افغانستان میں حکومت سازی سے قبل طالبان کا پنجشیر پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

17

افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے طالبان کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ دریں اثنا مزاحمتی فورس نے کم از کم 350 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے اور 290 کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کابل: رائٹرز افغانستان میں حکومت کے قیام سے قبل طالبان نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے پنجشیر وادی پر بھی قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد اب پورا افغانستان طالبان کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجشیر میں فتح کے دعوے کے بعد افغان دارالحکومت کابل میں فائرنگ کرکے سے فتح جشن منایا گیا۔
وہیں سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے طالبان کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک چھوڑنے کی خبر جھوٹی ہے۔ اے این آئی کے مطابق ، صالح نے الزام لگایا ہے کہ طالبان جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ وہ پنجشیر میں ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی آمد کو روک رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان کی وحشیانہ کارروائیوں پر غور کرے۔ دریں اثنا مزاحمتی فورس نے کم از کم 350 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے اور 290 کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان ہفتے کو نئی حکومت کے قیام کا اعلان کریں گے۔ اس سے قبل نئی حکومت کے قیام کا اعلان جمعہ کو ہونا تھا تاہم اسے ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نئی افغان حکومت کی سربراہی برادر کریں گے۔ نئی حکومت کے قیام کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ افغانستان کے بیشتر حصے کو کنٹرول کرنے کے بعد طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کر لیا۔ تب سے نئی حکومت کی تشکیل کا عمل جاری ہے۔

حکومت میں 25 وزیر ہوں گے

طالبان ذرائع کے مطابق تنظیم کے ارکان کے ساتھ مل کر ایک نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ حکومت میں 25 وزراء کو شامل کیا جائے گا جن میں سے 12 علماء ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی کابینہ تشکیل دی جائے گی ، لیکن ابھی تک اس بارے میں صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