Category: مضامین و مقالات

  • باتیں امن کی: آنچل کو پرچم بنا لینے کی مہم

    باتیں امن کی: آنچل کو پرچم بنا لینے کی مہم

    سہیل انجم مجاز نے اپنی ایک نظم میں ایک نوجوان خاتون سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا آج کی بیدار مغز خواتین نے اپنے آنچل کو پرچم بنالینے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ یہ…

  • کیا کشمیر میں صحافت ’ جرم ‘ کا درجہ اختیار کر چکی ہے؟

    کیا کشمیر میں صحافت ’ جرم ‘ کا درجہ اختیار کر چکی ہے؟

    افتخار گیلانی کشمیر ی صحافیوں کی حالت زار: آخر یہ جانبداری کب تک؟ پچھلے ہفتے جب نوجوان کشمیری صحافی آصف سلطان کی پابجولاں تصویریں سوشل میڈیا پر گشت کر رہی تھیں، تو امید بندھی تھی کہ اظہار رائے کی آزادی کے علمبردار اس کا نوٹس لیکر کشمیر کی صحافتی برادری کے ساتھ بطور ہمدردی ہی…

  • پٹرول ڈیزل اسیّ پار، کہاں گئی جملہ سرکار

    پٹرول ڈیزل اسیّ پار، کہاں گئی جملہ سرکار

    ڈاکٹر سلیم خان   اونٹ جب پہاڑ کے نیچے آتا ہے تو اس کو دال آٹے کا بھاو پتہ چل جاتا ہے۔ بی جے پی والے جب اقتدار سے دور رہتے ہیں تو ان کو کبھی مندر یاد آتا ہے تو کبھی مہنگائی یاد آتی ہے۔ یہ لوگ کبھی بیروزگاری کامسئلہ اٹھاتے ہیں تو کبھی بدعنوانی…

  • نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

    نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

    ڈاکٹر سلیم خان   غالب کا محبوب نکتہ چیں تھا اس لیے وہ بیچارہ اپنا غم دل نہیں سنا پاتا تھا۔ عاشق صادق اپنی کم مائیگی کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ ’کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے‘۔ اسی کے ساتھ غالب کا یقین کامل بھی ملاحظہ فرمائیں ’یارب نہ وہ سمجھے ہیں…

  • رحم … میرے وطن پر  رحم میرے اللہ !

    رحم … میرے وطن پر رحم میرے اللہ !

    ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز اے پاک پروردگار! تمام حمد و ثناء آپ ہی کے لئے۔ آپ کا لاکھ لاکھ احسان و شکر ہے کہ آپ نے انسان بنایا اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بناکر اس سرزمین پر پیدا کیا جہاں سے میر عرب ا کو ٹھنڈی ہواؤں کا احساس ہوا…

  • دست بستہ شہر میں کھولے میری زنجیر کون 

    دست بستہ شہر میں کھولے میری زنجیر کون 

    عابد انور  ملک میں جس قدر ان پڑھوں، مجرموں، فسادیوں،قاتلوں،گھپلے بازوں، بدعنوانوں، اشتعال انگیزی کرنے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کا بول بالا ہے اس کی مثال گزشتہ حکومتوں اور دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی۔ اچھے برے حکمراں ہر دو ر میں ہوئے ہیں جنہوں نے عوام کے ساتھ ظلم کے پہاڑ توڑے…

  • باغپت کا واقعۂ ارتداد ہمارے لیے عبرت کیوں نہیں؟

    باغپت کا واقعۂ ارتداد ہمارے لیے عبرت کیوں نہیں؟

    ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی 2014 کے بعد ہندوستان کی سیاست میں زبردست تبدیلی رونما ہوئی ہے، جس کی وجہ سے فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں اور انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نیست ونابود کرنے کی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔…

  • دفعہ 377 اور 497 کا خاتمہ دراصل ہندوستانی تہذیب کا خاتمہ ہے 

    دفعہ 377 اور 497 کا خاتمہ دراصل ہندوستانی تہذیب کا خاتمہ ہے 

    احساس نایاب مودی دور میں جس قدر تیزی سے ایک کے بعد ایک گھر توڑو قوانین عمل میں لائے جارہے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ ہندوستان میں بہت جلد خاندانی نظام کا پوری طرح سے خاتمہ ہوجائیگا، میاں بیوی کے رشتے کی کوئی اہمیت نہیں رہ جائے گی…

  • بہت دیر کردی

    بہت دیر کردی

       سیدہ تبسم منظور   سہیلیوں نے  دلہن بنی شازیہ کو گھیر رکھا تھا مگر وہ سب سکھیوں کے بیچ بھی خود کو اکیلا محسوس کر رہی تھی۔ ماریہ جو اس کی سب سے اچھی دوست تھی اس کی وجہ جانتی تھی۔ بہت سمجھایا بھی ہنسانے کی بھی کوشش کر رہی تھی پر جب دل…

  • مسجدیں اسلام کا لازمی اور اٹوٹ حصہ ہیں! 

    مسجدیں اسلام کا لازمی اور اٹوٹ حصہ ہیں! 

    مفتی اظہار الحق قاسمی ہندوستان کی عدالت عظمی کی طرف سے مورخہ: ۷۲/ستمبر۸۱۰۲ کوآئے ہوئے اسماعیل فاروقی کیس کے فیصلہ کے پیش نظر جس میںمسجد کے حوالے سے یہ کہا گیاہے کہ ” مسجد اسلام کالازمی حصہ نہیں ” کی مناسبت سے یہ ضروری ہوگیاہے کہ پورے ملک کے لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ…