شیر میسور کے دیار میں (چھٹی قسط)

شمس تبریز قاسمی 

(گذشتہ سے پیوستہ )
تاریخی روایات کے مطابق 1990 کی دہائی میں ملک کے حالات بہت زیادہ دگر گوں تھے، خوف اور ڈرکا ماحول تھا، فرقہ پرست عناصر بے لگام ہوکر مسلمانوں کو مسلسل ٹارگٹ کررہے تھے۔ حالات کی سنگینی کا مشاہدہ کرتے ہوئے عظیم مفکر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک خاکہ تیار کیا اور مسلمانوں کو سیاسی، سماجی و معاشی سطح پر بیدار کرنے کیلئے ایک ایسا پلیٹ فارم دینے کا منصوبہ بنایا جہاں کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر تمام مسلمان جمع ہوسکتے ہیں، ہر ایک کیلئے داخلہ ممکن ہو، جہاں مسلک، علاقائیت اور مدرسہ و اسکول کی کوئی قید نہ ہو ۔ چناں چہ نومبر 1992 میں ہندوستان کے تاریخی شہر میسور میں اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔ ملک بھر میں مسلمانوں کو متحد کرنے، ان میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور حکومت تک ان کی آواز پہونچانے کی کوشش کو عملی شکل دی گئی۔ اسی تاریخ شہر سے ملی کونسل کے کاروان آزادی کا قافلہ نکلا، تقریباً 1400 افراد پر مشتمل کاروان آزادی کا یہ قافلہ ملک کے مختلف شہروں، حصوں اور علاقوں میں گیا، عوام میں سیاسی و سماجی بیداری پیدا ہوئی، اپنے حقوق حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اور حکومت وقت نے اس تحریک کا اثر قبول کیا ۔ کاروان آزادی نے مسلمانوں کے درمیان سیاسی شعور بیدار کرنے اور ہمت و حوصلہ پیدا کرنے میں خصوصی کردار نبھایا۔2001 میں پارلیمٹ پر ہوئے حملہ کے تناظر میں جب پوٹا 2002 ایکٹ لایاگیا، ملک بھر سے ہزاروں مسلمانوں کے اس ایکٹ کی پاداش میں دہشت گردی کا الزام عائد کرکے گرفتار کرلیا گیا، پورے ملک میں خوف و ہراس اور تشدد کا عالم تھا، ہر طرف گھبراہٹ تھی، اس ماحول میں بھی آل انڈیا ملی کونسل نے ملک گیر تحریک چلائی، پورے ملک اور عوام میں بیداری پیدا کی، مختلف شہروں میں احتجاج، پروگرام اور دیگر کام کرکے حکومت پر اس قانون کو ختم کرنے کا شدید دباﺅ بنایا۔ ملی کونسل کی یہ کوشش رنگ لائی اور 2004 میں کانگریس کے بر سر اقتدار آنے کے فوراً مرکز کی یوپی اے حکومت نے Prevention of Terrorism Act , 2002 کو ختم کردیا ۔ جس کے بعد ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں نے راحت کی سانس لی۔ جیل میں بند 60 ہزار مسلمانوں کو رہائی ملی۔ اس سے قبل 1985 میں ٹاڈا قانون بناتھا جس کے تحت بھی ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی عوام کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں میں بھیج دیا گیا تھا، گرفتار ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، ایک عام تاثر یہ ہوگیا تھا کہ یہ قانون مسلمانوں کو جیل بھیجنے کیلئے ہی بنایا گیاہے۔ اس ٹاڈا قانون کے خلاف بھی ملی کونسل نے قائم ہونے کے بعد زو ر دار تحریک چلائی ، مختلف علاقوں و شہروں کا دورہ کیا بالآخر 1995 میں مرکزی حکومت نے یہ قانون واپس لے لیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں ٹاڈا اور پوٹا کو سیاہ قانون کی حثیت سے جانا جاتا ہے، اس دونوں قانون کے نفاذ کے بعد مسلمانوں کی گرفتار ی عام ہوگئی تھی، سرعام دہشت گردی کے الزام میں مسلمانوں کو گرفتار کرلیا جاتا تھا، سرعام ان پر تشدد ہوتا تھا، آل انڈیا ملی کونسل کی قیادت نے زوردار اور پر اثر تحریک چلاکر حکومت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا اور یہ دوقانون مرکزی حکومت کی جانب سے واپس لئے گے۔ ملی کونسل کے 25 سالہ سفر کی خدمات طویل ہے جس میں ملت کے درمیان اتحاد قائم کرنے کیلئے کی گئی کوشش سب سے اہم ہے ۔چند سال قبل ملی کونسل نے بنگلور میں ایک اجلاس کرکے میثاق اتحاد کا اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں مشترکہ امور پر تمام ملی تنظیموں، مسلکوں، جماعتوں اور مسلمانوں سے متحد ہونے کی اپیل کی گئی تھی، وہ میثاق اتحاد ہندوستان کی فضاء میں بے پناہ اہمیت کا حامل ہے اور جب بھی کوئی مسلکی اختلاف سامنے آتا ہے تو لوگ اس نزاع سے بچنے کیلئے اسی میثاق اتحاد کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔
25 سال مکمل ہونے پر آل انڈیا ملی کونسل نے اسی تاریخ شہر میں سلور جبلی منانے کا فیصلہ کیا جہاں سے اس کی شروعات ہوئی تھی، سلور جبلی تقاریب میں آل انڈیا ملی کونسل نے سابقہ روایات کے ساتھ ایک نئی راہ اپنائی، منفر د اور دل کو چھولینے والے پروگرام کا انعقاد کیا۔ نوجوانوں او رطلبہ کے لئے ایک علاحدہ نشست منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوانوں نے بصد شوق شرکت کی، ملی کونسل سے جڑنے کا عندیہ ظاہر کیا ، اس مشن کو آگے بڑھانے اور مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کاعزم مصمم کیا۔ علماء اور ائمہ کیلئے علاحدہ ایک نشست منعقد کی گئی جس میں ضلع میسور کے علماء و ائمہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی، ملی کونسل کی دستور بچاﺅ۔ دیش بناﺅ تحریک کو ہر فرد کی آواز بنانے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ائمہ و علماء نے اپنا تعاون دینے کا وعدہ کیا۔ سلور جبلی تقاریب میں خواتین کیلئے ایک علاحدہ نشست رکھی گئی جس میں خواتین کے مسائل پر بحث کی گئی ، وکلاءکی ایک علاحدہ نشست منعقد کی گئی جس میں 9 ریاستو ں کے وکلاءنے شرکت کی ، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور آل انڈیا ملی کونسل کے سینئر رکن ظفر یاب جیلانی نے اس نشست کی صدارت کا فریضہ انجام دیا۔ چار روزہ جشن میں مزید رنگ بھرنے کیلئے انتظامیہ نے ادبی تقریب اور کل ہند مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا ۔ اس کے علاوہ حسب روایات مجلس عاملہ اور مجلس علمی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کئی اہم فیصلے لئے گئے ، ملک کی موجودہ صورت حال پر کھل کر اراکین نے بحث کی ، ایک جامع حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا ۔ ملک کی بدلتی تصویر کو سامنے رکھنے کیلئے طویل مدتی منصوبہ پر غور کیا گیا اور تیار کئے گئے میسور اعلامیہ پر سبھی اراکین نے اتفاق کیا جسے 25 فروری کے اجلاس عام میں پڑھ کر سنایاگیا ۔میسور اعلامیہ میں مختلف تنظیموں ، این جی اوز اور دیگر اہم ترین شخصیات سے ظلم اور ناانصاف کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی گئی۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے تعاون کرنے کی درخواست کی گئی ۔ میسور اعلامیہ میں یہ بھی کہاگیا کہ آل انڈیا ملی کونسل ملت اسلامیہ کے سبھی افراد، قائدین کو متوجہ کرتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ ہم سب صحیح سمت میں سفر کریں، تربیت سازی پر توجہ دیں، آنے والے چند مہینے اس ملک کیلئے بہت اہم ہیں اس لئے اتحاد و یکجہتی کو پیش نظر رکھیں۔
اولین مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کے شہر میں ایک مرتبہ پھر ایک تاریخ مرتب ہوئی ہے، مشکل وقت میں وہاں سے ملی کونسل نے تمام مسلمانوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ساتھ لیکر مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے اور وقت کے فرعونوں سے ٹکر لینے کا عہد کیا ہے، امید نہیں یقین ہے کہ اس کا بہتر نتیجہ مرتب ہوگا، مسلمانوں کے درمیان حوصلہ اور اعتماد کی فضاء بحال ہوگی اور میسور اعلامیہ سے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک نئی راہ ملے گی ۔
اہلیان میسور نے مہمانوں کی شاندار ضیافت کی، طعام و قیام سمیت تمام امور میں شاندار میزبانی کا فریضہ انجام دیا۔ مجلس استقبالیہ کے صدر کرناٹک کے ریاستی وزیر جناب تنویر سیٹھ ہر وقت مہمانوں کی خدمت میں مصروف نظر آئے، ہر طرح کی سہولت پہونچانے کی کوشش کی ، اپنے والد مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملی کونسل کی ضیافت کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، ان کے ساتھ اس جشن کو کامیاب بنانے مین سبھی طبقہ کی ایک بڑی ٹیم شامل تھی جس میں وہاں کے کارپوریشن لیڈر جناب شوکت کے پاشا، ہمارے سینئر دوست جناب جمیل احمد، محمد احتشام، مولانا سلمان خان سمیت کئی اہم نام ہیں ۔ پورے اجلا س کی کامیابی کا سہرا مولانا مصطفی رفاعی کو جاتاہے جنہوں نے اجلاس کو کامیاب بنانے میں کوئی کسری نہیں چھوڑی اور ان کی کوششوں سے واقعی سلور جبلی منائی گئی ۔
آل انڈیا ملی کونسل کی اس سلورجبلی کے موقع پر ملک و ملت کی کئی اہم شخصیات سے ملاقات کرنے کا اتفاق ہوا ، ہوٹل رجنٹا میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیرمین جناب ای ابوبکر، بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے چیرمین ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی، آل انڈیاملی کونسل کے صدر مولاناحکیم عبد اللہ مغیثی، جنر ل سکریٹری اور آئی او ایس کے چیرمین جناب ڈاکٹر محمد منظو رعالم، نائب صدر ڈاکٹر یاسین علی عثمانی ، ریاست کے وزیر تعلیم ، وزیر اقلیتی امور جناب تنویر سیٹھ سے ملٹ ٹائمز کیلئے خصوصی انٹرویو لینے کا اتفاق ہوا، خصوصی ملاقات ہوئی اور ٹیپو سلطان کی سرزمین پر ملت ٹائمز کیلئے یہ سب کرتے ہوئے بے پناہ خوشی ملی ۔(جاری)

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں