محمدشامی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو وراٹ کوہلی نے بھی دیا سخت جواب

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم شامی کے ساتھ 200 فیصد کھڑے رہیں گے، اور باہری لوگوں کے برتاؤ کا ہمارے رشتوں پر اثر نہیں پڑ سکتا۔‘‘

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف 21 اکتوبر کو ٹی-20 عالمی کپ کا ایک انتہائی اہم مقابلہ کھیلا جانے والا ہے۔ اس سے قبل آج ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے ہندوستانی گیندباز محمد شامی کے خلاف سوشل میڈیا پر اٹھ رہی آوازوں پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا۔ پاکستان سے ہندوستان کی شکست کے بعد محمد شامی کی ٹرولنگ پر ناراض ہوتے ہوئے وراٹ نے کہا کہ ’’بطور کھلاڑی ہمارا کام ہے کھیلنا۔ باہر لوگ کیا بولتے ہیں، ہم اس پر دھیان نہیں دیتے۔ ہماری پوری توجہ میچ پر ہے، نہ کہ اس طرح کے ڈرامے پر۔‘‘
محمد شامی کی ٹرولنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے وراٹ کوہلی نے یہ بھی کہا کہ ’’سوشل میڈیا پر کچھ لوگ ہیں جو اپنی شناخت چھپا کر اس طرح کی حرکت کرتے ہیں۔ آج کے دور میں یہ چیزیں عام ہیں۔ جب ہم پر اس طرح سے لوگ تہمت لگاتے ہیں تو ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے ڈریسنگ روم کے ماحول کو اچھا بنائے رکھیں۔ باہر جو بھی نوٹنکی ہوتی ہے وہ پوری طرح سے ویسے لوگوں کی ذہنیت کو بتاتی ہے جو اس طرح کی حرکت کرتے ہیں۔‘‘
وراٹ کوہلی نے واضح لفظوں میں کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کے مذہب کی بنیاد پر ہدف نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو سراسر غلط ہے۔ وراٹ نے مزید کہا کہ ’’میں نے کبھی ایسا سلوک کسی کے ساتھ نہیں کیا۔ لیکن کچھ لوگوں کا کام ہی یہی ہے۔ محمد شامی ہندوستانی ٹیم کے اہم جز ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کو کافی میچ جتائے ہیں۔ پھر بھی ان کے کھیل میں کسی کو وہ بات نہیں نظر آتی جو نظر آنی چاہیے، تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔ نہ ہی ویسے لوگوں کے لیے میں اپنا وقت برباد کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی وراٹ کوہلی نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم شامی کے ساتھ 200 فیصد کھڑے رہیں گے۔ اور باہری لوگوں کے برتاؤ کا ہمارے رشتوں پر اثر نہیں پڑ سکتا۔‘‘
(بشکریہ قومی آواز)

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com