آخر … ہم نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا…!

محمد عباس دهالیوال
فطرتاً ہم کافی شریف و جذباتی واقع ہوئے ہیں اور ہماری اس شرافت کا اکثر لومڑی نما مشاق لوگ جم کر فائدہ اٹھا تے ہیں، ہماری حساس طبیعت کے چلتے اکثر لوگوں نے گھڑیالی آنسو بہا کر ہمیں نہ صرف الو بلکہ کاٹھ کا الو بنا کر، پتہ نہیں، اپنے کتنے ہی الو کے پہٹوں کے، الو سیدھے کیے ہیں، ایسے تو ہم کسی ایرہ غیرہ، نتهو، خیرہ کی باتوں میں بہت کم آتے ہیں، لیکن اکثر خوشامدی لوگ جب اپنی باتوں کو مکهن لگا کر پیش کرتے ہیں، ہم کیا بڑے بڑوں کی عقلیں غوطہ کھا جاتی ہیں اور لاکھ کوششوں کے باوجود بھی آدمی خود کو پهسلنے سے نہیں بچا سکتا، ابھی گزشتہ الیکشن کی بات ہے جیسے ہی چناؤ کمیشن نے الیکشن کا بغل پھونکا. کچھ خوش آمدی لوگ، جو صرف اور صرف، چناؤ کے موسم میں ہی نظر آ تے ہیں، بالکل ان” پتنگوں” کی طرح جو برسات کے دنوں میں جلوہ افروز ہوتے ہیں. ایک شام اپنے گھر پر ہم چچا غالب کی غزلیں سماعت فرما رہے تھے کہ اسی دوران دروازے پر دهڑا دهڑ دستک ہوئی. جیسے کہ کوئی قرضہ وصولی کرنے آیا ہو.! اس سے پہلے کہ ہم باہر والوں کو اندر آنے کی پر زور دعوت دیتے. وہ خود ہی ہمارے گھر میں اپنا مالکانہ حق سمجھ کر گھس آئے. ایسے میں ایک شریف آدمی کیا کر سکتا ہے . رسماًُُ حال چال پوچھنے کے بعد ہم نے آنے کی وجہ معلوم کی.وہ بنا تمہید بولے. ” بس! اس بار فیصلہ ہو چکا ہے” .. ہم نے پوچھا بھائی کاہے کا.! وہ بولے” ہم نے آپکو ایم. ایل.اے.کا الیکشن لڑوانا ہے اور جیت دلا کر ہر حال میں اسمبلی پہنچا نا ہے”. انکی اچانک ایسی غیر متوقع بات سن کر ہم؛ حیران رہ گئے . سیاست اور ہمارے درمیان نزدیک کا تو چھوڑئے…. دور.. دور کا بھی واسطہ نہیں ہے. یا یوں کہہ لیں کہ سیاست سے ہمیں اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی ایک گدھے کو تعلیم سے ..! یا ایک بھینس کو بین سے ہو تی ہے …!ہماری گزشتہ سات پشتو ں اور اس سے پہلے کی معلوم نہیں..! کتنی ہی سات پشتون کا سیاست کے مابین کوئی تعلق رہا ہو..؟اس کا دھندلا سا منظر، ہمیں اپنی بڑے نمبر والی عینک لگا کر دکھائی نہیں دیتا ..! ہم نے ان بن بلائے دھکے شاہی مہمانوں کو سمجھا یا. بھائی ہمیں تو سیاست کی اے. بی. سی تک نہیں آتی اورآپ ہمیں سیدھا ایم. ایل. اے کا الیکشن لڑانے جا رہے ہیں.ویسے بھی لیڑروں میں تو ڈھیر وں خوبیاں ہوتی ہیں’ بد قسمتی سے ہم میں تو ویسی ایک بھی نہیں.. جیسے لیڈر خود میں ایک منفرد شخصیت کا مالک ہوتا ہے. جواب میں انہوں نے کہا” جب طوطا..! ہنس اور گھگی..! جیسے پرندے، سیاست میں آ کر، اپنے کیرئیر کو بلندیوں تک لے سکتے ہیں… آپ تو پھر ماشاءاللہ، “اشرف المخلوقات” کے زمرے میں آتے ہیں”. ہم نے کہا پھر بھی ایک لیڈر رکا سنجیدہ ہونا بہت ضروری ہے اور ہم ٹھہرے پیدائشی غیر سنجیدہ..! انہوں نے کہا “جناب آپ کو شاید نہیں معلوم، آجکل عوام کا سیاسی مزاق بالکل بدل رہا ہے. لوگ اب سنجیدہ قسم کے’ مونی بابا ‘لیڈروں کو قطعی پسند نہیں کرتے . آج عوام میں وہ لیڑر زیادہ ہر دل عزیز ہو رہے ہیں جو لوگوں کو لطیفے سنا کر ان کا دل بہلاتے ہیں.دلچسپ بات یہ ہے کہ ا ب تو ان لیڈروں کا بھی ستارہ سیاسی افق پر روشن ہے جو مزاحیہ پروگراموں میں جج بن کر بےتکے پھوہڑ قسم کے چٹکلو ں پر” سیٹیاں ” بجا کر داد دیتے ہیں.” پارلیمنٹ کا نظارہ تو آپ آئے دن مختلف چینلز پر کرتے ہی رہتے ہیں. جہاں حکمران جماعت اور حزب اختلاف کے ممبران کے درمیان جو دنگہ مشتی دکھائی دیتی ہے مناظر شاید ڈبلیو ڈبلیو کے رئیل رنگ میں بھی دیکھنے کو نہ ملیں . کرسیاں ما ئیک جوتے اور آجکل چلی پاؤڈر کا بھی استعمال ہونے لگا ہے جیسے پیار اور جنگ میں سب کچھ جائزہے اسی طرح اپنے سیاسی حریف کو ضرب پہنچا نے کی خاطر لیڈر کسی بھی حد تک جانا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں. گویا اپنے 2 ڈھنگ سے لیڈر، دھیان میڈیا کا کھنچتے ہیں دوست کوئی ڈرامہ بازی کرکے، کوئی ہے وہویسے بھی ایک لیڈر کا مختلف اسکینڈلز میں جب تک نام نہ آئے اسے میڈیا والے بھی گھاس نہیں ڈالتے، یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ لیڈر اور اسکینڈلز کا پہلے پہل سے ہی چولی دامن کا ساتھ رہا ہے. یعنی دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم و مظلوم خیال کیے جاتے ہیں. جیسے مچھلی جل کےبغیر نہیں رہ سکتی ویسے ہی ایک قد آور لیڈرشپ کا ہم اسکینڈلز کے بنا تصور نہیں کر سکتے. تاریخ شاہد ہے جن لیڈروں پر فرقہ پرستی پھیلانے اور ہزاروں افراد کے قتل کے مقدمات چلے ہوں، جن کو عدالت نے تڑیپار کیا ہو. انکی عوام نہ صرف عزت کرتی ہے .! بلکہ ان کو بھاری اکثریت سے جیت دلا کر، اپنا حکمران تسلیم کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے ..! گویا پنجابی کی دو کہاوتیں،ُُلچا سب سے اچا، اور لچا لنڈا چوہدری غنڈی رن( بیوی )پردھان، ہمارے عہد حاضر کے سیاسی پس
منظر پر ایک دم صادق آتی ہیں. کیا خوب کہاہے.. ہمارے یہاں کی، سیاست کا حال مت پوچھو. گھری ہو ئی ہے، طوائف، تماش بینوں میں. ہم نے کہا بھائی الیکشن کے لئے تعلیمی لیاقت بهی تو درکار ہوتی ہو گی. انھوں نے کہا بھائی ہم نے کون سا آپ کو کوئی آئی .اے. ایس یا آئی. پی. ایس کا امتحان دلا کر بیوروکریٹ بنانا ہے بلکہ آپ حکمران بن جائیں تو ہم نے کہا بھئ پھر بھی سیاسی لیڈر کے لیے تعلیمی لیاقت کم از کم ایم. اے یا بی. اے تو ہو تی ہوگی. اسکے برعکس ہم تو صرف 2+پاس ہیں وہ بھی تیسرے درجہ میں. انہوں نے کہا” جناب اعلی تاریخ شاہد ہے سیاسی میدان میں ایسے لوگوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ہیں جو پانچویں، آٹھویں فیل یا پھر بالکل انپڑھ ایک دم انگوٹھا چھاپ تھے ابھی گزشتہ الیکشن ہی کی بات کریں تو ملک میں ایک 2+ کو دیش کا وزیر تعلیم بنا یا گیا اور ایک آٹھویں فیل ممبر اسمبلی نے تو نائب وزیر اعلی کے عہدے کا حلف اٹھا یا جبکہ ایک جعلی ڈگری والے کو تو کابینہ میں وزیر قانون بنا کر عزت دی گئی. ویسے بھی آپ جب جیت کر حکمران بن جائیں تو جیسی ڈگری چاہیں حاصل کر لیں آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں” .ہم نے کہا ہمیں بات کرنے کا سلیقہ تک نہیں. “بهاشن” کیسے دیں گے. انہوں نے کہا “ہم نے اس میدان میں ایسے اناڑی بھی دیکھے ہیں گویا : بات کرنا تک نہ آتی تھی انھیں. یہ ہمارے دکھنے کی بات ہے.” بھاشن دینا کوئی مشکل کام نہیں.بس آپ کو تھوڑا پروفیشنل بننا ہوگا یعنی آپ کو ایسی مارکیٹنگ کرنی آنی چاہئے،بالکل” گنجوں کو کنگھی” بیچنے جیسی. اسکے لیے آپ کو چناؤ کے دوران، سیاست کے کسی ماہر تھنک ٹینکرسے، چند چناوی جملے سیکھنے ہوں گے. الیکشن کے بعد آپ چاہیں تو انہیں بے وفا محبوب کے وعدوں کی طرح بھول جاؤ. آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں. ہم نے کہا بھائی خدا نخواستہ ہم جیت گئے تو ہم پر بہت ساری ذمہ داری عائد ہو جائیں گی انکو ہم کیسے نبھاپائیں گے . انہوں نے کہا آپ کو کس احمق نے کہا کہ ذمہ داریاں نبھاؤں.. بلکہ یہ سب تو چناوی وعدے ہوتے ہیں اور وعدے بھی ایسے جنھیں کبھی وفا نہیں ہو نا ہو تا.ہمارا یہ اولین فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی فلموں کے گیتوں کو عملی جامہ پہنا ئیں.جیسے کہ :قسمیں وعدے، پیار، وفا سب… باتیں ہیں، باتوں کا، کیا..! ویسے آپ نہیں جانتے کہ جن ممالک کے عوام” جذبات ی” ہو ں ان ملکوں کے حکمرانوں کو حکومت کرنے میں کوئی “مشکل”سے بھی مشکل پیش نہیں آتی. آپ جیت کے بعد عوام کو ذات، دھرم، علاقے اور زبان جیسے مسئلوں میں الجھا کر اپنے کسی بھی گھوٹالہ اور اسکینڈل سے لوگوں کا دھیان ہٹا سکتے ہیں. اور ہاں..! قوم کے مستقبل کو یعنی ً نوجوان نسل کو تو آپ نیٹ کا فری ڈیٹا مہیا کروا کر .آسانی سے نیٹ کے جال میں الجها سکتے ہیں یا پھر دو حریف ملکوں کے درمیان کوئی ٹونٹی ٹونٹی کروا دیں .اس طرح ملک کا مستقبل کہے جانے والے نوجوان طبقہ کوتو آپ کبھی بھی بیوقوف بنا کر اپنا کوئی بھی برے سے برا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں. ہم نے کہا بھائی ایک طاقتور لیڈر کے لیے ہٹا کٹا لمبا تڈنگا با رعب ہونا اشد ضروری ہے. کیونکہ ایک تندرست جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہےاور ہمارا قد تو آپ ماشاءاللہ دیکھ ہی رہے جو ساڈھے چار فٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے. انھوں نے کہا” بھائی تاریخ شاہد ہے کہ کمزور و ناتواں قسم کے لیڈران نے اس میدان میں جو معرکے مارے ہیں وہ پہلوان قسم کے لیڈر نہیں مارپائے. مفلر باندھ کر، آج کوئی بھی سادھارن و مسکین سا دکھنے والا آدمی، عوام کی سچی ہمدردیاں حاصل کر نے میں نہ صرف کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ سی. ایم. بھی بن سکتا ہے ویسے مشاہدہ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کبھی کبھی 56 انچ کے سینے پر 26انچ کی معمولی چھاتی بھی بھاری پڑ جاتی ہے. بالکل ویسے جیسے شکار پر گیا شیر، کبھی کبھی خود شکار بن جاتا ہے”. ہم نے کہا پھر بھی سیاست میں اینٹری مارنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک لیڈر کی شخصیت پوری طرح صاف و شفاف ہو اس کے دامن پر ایک بھی داغ نہ ہو. انہوں نے کہا کہ “آج کل تو لیڈر ہی اسے تسلیم کیا جاتا ہے جس پر لوٹ مار قتل و غارت اور دھوکہ دہی کے درجنوں مقدمے چلتے ہوں. اتنی واضح اور روشن دلیلیں سن لینے کے بعد گویا ہم نے اپنے تمام ” ہتھیار ” ان کے قدموں میں ڈال دئے.اور اس طرح آخر کار. .ہم نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔

موبائل نمبر 9855259650 Email, Abbasdhaliwal72@gmail.com