غزہ پٹی کا تیس فیصد حصہ تباہ ہو چکا: یو این سیٹلائٹ سینٹر

اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے مطابق سیٹلائٹس سے حاصل شدہ نئی تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں اس بہت گنجان آباد خطے کا تیس فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔سوئٹزرلینڈ میں جنیوا سے موصولہ رپورٹوں میں یو این سیٹلائٹ سینٹر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ غزہ کی جنگ میں گزشتہ برس اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج نے جو کارروائیاں کی ہیں، ان کے نتیجے میں اس خطے میں اب تک 30 فیصد عمارات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

عالمی ادارے کے سیٹلائٹ سینٹر اونوسیٹ (UNOSAT) نے بتایا کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے پر فضائی حملوں، گولہ باری اور عمارات کو منہدم کر دینے کےدانستہ عسکری اقدامات کے نتیجے میں زیادہ تر سویلین انفراسٹرکچر سمیت پورے کے پورے شہری علاقے زمین بوس ہو چکے ہیں۔ اونوسیٹ کے مطابق، ”مجموعی طور پر 69,147 تعمیرات، جو پوری غزہ پٹی میں تعمیراتی ڈھانچوں اور عمارات کی کُل تعداد کا تقریباﹰ 30 فیصد بنتی ہیں، ان کارروائیوں سے متاثر ہوئی ہیں اور یہ تناسب ہوش ربا ہے۔”

ساتھ ہی اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کی طرف سے کہا گیا کہ تقریباﹰ چار ماہ سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں 22,131 عمارات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 14,066 عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ 32,950 عمارات ایسی ہیں، جنہیں درمیانی حد تک نقصان پہنچا ہے۔

اونوسیٹ نے بتایا کہ اس نے اپنے یہ اعداد و شمار ان سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد تیار کیے، جو گزشتہ ماہ چھ اور سات جنوری کو لی گئی تھیں۔ ان تصاویر کا ایسی ہی تصاویر کے چھ دیگر گزشتہ مجموعوں سے موازنہ کیا گیا، جن میں سے کچھ ایسی بھی تھیں، جو غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں سے پہلے لی گئی تھیں۔

ایسے ایک گزشتہ تجزیے کے مقابلے میں نئے تجزیے سے یہ بھی پتہ چلا کہ غزہ سٹی اور خان یونس کے علاقوں میں اکتوبر سے جنوری کے شروع تک سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔ اونوسیٹ کے ماہرین نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے غزہ پٹی میں تباہی کا گزشتہ جائزہ 26 نومبر کو حاصل ہونے والی تصاویر کی مدد سے لیا تھا۔ اس دونوں جائزوں کے موازنے سے ثابت ہوا کہ 26 نومبر کے مقابلے میں سات جنوری تک غزہ سٹی میں تباہ ہو جانے والی تعمیرات کی تعداد میں 10,280 کا اور خان یونس میں 11,894 کا اضافہ ہو چکا تھا۔

یو این سیٹلائٹ سینٹر کے نئے جائزے سے یہ تصدیق بھی ہو گئی کہ غزہ پٹی میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے دوران سات جنوری تک تقریباﹰ 93,800 رہائشی یونٹ بھی تباہ ہو چکے تھے۔ اسرائیل نے غزہ پٹی میں حماس کے خلاف اپنی مسلسل فضائی اور زمینی عسکری کارروائیوں کا آغاز اس عسکریت پسند تنظیم کے سات اکتوبر کے روز اسرائیل میں اس بڑے دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد کیا تھا، جس میں سینکڑوں جنگجوؤں نے حصہ لیا تھا۔

حماس، جس کو یورپی یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ، جرمنی اور کئی دیگر ممالک نے بھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، کے اس حملے میں اسرائیل کے حکومتی ذرائع کے مطابق تقریباﹰ 1,200 افراد مارے گئے تھے۔

اس کے علاوہ جاتے ہوئے حماس کے عسکریت پسند قریب 250 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔ ان میں سے کافی زیادہ یرغمالی اب تک اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا بھی کیے جا چکے ہیں، تاہم بہت سے یرغمالی اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔ غزہ پٹی میں، جس کا کنٹرول حماس کے پاس ہے، وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک 27 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بہت بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com