یروشلم میں مقدس مقامات کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *