Category: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
-

قربانی کی بجائے ضرورت مندوں کی اعانت!
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اکثر مذاہب میں اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق قربانی کا تصور رہا ہے ، یہودیوں کے مختلف تہواروں میں قربانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور بائبل میں متعدد مواقع پر اس کا ذکر موجود ہے ، یہاں تک کہ بعض وہ قومیں جو اپنے آپ کو ’…
-

وبائی صورت حال میں پیش آنے والے چند اہم مسائل (۲)
شمع فروزاں : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اعتکاف: رمضان المبارک کا ایک خصوصی اور اہم عمل اعتکاف ہے، یہ بھی سنت کفایہ ہے، یعنی اگر محلہ میں ایک شخص بھی اعتکاف کر لے تو تمام لوگ ترک سنت کے گناہ سے بچ جائیں گے: ثم اعتکاف العشر الأخیر سنۃ مؤکدۃ علی الکفایۃ (فتح باب…
-

وبائی صورت حال میں پیش آنے والے چند اہم مسائل (۱)
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی شریعت میں حلال وحرام، فرائض وواجبات اور ممنوعات ومکروہات کے احکام کا مقصد انسان کی تربیت، اہم تر مقصد کے لئے مشقت برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور خواہشات کی غلامی سے نکال کر اپنے مالکِ حقیقی کی بندگی میں داخل کرنا ہے؛ اس لئے بہت سی…
-

کورونا وائرس کی مصیبت اور خود احتسابی کی ضرورت! (۱)
شمع فروزاں : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی بعض کتابوں میں ایک تمثیلی حکایت ذکر کی گئی ہے کہ ایک جانور جنگل کے بادشاہ شیر کی بہت خدمت کیا کرتا تھا، اس کو کچھ عرصہ کے لئے دوسری جگہ جانے کی ضرورت پیش آئی، اس کا ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا، اس نے شیر سے…
-

تدبیر کے ساتھ رجوع الی اللہ بھی ضروری!
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی CAA قانون کے خلاف اس وقت پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے؛ لیکن حکومت سمجھتی ہے کہ اپنی ضد پر اڑا رہنا، رعایا کے جذبات کو کچل دینا اور آنکھ کان بند کر کے حکومت کرنا کمال کی بات ہے؛ اس لئے وہ ذرا بھی اپنے موقف…
-

سال نو! جشن کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا وقت ہے!
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ۲۰۱۹ء کا سال گذر چکا، ہم ۲۰۲۰ء میں ہیں، عام طور پر لوگ نئے سال کے آغاز کو ایک جشن کی صورت میں مناتے ہیں؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت افراد و اشخاص کے لئے بھی اداروں اور تنظیموں کے لئے بھی اور جماعتوں اورقوموں کے…
-

ترمیم شدہ قانون شہریت اور ہماری ذمہ دارایاں
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مسلمانوں کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ خود ظلم کرنے سے بچا رہے؛ بلکہ اپنی طاقت بھر ظلم کو روکنا اور انسانیت کو نا انصافی سے بچانا بھی ضروری ہے؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کسی برائی کا چرچا ، اس کا ذکر، اس کو…
-

بابری مسجد سے متعلق فیصلہ؛ تجزیہ اور لائحۂ عمل
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی بابری مسجد کا مقدمہ ہندوستان کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ ہے، جس نے انصاف کے لئے نہیں صرف فیصلہ کے لئے پون صدی کا وقت لے لیا، پہلا فیصلہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کیا، جس سے کسی فریق کو اطمینان نہیں ہوا، ریٹائرڈ ججس اور ماہرین…
-

بابری مسجد: انصاف کے انتظار میں (۲)
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کہا جاتا ہے کہ بابر نے اس مندر کو منہدم کر کے مسجد تعمیر کیا تھا؛ لیکن یہ بات تاریخی حقائق کی رُو سے قطعاََ ناقابل یقین ہے؛ کیوں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ بابر کبھی ایودھیا گیا بھی ہو، بابر نے خود ترکی زبان…
-

بابری مسجد: انصاف کے انتظار میں
شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی بابری مسجد کا مقدمہ اِس وقت آخری مرحلہ میں ہے، اور اندازہ ہے کہ نومبر کے دوسرے عشرے میں اس مقدمہ کا فیصلہ آجائے گا، یہ مقدمہ ہندوستان کی تاریخ کا شاید طویل ترین مقدمہ ہے، بابری مسجد مقدمہ کا آغاز دسمبر۱۹۴۹ء میں ہوا،جب ۲۲؍۲۳؍ دسمبر۱۹۴۹ء کی درمیان…