Category: زبان و ادب

  • نظم اویسی بول رہا ہے

    نظم اویسی بول رہا ہے دلت مسلم کے دل کا پیار جگا دو بڑھ کے اب بھی یار گرا دو نفرت کی دیوار بنا دو جنگل کو گلزار سمئے پٹ کھول رہا ہے اویسی بول رہا ہے یہ فرضی سیکولر سرکار کرے نفرت کا کاروبار مسلماں غربت سے دوچار دلت پر ٹوٹے اتیاچار سمئے پٹ…

  • بیمار قوم پرستی کی علامت کیوں بن گئے جوہر؟

    محمد علم اللہ  کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کا نقش آپ کے ذہن پر کنداں ہوجاتا ہے اور پھر وہ مٹائے نہیں مٹتا۔ اُنھی میں سے ایک مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں پہلی مرتبہ کب اور کیا سنا؟ لیکن…

  • اردگانِ ہند اسد الدین اویسی

    فضیل احمد ناصری الہیٰ! بھیج دے ملت کو کوئی راہ داں اپنا حوادث کی طرف ہےجادہ پیما کارواں اپنا نظرترچھی کیےبیٹھےہیں ہم پرپھرصنم خانے ابولہبی شراروں کی ہے زد میں آشیاں اپنا زمانہ پیکرِ تصویر ہے الکفر ملۃ کی نہیں بزمِ جہاں میں کوئی یارب مہرباں اپنا سبب ویرانیوں کا بن گئیں آزادیاں اپنی مٹا…

  • غزل

    غزل  وفا کرنا، سِتم سہنا نہیں ہے مُجھے اَب اور کُچھ کَہنا نہیں ہے بَھلا میں کیوں تُمہارے خواب دیکھوں تُمہارے ساتھ جب رہنا نہیں ہے مری آنکھیں حقیقت آشنا ہیں خیالی موج میں بہنا نہیں ہے ِشِکایت کیوں تُجھے ہے دوسروں سے شرافت جب تِرا گہنا نہیں ہے نہیں ہو جِس میں رخشاں اُس…

  • نزار قبانی: جدتِ افکار اور جرأتِ اظہار کا استعارہ!

    نایاب حسن امتیاز: معروف عربی شاعر نزارقبانی کا عملی دورانیہ بیسویں صدی کے نصفِ ثانی کو محیط ہے،ان کے اشعار،نقوشِ فکر اور ان کے رنگارنگ تخیلات مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہورہے ہیں، نزار قبانی 30؍ اپریل 1998ء کو وفات پاگئے، مگر ان کا ادبی،شعری و تخلیقی کارنامہ اپنی قوت و…

  • انقلابی شاعر قاضی نذرالاسلام کے آستانے پر حاضری: احتجاج اور روحانیت کی نغمگی

    صفدر امام قادری کسی ملک ارو قوم کے اس جذبے کو پہچاننا ہو کہ یہ اپنے اسلاف کو کس محبّت اور چاؤ سے یاد رکھتی ہے تو اس کے کُتب خانوں ، عجائب گھر اور قومی یادگاروں کو دیکھ لینا کافی ہوتا ہے۔قدیم تاریخ کے بطن سے اپنے عہد کے لیے تازہ لہوحاصل کر کے…

  • غزل مجھ کو عذاب جاں نے سنبھلنے نہیں دیا توبہ کا در کھلا تھا نکلنے نہیں دیا

    غزل مجھ کو عذاب جاں نے سنبھلنے نہیں دیا توبہ کا در کھلا تھا نکلنے نہیں دیا اشکوں کے لالے پڑگئے مجھ کو تمام شب خود کو جو ایک شام پگھلنے نہیں دیا ہنستے ہوئے لبوں نے تو چاہا تھا چومنا کمبخت اجنبی نے مچلنے نہیں دیا بیٹھا رہا میں بزم تمنا میں مستقل جوش…

  • غزل

    غزل کبھی صورت دکھاتا ہے، کبھی پردہ گراتا ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے کہ میرا دل جلاتا ہے نہیں ممکن حقائق کا چھپا لینا محبت میں ہر اک اظہاریہ سچ بولتا نغمہ سناتا ہے ترے پہلو میں وہ تسکین قدرت نے عطا کی ہے جسے پاکر تہہ دل سے مرا غم مسکراتا ہے…

  • غزل تِرے چہرے سے نظر اپنی ہٹا لوں کیسے جوشِ بےتاب نگاہی کو سنبھالوں کیسے

    غزل تِرے چہرے سے نظر اپنی ہٹا لوں کیسے جوشِ بےتاب نگاہی کو سنبھالوں کیسے کچھ حسیں خواب سنجوئے تھا محبت کے لیے لوگ کہتے ہیں دٙبا لو تو دبالوں کیسے کبھی خوشیوں میں بسر ہوتا تھا پٙل پٙل میرا زندگی اب میں تجھے غم سے نکالوں کیسے شوخ چہرے کی تمازت میں غزل لکھی…

  • محمد مختار وفا: جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی امتزاجی آواز

    صفدر امام قادری یادش بخیر! ہمارے اسکولی تعلیم کی ابتدا کا زمانہ تھا۔ ہمارے بڑے بھائی کے دوست احباب بھی فطری طور پر ہمارے سرپرست اور نگہبان ہوتے تھے۔ جے پرکاش نرائن کی قیادت میں ۴۷۹۱ءکی تحریک زوروں پر تھی۔ چھٹی جماعت میں پڑھنے کے دوران ۶۱مارچ ۴۷۹۱ءکا دن یاد ہے۔ بہت سارے تحریک کار…