امریکہ طالبان سے اگلے ہفتے مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا

205

امریکہ نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ اگلے ہفتے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔ اس بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں انسانی بحران سمیت دیگر امور زیر غور آئیں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ قطر میں اگلے ہفتے طالبان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہوگی۔ دو ہفتے تک چلنے والے مجوزہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ کریں گے۔ نیڈ پرائس کے مطابق مذاکرات میں دونوں فریق” باہمی اہم قومی مفادات‘‘ پر بات چیت کریں گے۔ جن میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ کے خلاف کارروائیاں، افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی، افغانستان کی تباہ حال معیشت، افغانستان میں موجود امریکی شہریوں اور ان افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کے لیے محفوظ راستے کی فراہمی شامل ہیں جنہوں نے 20 برس تک جنگ کے دوران امریکا کے لیے کام کیا تھا۔ ٹام ویسٹ نے دو ہفتے قبل ہی طالبان کے نمائندوں سے پاکستان میں ملاقات کی تھی۔ طالبان نے اگست میں امریکی فورسز کے مکمل انخلا کے بعد افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 9 اور 10 اکتوبر کو ہوا تھا۔ ٹام ویسٹ نے امریکا کی طرف سے مالی اور سفارتی امداد کے حوالے سے طالبان کے لیے شرائط کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، شمولیتی حکومت کا قیام، اقلیتوں، خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا احترام اور تعلیم اور ملازمت کے مساوی مواقعے کی فراہمی شامل ہے۔ افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا اور فی الحال صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد دی جائے گی۔ طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے گزشتہ ہفتے امریکی کانگریس کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں زور دیا تھا کہ امریکا کی طرف سے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔ خیال رہے کہ عالمی برادری نے طالبان حکومت کو فی الحال تسلیم نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا انسانی بحران کو فوراً حل کرنے پر زور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی بھوک اور امدادی اشیاء کی ترسیل پر روک کی وجہ سے صورت حال بڑی تیزی سے تشویش ناک ہوتی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی کمیونیکیشن چیف سمانتھا مورٹ نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کے دوران کہا،” قریب 22 ملین آبادی والے ملک کی تقریباً نصف آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔ صورت حال غیر معمولی توجہ کی متقاضی ہے۔ بحران بڑی تیزی سے سب کو اپنی زد میں لے رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یونیسیف سمیت دیگر امدادی ایجنسیاں موسم سرما سے پہلے تک ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسیف چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعہ اور پاکستانی سرحد کے راستے امداد پہنچارہا ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ سردی بڑھتی جارہی ہے۔” پہاڑوں پر برف باری شروع ہو گئی ہے، دیہی علاقے کٹ گئے ہیں اور ہم ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ ان تک رسائی کے تمام راستے مسدود ہوجانے سے پہلے پہلے مدد پہنچا سکیں۔‘‘ بین الاقوامی پابندیاں بحران کا سبب بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معاشی پابندیاں افغانستان کو بحران میں مبتلا کررہی ہیں۔ ریڈکراس کے انٹرنیشنل کمیونٹی ڈائریکٹر ڈومنیک اسٹل ہارٹ نے افغانستان کے چھ روزہ دورے کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا،” میں ان حالات سے بے چین ہوں۔ ہم نے ہڈیوں کے ڈھانچوں کی طرح لاغر بچوں کی تصاویر دیکھیں جو خوف کا باعث ہیں۔‘‘ اسٹل ہارٹ کا کہنا تھا،” جب آپ قندھار کے بڑے ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں کھڑے ہوتے ہیں تو آپ کو بھوکے بچوں کی خالی نگاہیں اور والدین کے افسردہ چہرے نظر آتے ہیں، یہ غضبناک صورت حال ہے۔‘‘ اسٹل ہارٹ نے خبردار کیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا مطلب ” کابل میں برسر اقتدار افراد کو سزا دینا ہے نہ کہ افغانستان میں کروڑوں لوگوں ان کی بنیادی ضروریات سے محروم کردیا جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہر ایک کے مفاد میں بہتر یہی ہے کہ انسانی ہمدردی کے حوالے سے سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے افغانستان کو نرمی سے چلایا جائے۔ اسٹل ہارٹ کا کہنا تھا کہ میونسپل کے ملازمین سمیت اساتذہ اور محکمہ صحت کے عملے کو مہینوں سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔ حالانکہ طالبان نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دینا شروع کررہے ہیں لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com