اہل زبان نے اردو کی تدفین کے لئے اسے کفن پہنا کر تیار کردیا ہے

اہل زبان نے اردو کی تدفین کے لئے اسے کفن پہنا کر تیار کردیا ہے

محمد غزالی خان
ہندوستان میں اردو کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اردو بولنے والوں نے خود کی ہے اور کررہے ہیں۔ پہلے تو اردو لکھنا پڑھنا یہ کہہ کر چھوڑا کہ اسکولوں میں اس کی سہولت نہیں ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسے یوں ’تیاگ‘ دیا جیسے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا پچاس ، ساٹھ یا ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کے لئے اردو پڑھنے کی کچھ زیادہ آسانیاں تھیں؟ اگر اس وقت کچھ زیادہ سہولیات تھیں اور اب نہیں ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے اور انہیں بچانے کے لئے کون سی عملی کوششیں کی گئیں؟ جن ریاستوں میں اردو بولی جاتی ہے وہاں اس جماعت کی ان سے کیوں غلامی کروائی جاتی رہی جس نے فسادات میں ان کے قتل عام سمیت ہر اس چیز کو برباد کردیا جس کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مسلمانوں اور ان کی امتیازی شناخت سے تھا؟
ساٹھ کی دہائی میں ہمارے بچپن تک یوپی میں اردو میڈیوم اسکول موجود تھے۔ پہلی کلاس سے پانچویں تک تعلیم ہم نے خود اردو زبان میں میں حاصل کی تھی ۔ مسلم علاقوں میں جتنے پرائمری اسکول تھے ان میں ایک ہی کلاس میں اردو اور ہندی کے طالب علم موجود ہوتے تھے مگر استاد کی سہولت کے لئے دو حصوں میں بیٹھتے تھے۔ نصاب کی تمام کتابیں اردو میں ہوتی تھیں۔
انتہا تو یہ ہے کہ آپ اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ جن اردو الفاظ کو ہندی والے بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ان تک کے لئے آپ سنسکرت کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ’صرف‘ کے لئے ’کیول‘، ’مشکل‘ کے لئے ’کٹھن‘ وغیرہ۔ پتہ نہیں یہ ہندی بولنے والے لوگوں تک اپنی بات پہچانے کی کوشش ہے یا اردو کے ساتھ دشمنی۔
اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ اردو پڑھنا لکھنا تو بہت دورکی بات ہے، جس طرح اردو داں لوگ یو ٹیوب کلپس، ٹیلی ویژن مباحثوں اور تقاریر میں ہندی بولتے نظرآتے ہیں وہ تو اوربھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اس جانب توجہ دلائی جاتی ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ غیراردو داں لوگ گفتگو کوباآسانی سمجھ سکیں۔
اس بیماری میں اسی کی دہائی میں ہندوتوا لہر کے بعد مزید شدت آئی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی میں اردو داں اور غیراردو داں افراد کے درمیان بات چیت نہیں ہوتی تھی؟ کیا اس وقت وہ آپ کی بات نہیں سمجھتے تھے؟ اسدالدین اویسی سے آپ کو بہت سے مسائل اور موضوعات پر اختلاف ہو سکتا ہے، اور ہمیں بھی ہے، مگر کیا پارلیمنٹ میں ان کی بات کسی کو سمجھ میں نہیں آتی؟ اللہ تعالیٰ دلیپ کمار (یوسف خان) صاحب کی مغفرت فرمائے، یو ٹیوب پر ان کی کوئی تقریر ایسی نہیں جو اردو میں نہ ہو۔ ہر تقریر لاکھوں نے دیکھی اور سنی ہے۔ کیا وہ سب بغیر سمجھے سن رہے ہیں؟ ہندوستان میں پاکستانی ڈرامے نہایت شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ (میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر وہ ہندوستانی چینلوں پردکھائے جانے لگیں، مقبولیت میں وہ ہندوستانی ڈراموں کو پیچھے چھوڑ دیں گے) جو لوگ انہیں دیکھتے ہیں کیا وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتے؟ اور اگر آپ کی یہ منطق مان بھی لی جائے کہ ہندی داں لوگوں کی آسانی کے لئے آپ سنسکرت میں ڈوبی ہوئی ہندی بولتے ہیں تو کیا آپ اردووالوں تک اپنی بات پہنچانے میں ناکام نہیں ہورہے ہیں؟
اصل بات یہ ہے کہ آپ نے ہر لحاظ سے ہار مان لی ہے اور ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ حکمران قوم سے ذہنی مرعوبیت کا نتیجہ ہے۔ اس کا منفی اثر شاید ہمارے سامنے پوری طرح نہ آئے مگر آئندہ نسلوں کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی بلکہ اس کے اثرات ہم آج دیکھ بھی رہے ہیں جس میں نئی نسل اردو کو بطور مضمون نہیں لینا چاہتی ، انھیں اردو مشکل اور ہندی آسان لگتی ہے۔
میرے ہم عمر لوگوں کو یاد ہوگا کہ اسی کی دہائی تک آل انڈیا ریڈیو سے خبروں کا ایک بلیٹن نشر ہوتا تھا اور ’تعمیل ارشاد‘ کے نام سے گانوں کا ایک فرمائشی پروگرام نشرہوا کرتا تھا۔ اردو کی خوبصورتی اور اس پروگرام کے میزبانوں کا خاص انداز، جن میں ایک نام شاید زبیررضوی صاحب مرحوم کا تھا، اتنا مقبول تھا کہ یہ پرگرام غیراردو داں لوگ ذوق و شوق سے سنتے تھے۔ اس وقت کسی بھی گلی یا بازارسے رات دس بجے سے ساڑھے دس بجے کے درمیان گزرجائیے اگر کہیں ریڈیو آن ہوتاتو اس پر آل انڈیا ریڈیو کا ’تعمیل ارشاد‘ پروگرام نشر ہورہا ہوتا تھا۔
ہمیں یاد نہیں کہ اسی کی دہائی تک (میں سن ۸۳ میں میں لندن آگیا تھا) کسی اردو بولنے والے گھرانے میں ہم نے کسی کو ’وزیر‘ کے لئے ’منتری‘ ، ’خبروں‘ کے بجائے ’سماچار‘، ’فساد‘ کےلئے ’دنگا‘ یا ’غدار‘ کے لئے ’دیش دروہی‘ کہتے سنا ہو۔ مگراس وقت کا حال یہ ہے کہ اگردینی مسائل زیربحث نہ ہوں اور بات عام مسائل پرہورہی ہو تو یہ فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ مقرر کی زبان اردو ہے یا ہندی۔ بڑے بڑے علما ء اور دانشوراچھی خاصی گفتگو میں زبردستی ہندی کے الفاظ اس طرح ٹھونس ڈالتے ہیں جس طرح بہت سے لوگوں کو محض جھوٹا رعب ڈالنے کی خاطرانگریزی الفاظ استعمال کرنے کی بیماری ہوتی ہے۔ انگریزی کا استعمال تو اس لئے قابل معافی ہوسکتا ہے کہ بہت سے الفاظ کے لئے بعض وقت مناسب اورعام فہم لفظ نہیں ملتے ۔ مگرجن الفاظ کے لئے اردو میں خوبصورت الفاظ موجود ہیں وہاں زبردستی ہندی یا انگریزی کے الفاظ ٹھونسنے کی عادت کو زبان کے ساتھ زنابالجبر کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اب اردو اخبارات میں بھی اس قسم کے الفاظ دھڑلے سے استعمال ہو رہے ہیں اور اسے کوئی معیوب بات نہیں سمجھا جا رہا ہے ۔ ہندی کے اخبار یا ہندی کے نیوز چینل غلط اردو استعمال کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اردو کے صحافی جب غلط زبان لکھتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے۔ یہاں پر اس کا موقع نہیں ہے کہ مثالیں دیکر ایک ایک کی نشاندہی کی جائے لیکن آپ کوئی بھی اردو اخبار اٹھا کے دیکھ لیجئے اس میں ہندی الفاظ کا بے جھجک استعمال ملے گا ۔ اگر اردو میں اس کا متبادل نہ ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اردو میں وہ الفاظ موجود ہوں اور اس کی جگہ ہندی لکھی جائے تو یہ قطعاً غیر مناسب ہے ۔
