اب نئے نام سے جانا جائے گا ترکی! اقوام متحدہ میں نام تبدیل کرنے کی درخواست منظور

انقرہ: اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ترک وزیرِ خارجہ میلود چاؤش اولو کی جانب سے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک مراسلہ موصول ہوا تھا جس میں جمہوریہ ترکی کا نام تمام دستاویزی کارروائی میں ‘ترکیہ’ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مراسلہ موصول ہونے کے بعد اقوام متحدہ میں جمہوری ترکی کا نام ‘ترکیہ’ کے طور پر رجسٹرڈ کرلیا گیا ہے۔

گزشتہ برس ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تمام رسمی مراسلت اور کاروباری برانڈنگ وغیرہ میں ٹرکی (Turkey) کے بجائے کے بجائے ترکیہ (Turkiye) لفظ استعمال کیا جائے گا۔

اس کے بعد ہی سے ترکی نے اقوامِ متحدہ میں اپنا نام انگریزی میں بھی ‘ترکیہ’ رجسٹرڈ کرانے کی تیاری شروع کر دی تھی اور جمعرات کو نام کی تبدیلی کا عمل مکمل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گوگل پر ‘ٹرکی’ لکھا جائے تو سرخ پرچم کے ساتھ اس پرندے کی تصویر بھی سامنے آتی ہے جسے امریکہ میں ‘تھینکس گیونگ ڈے’ اور کرسمس کے تہوار پر بڑے اہتمام کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ ایک بڑے پرندے کا نام ہونے کے علاوہ کیمبرج ڈکشنری میں اس لفظ کا ایک اور معنی ‘احمق یا بے وقوف’ شخص بھی درج ہے۔

ترکی کے نشریاتی ادارے ‘ٹی آر ٹی’ نیوز کے مطابق عام طور پر ترک قوم کے لوگ اپنے ملک کے لیے ‘ترکی’ کے لفظ کو اس لیے پسند نہیں کرتے کیوں کہ ان کے مطابق اس لفظ سے بعض مضحکہ خیز اور تحقیر آمیز تصورات بھی جڑے ہیں۔ ویسے بھی مقامی زبان میں یہ لفظ ‘ترکیہ’ہے۔ اسی بنا پر صدر ایردوان نے بھی نام کا یہی املا استعمال کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔

ترکیہ کا لفظ کہاں سے آیا؟

معروف امریکی مصنف اور تاریخ دان برنرڈ لوئس اپنی کتاب ‘ایمرجنس آف ماڈرن ترکی’ میں لکھتے ہیں کہ جب کہا جائے کہ ”ترک وہ ہوتا ہے جو ترکی بولتا ہے اور ترکی میں رہتا ہے، تو یہ تعریف پہلی نظر میں اجنبی محسوس ہوتی ہے کیوں کہ ترکی میں رہنے والوں نے اپنی سماجی، سیاسی تاریخ اور ماضی سے کٹنے کے بعد موجودہ شناخت اختیار کی ہے۔”

تاریخ کے مطابق مغربی ایشیا میں اناطولیہ کےخطے کو گیارہویں صدی میں ترک قبائل نے فتح کیا تو اسے ‘ٹرکی’ کہا جانے لگا تھا لیکن یہ نام اسے یورپیوں نے دیا تھا۔ مؤرخین کے مطابق سلطنت عثمانیہ کا انتظامی ڈھانچا اور معیشت سترہویں صدی میں بتدریج کمزور ہونا شروع ہو گئے تھے اور اس کے بعد یہی دو مسائل آنے والے حکمرانوں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوئے۔

سلطنتِ عثمانیہ نے 30 اکتوبر 1918 کو پہلی عالمی جنگ سے دستبرداری کے لیے برطانیہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کے بعد اس سلطنت کے زوال کا سفر اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا۔ بالآخر 29 اکتوبر 1923 کو ترکی کے اعلانِ آزادی کے ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ اس نے ترکی کا نام اختیار کر لیا جسے انگریزی میں ‘ٹرکی’ لکھا اور بولا جاتا ہے اور ترکی زبان میں اسے ‘ترکیہ’ کہا جاتا تھا جو کہ اس کے یورپی نام ہی سے اخذ کیا گیا تھا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com