مسجد اقصی کی آزادی اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ایران کا بنیادی ایجنڈا: ترجمان وزارت خارجہ

تہران: (ملت ٹائمز) ایران اور ہندوستان کے درمیان تین ہزار سال قدیم رشتہ ہے اور آیندہ دنوں میں ہم اسے مزید بڑھانا چاہتے ہیں ۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ایران کے رشتے خوشگوار ہورہے ہیں ، سعودی عرب کے ساتھ بھی آف دی ریکارڈ کئی مرحلوں میں ہماری گفتگو جاری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایران وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر سعید خطیب زادہ نے بھارتیہ صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ ہم آپ کو بتادیں کہ ان دنوں بھارتیہ صحافیوں کا ایک وفد معروف صحافی اشرف زیدی کی قیادت میں ایران کے غیر سرکاری دورے پر ہے جس میں ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی ، روزنامہ سیاست کو آرڈینیٹر محمد ریاض احمد ، روزنامہ سیاسی تقدیر کے بیورو انجم جعفری ، تہلکہ توڈے کے ایڈیٹر رضوان مصطفی ، روزنامہ دی ہندو میں بین الاقوامی امور کے ایڈیٹر اسٹینلی جونی شامل ہیں اس کے علاوہ ڈاکٹر حیدر رضا ضابط بھی مترجم کی حیثیت سے وفد میں شامل ہیں۔

ایران وزارتِ خارجہ نے بھارتیہ صحافیوں کا اپنے یہاں شاندار خیر مقدم کیا اور وزیر خارجہ کے غیر ملکی دورہ پر ہونے کی وجہ ان کی نمائندگی ترجمان خطیب زادہ نے کی۔ ملت ٹائمز کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ طالبان کی ہم ہر ممکن مدد کررہے ہیں ، وہاں کے وزیر خارجہ نے سب پہلا دورہ ایران کا ہی کیا ہے، ہمارا سفارت خانہ وہاں کھلا ہوا ہے ، پیٹرول اور دیگر چیزیں فراہم کررہے ہیں ، بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو بھی ہم اپنے یہاں پناہ دے رہے ہیں۔ فلسطین کے تعلق سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مسجد اقصی کی آزادی اور خود مختار فلسطین کا قیام ایران کا بنیادی ایجنڈا ہے اور ہم لگاتار اس پر کام کررہے ہیں ، حماس ، جہاد اسلامی فلسطین، حزب اللہ اور دیگر جماعتوں کو ہماری حمایت حاصل ہے جو فلسطین کی آزادی کیلئے اسرائیل کے ساتھ برسر پیکار ہیں، ہمارے تعاون کی وجہ سے اسرائیل کے گذشتہ سال شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور آیندہ اس سے بھی برے حالات ہوں گے ۔ چاہ بہار پروجیکٹ کے تعلق سے ترجمان نے کہاکہ یہ بھارت کا پروجیکٹ ہے اور امید ہے کہ بھارت اسے کسی دباؤ میں آئے بغیر جلد پورا کرے گا، اسی طرح ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بغداد میں کئی مرحلوں میں آف دی ریکارڈ بات چیت ہوئی اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا جس کے بہتر نتائج آنے کی امید ہیں ۔ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی کے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کا ہم نے اس لئے ساتھ دیا کہ بیرونی طاقتیں ہمارے خطے میں مداخلت کررہی تھیں، بشار الاسد سے ایران کا شدید نطریاتی اختلاف ہے لیکن باہر کے لوگوں نے ہمارے خطے میں مداخلت کی، دہشت گرد تنظیموں کو بھیجا جس کی بنا پر ہم نے حمایت کی ہے‌۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com