اس تعلق سے اس تاریخی حقیقت کو بیان کرنا غیرضروری نہیں ہوگا کہ 1971 کی مردم شماری کے مطابق اردو بولنے والوں کا تناسب یو پی میں 10.5% بہار میں 8.8% آندھرا میں 7.5% ، کرناٹک میں 9.0% اور مہاراشٹر میں 7.3% تھا۔ ملک بھر میں مختلف تحریکیں چلائے جانے کے بعد (جس میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی چلائی گئی دستخطی مہم شامل ہے جو 1967 میں صدر مملکت بھی بنے اور اردو سمیت کسی بھی ملی معاملے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکے)۔ مسلمانوں کو لالی پاپ دینے کیلئے 1972 میں مسز گاندھی نے اردو کے فروغ کیلئے گجرال کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے 1975 میں اپنی رپورٹ پیش کردی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ جن شہری علاقوں میں اردو بولنے والوں کا تناسب 10% سے زیادہ ہو وہاں پر اردو میڈیم پرائمری اسکول قائم کئے جائیں اور جن ریاستوں کی زبان ہندی ہے وہاں پر اسکولوں میں سہ لسانی فارمولے کا نفاذ کیا جائے جس کے تحت اسکولوں میں ہندی کے ساتھ ساتھ اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جانا شامل تھا۔ مگر یہ رپورٹ بابو جگ جیون رام جیسے کہنہ مشق سیاست داں کے اصرار پر دبادی گئی اور اس کی وجہ سے پرائمری اسکولوں میں اردو بولنے والے طلبا کی تعداد اور اردو اخبارات کی تعداد میں زبردست تنذ لی آئی۔
گزشتہ مردم شماری میں ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد میں کمی آئی تھی۔ اگلی مردم شماری میں اس کمی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ ہندوستان میں کئی ہزارسال تک غیرملکی حکمرانوں اور سرکاری زبان ہندی نہ ہونے کے باوجود ہندی آج جہاں ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ عبرانی تو ایک مردہ زبان تھی۔ اسرائیل وجود میں آجانے کے بعد ایک مردہ زبان کو جس طرح زندہ کیا گیا اور ایک ملک کی سرکاری زبان بنادیا گیا وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ مگر ہندوستان کی ایک ایسی قوم جسے صرف زبانی حد تک اپنے ’شاندار ماضی‘ پر فخر ہے اور نامساعی حالات میں اپنے ورثے اورشناخت کا کامیابی کے ساتھ دفاع پر ناز ہے اس کے 6 کروڑ اردو بولنے والے طبقے نے رسم الخط کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ تو کیا ہی ہے مگر اب بولی جانے والی اردو کو جس طرح دفن کرنے کے لئے نہلا دھلا کر کفن پہنا کر تیارکردیا ہے وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔

ایک دور تھا جب کہا جاتا تھا کہ ہندوستان میں اردو بالی ووڈ کی وجہ سے زندہ ہے۔شکر ہے اس خام خیالی یا خوش فہمی کو انہوں نے باقی نہیں رہنے دیا۔ اس وقت حقیقت یہ ہے کہ جیسی کیسی اردو ہندوستان میں باقی ہے وہ مدارس اور مکاتب کی وجہ سے باقی ہے۔ مگر جس قسم کی اردو فارغین مدارس کی اکثریت سوشل میڈیا پر لکھ رہی ہے وہ بھی بہت اطمینان بخش نہیں ہے۔ زبان کے ساتھ جو تاریخی اور ثقافتی ورثہ دفن ہونے جارہا ہے کاش ہمیں اس کا اندازہ ہو سکے اور کاش اس سلسلے میں ٹھوس تدابیر کی جاسکیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *