Category: شعر و شاعری
-
غزل
غزل سونا چاہت ہیرا من شہزادے کا عشق سراپا پیراہن شہزادے کا اس سے بڑھ کر کیا دولت کی چاہ کروں میرے پاس ہے سندر من شہزادے کا ان کو آنسو مت کہنا اچھے لوگو آنکھ میں اترا ہے ساون شہزادے کا ایک دعا ہی لب پر اٹکی رہتی ہے کبھی نہ چھوٹے اب دامن…
-
روز آتی فلک سے ہے پیہم صدا مغفر ت کے طلب گار مانگیں دعا
نظم ماہ رمضان ماہ رمضاں خدا کا اک انعام ہے ماہ رمضاں میں انساں کا اکرام ہے اس مہینے میں برکت بھی ہوتی ہے خوب اور نگاہِ کرم رب کی اٹھتی ہے خوب مغفرت کے سبھی باب کھل جاتے ہیں اور گنہ سارے بندوں کے دھل جاتے ہیں ہر عمل میں ہی اس سے سوا…
-
کب تک تنہا چُنتی جائے زخم رباب رکھ میٹھے لفظوں کے مرہم شہزادے
غزل یونہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے آ جا سکھ کے خواب بنین ہم شہزادے اپنے ہوش گنوا بیٹھی ہوں پھر سے آج سوچ رہی ہوں تجھ کو ہردم شہزادے شہزادی کے خواب عذاب نہ کر جانا ہو جاویں گی آنکھیں یہ نم شہزادے میری روح میں تیری یاد اترتی ہے ھولے ھولے مدھم…
-
ماں کی محبت
ماں کی محبت کسی کو ماں کا جب میں دل دکھاتے دیکھ لیتا ہوں تو دنیا اور عقبی کو اجڑتے …….. دیکھ لیتا ہوں سجایا ہے خدا نے جنتوں کو جس کے قدموں میں تڑپ اٹھتا ہوں جب اس کو میں روتے دیکھ لیتا ہوں دروغِ مصلحت آمیز ……….. اس کا یاد آتا ہے کبھی…
-
سوچ پہ جب ہوں چھائے پتھر
غزل سوچ پہ جب ہوں چھائے پتھر سوچ پہ جب ہوں چھائے پتھر نازک پھول ، نظر آئے پتھر جب جب حق کی بات کہی سب اطراف سے آئے پتھر سچ کہنانہ ،چھوڑے گا حق باطل لاکھ، برسائے پتھر چٹانوں سنگ،لڑتے بھڑتے ہاےء!انساں بن جائے پتھر آئینہ بنے، ہیں جب سے ہم لوگوں نے، برسائے…
-
غزل
غزل خوں رلانے سے کچھ نہیں ہوتا آزمانے سے کچھ نہیں ہوتا آنکھ سے داغ کب پڑا ہے میاں منہ دکھانے سے کچھ نہیں ہوتا خواب جیسی حسین دنیا میں آنے جانے سے کچھ نہیں ہوتا ہجر جب دل میں آ کے بس جائے ” دل لگانے…
-
غزل
غزل ساگر تیمی آنکھوں میں آہی جاتی ہے عبرت کا کیا کریں ہم سونے والے لوگوں کی غفلت کا کیا کریں اس بار پھر امیر شہر سے ٹھنی رہی ہم اپنی با شعور طبیعت کا کیا کریں پیسہ کمانے والوں سے زیادہ ہیں مطمئن ایمان والے لوگوں کی برکت کا کیا کریں شیرں زباں ندیم…
-
ماہ رخ آپ کیوں چھپاتے ہیں
غزل اظہارالحق اظہرؔ بستوی حیدرآباد انڈیا جو بھی جھونکے ہوا کے آتے ہیں حال محبوب کا بتاتے ہیں جب بھی تنہائیاں ستاتی ہیں شعر میرا وہ گنگناتے ہیں ہیں تحفظ کے جو یہاں ضامن دنگا وہ لوگ ہی کراتے ہیں حسن فطرت کا دیکھو نظّارہ پھول گلشن میں لہلہاتے ہیں ان کی قسمت میں ہے…
-
چھوڑ کر آئی ہیں خوابوں کی سواری آنکھیں
صدف اقبال ،گیا شب ہجراں کی اشاعت میں ہیں جاری آنکھیں چھوڑ کر آئی ہیں خوابوں کی سواری آنکھیں مجھ کو تعبیر کی صورت نظر آنے لگا تو سرُمۂ خواب سے جب میں نے سنواری آنکھیں دیکھ کر مجھ کو جلِا میں یہ تحیر کیوں ہے ظرفِ آئینہ پہ کیا ہو گئیں بھاری آنکھیں آپ…
-
بزم غزل کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر آن لائن بین الاقوامی مشاعرہ کا اہتمام
بہایا خون مظلوموں کا پانی کی طرح جس نے وہی اب فخر سے کہتا ہے ہندوستان میرا ہے پٹنہ16 اگست(پریس ریلیز) واٹس ایپ کے مشہور ادبی گروپ ’بزم غزل‘ کی طرف سے یوم آزادی کے موقع پر ایک شاندار آن لائن بین الاقوامی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس مشاعرہ میں ہندوستان سمیت دنیا بھر…