فلسطین میں رواں برس اسرائیلی فوج کے ذریعے 140؍ فلسطینی شہید! یورپی یونین نے کیا تشویش کا اظہار

یروشلم/ بیت المقدس: مقبوضہ فلسطین میں قائم یورپی یونین کے دفتر نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی شہریوں کے خلاف گلی محلوں میں مہلک طاقت کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 یورپ یونین کے مطابق 2006ء کے بعد رواں سال 2022ء فلسطینی عوام کے لیے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا ہے اس سال اب تک 140 فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے گلی کوچوں اور گھروں کے اندر ہلاک کیا ہے۔

 جمعہ کی دیر رات کیے گئے ایک ٹویٹ میں فلسطینی میں قائم یورپی یونین کے دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ”فلسطینی شہریوں کی ان ہلاکتوں کی تحقیقات کی جانی چاہیے تاکہ ان انسانی جانوں کے اتنی بڑی تعداد میں نقصان کے ذمہ داروں کا احتساب ممکن ہو سکے۔“

یورپی یونین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ”بین الاقوامی قوانین کے مطابق مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت موقع محل کے تحت محدود تر ہے، لیکن جو کچھ فلسطین میں ہو رہا ہے یہ تو انسانی جانوں اور انسانی اعضاء کے لیے سخت خطرناک ہے۔“

واضح رہے جمعہ کے روز یورپی یونین کے اس بیان سے پہلے آن لائن ایک ایسی ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی ایک فلسطینی کو پہلے تشدد کا نشانہ بنارہا ہے، بعد ازاں اسے گولی کا نشانہ بنایا گیا اور زمین پر گرنے کے بعد تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

کسی فرد یا اسرائیلی ایمبولینس نے اس فلسطینی کو ہسپتال نہیں پہنچایا۔

کافی دیر سڑک پر پڑے اس کا خون بہتا رہا۔ پھر اسے ہسپتال لے جایا گیا؛ لیکن طبی امداد سے پہلے ہی وہ 22 سالہ عمار مفلح جام شہادت نوش کر گیا۔

فلسطینی وزارت صحت نے اس کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ اس کا تعلق حوارہ ٹاؤن سے بتایا گیا ہے۔ واضح رہے اسرائیلی قابض فورسز ان دنوں گلی کوچوں میں فلسطینی نوجوانوں کو بطور خاص اپنا نشانہ بنا رہی ہیں۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com