دہلی فسادات معاملے میں گرفتار سابق کونسلر طاہر حسین کے بھائی سمیت تین ملزم بری، عدالت نے پولیس کو لگائی سخت پھٹکار

29

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے لیے پولیس کی سرزنش کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ پولیس نے جس طرح سے دہلی فسادات کی تحقیقات کی ہے، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج (اے ڈی جے) ونود یادو نے شاہ عالم (سابق کونسلر طاہر حسین کے بھائی) ، راشد سیفی اور شاداب کو کیس سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فسادات کی تحقیق درست طریقے سے نہیں کی گئی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کانسٹیبل کو بطور گواہ بنایا ہو، جج ونود یادو نے کہا کہ یہ کیس ٹیکس دہندگان کی محنت سے کمائی گئی رقم کا ضیاع ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔ دہلی فسادات کے ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جائے وقوع پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرے نہیں تھے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزم واقعتاً وہاں موجود تھے یا نہیں۔ اس واقعہ کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے اور نہ ہی مجرمانہ سازش کا کوئی ثبوت ہے۔
جج نے کہا کہ میں اپنے آپ کو یہ کہنے سے نہیں روک سکتا کہ جب لوگ تقسیم کے بعد اس بدترین فساد کی طرف پلٹ کر دیکھیں گے تو انھیں افسوس ہوگا۔ کیوں کہ جدید ذرائع کے استعمال کے بعد بھی پولیس کی تحقیقات ناکافی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے پولیس نے صرف چارج شیٹ دائر کرکے گواہوں، تکنیکی شواہد یا حقیقی ملزم کا سراغ لگانے کی کوشش کئے بغیر ہی معاملہ حل کرلیا ہے۔