Category: شعر و شاعری

  • اپنا پیارا دیس ہمارا ہے اپنی پہچان ★ نہ تیرا نہ میرا دیکھ ہمارا ہندوستان

    فوزیہ رباب پیار محبت امن ترقی یہ ہے خواب ہمارا اللہ سوہنے پیاری دھرتی ہے احسان تمہارا اپنی اس دھرتی پہ اپنی جاں بھی ہے قربان نہ تیرا نہ میرا دیکھ ہمارا ہندوستان اک دوجے کا دکھ سکھ بانٹیں بانٹیں ہر سو پیار نفرت دل سے دور کریں ہم بن جائیں دلدار ختم کریں دل…

  • غزل حیراں ہوں کوزہ گر کے غمِ انہماک پر یوں رکھ دیا زمیں کو ہواؤں کی چاک پر طاقِ ابد پہ تھا مرا دیمک زدہ بدن ذرّوں میں انتشار ہوا اشتراک پر اتنا طویل تھا مرے وجدان کا سفر سورج کا جسم تان دیا شب کی خاک پر بخشوں گا کائنات کو تسکین کا لباس…

  • غزل

       غزل عظمتِ رفتہ کا آئینہ دکھانے نکلے  پھر مجھے لوگ مری یاد دلانے نکلے در بدر خاک اڑاتے ہیں وہ آشفتہ مزاج جو مری راہ میں دیوار اٹھانے نکلے جن کو ہم رند خرابات سمجھتے تھے بہت ان کے کشکول سے تسبیح کے دانے نکلے ہم سمجھتے تھے کہ وہ ویران جزیرہ ہوگا دل…

  • غزل

    غزل امن کی ہر ہاتھ میں قندیل ہو روشنی میں روشنی تحلیل ہو خوبیاں خوبی رہیں خامی نہ ہوں قلب کا موسم اگر تبدیل ہو حکمرانی کس کی جسم و جاں پہ ہے اور کس کےحکم کی تعمیل ہو اُن کے سینے میں کبھی دھڑکے یہ دل حدّتِ وحشت اُنھیں بھی ’ فیل ‘ ہو…

  • عید کی خوشی کیا ہوتی ہے ؟۔جانیئے مجید لاہوری کی اس خوبصورت نظم میں

    دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہے ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے مسرتوں کے خزانے دیئے خدا نے ہمیں ترانے شکر کے گانے کو عید آئی ہے مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے خوشا کہ شیر و شکر ہو گئے گلے…

  • غزل

    کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں کیسے دل کو ہم سمجھائیں آپ بتائیں آپ کہیں! میں بعد میں ہی اپنی کہہ لوں گی! آپ کہیں پھر بھول نہ جائیں، آپ بتائیں آپ کی اس اکتاہٹ کو اب ہم کیا سمجھیں؟ کیا اب ہم ملنے نہیں آئیں؟ آپ بتائیں آپ بنا اب کون ہمارے ناز…

  • ایک مکالماتی غزل باذوق احباب کی بصارتوں کے حوالے

    میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری وہ بولا مت بڑھاؤ بے کلی میری میں بولی شاہزادے مول کیا میرا وہ بولا شاہزادی زندگی میری میں بولی تیرگی ہر سو زیادہ ہے وہ بولا پھیلنے دو روشنی میری میں بولی ہجر میں کیسے جیوگے تم؟ وہ بولا رک نہ جائے سانس ہی میری میں…

  • غزل دیر تلک کیوں روٹھے روٹھے رہتے ہو کیا ملتا ہے جان جلا کر شہزادے؟

    غزل لوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے کیا ملتا ہے مجھ کو رلا کر شہزادے بولو کیسے خود کو اب تم روکوگے دل کی بے تابی کو بڑھا کر شہزادے کب تک اک اک لمحہ یوں ہی کاٹیں گے دیواروں کو درد سنا کر شہزادے کتنا روئی کیا تجھ کو معلوم نہیں؟ آج میں…

  • مشہور شاعرہ فوزیہ رباب کی غزل پر مشہور نقاد افتخار راغب کا تبصرہ

    افتخار راغب  سونا چاہت ہیرا من شہزادے کا عشق سراپا پیراہن شہزادے کا ▪▪▪ شدتِ جذبات و احساسات سے لبریز فوزیہ رباب صاحبہ کی یہ غزل پڑھ کر روح سیراب و سرشار ہو گئی۔ شہزادہ رباب صاحبہ کی شاعری کا محور سا بنتا جا رہا ہے۔ کئی غزلیں اور متفرق اشعار شہزادے پر آپ نے…

  • رمضان المبارک

    رمضان المبارک ہر دم ہے یہاں بارشِ فیضان کا عالم اللہُ غنی یہ مہِ رَمَضان کا عالم انوارِ مقدّس سے ہیں معمور فضائیں ہر سو ہے عیاں بندوں پہ احسان کا عالم روزے کی جزا جبکہ ہے اللہ تعالیٰ کیسے نہ ہو پھر اوج پہ ایمان کا عالم تقویٰ کی صفت سے رہیں معمور ہمیشہ…