Category: پروفیسر اختر الواسع

  • جمعیت علمائے ہند کا دوروزہ اجلاس اور اس میں پیش کی جانے والی نئی تجاویز؟

    جمعیت علمائے ہند کا دوروزہ اجلاس اور اس میں پیش کی جانے والی نئی تجاویز؟

    پروفیسر اختر الواسع جمعیت علمائے ہند جو ۱۹۱۹ میں قائم ہوئی تھی او ر اب تقریباً ۱۰۵ سال کا سفر طے کر چکی ہے، اس نے اس ۱۰۰ سال سے زائد عرصے میں تحریک آزادی، اسلامی روایات کی بقا ، اسلامی عائلی قوانین کے تحفظ اور اپنے تعلیمی بورڈ کے ذریعے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں…

  • پارلیمانی الیکشن،مسلمان اور اس کے بعد

    پارلیمانی الیکشن،مسلمان اور اس کے بعد

    پروفیسر اختر الواسع ۲۰۲۴ کے پارلیمانی الیکشن خیر و عافیت کے ساتھ اختتام کو پہنچے۔ اس الیکشن کی خوبی یہ تھی کہ اس میں چار سو پار کا نعرہ لگانے والی حکمراں جماعت معمولی اکثریت بھی حاصل نہ کر پائی۔ ایودھیا میں رام مندر کی پران پرتشٹھا کو لے کر حکمراں جماعت نے جو زور…

  • ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

    ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

    پروفیسر اختر الواسع آج کل ہندوستان میں جمہوریت کا جشن بہار ہےیعنی پارلیمنٹ کے الیکشن کے پانچ دور گزر چکے ہیںاور دو گزرنے باقی ہیں۔ شروع میں تو سب خیر سے گزرا لیکن دوسرے انتخابی دور میں کچھ ایسا لگنے لگا کہ حکمراں جماعت کے یہاں سب خیریت نہیں ہے اور وہ اپنی پارلیمانی اکثریت…

  • وطن کی فکر کر ناداں !

    وطن کی فکر کر ناداں !

    پروفیسر اخترالواسع  پچھلے کچھ دنوں سے ملک کے مختلف حصوں میں اس طرح کے واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں، آوازیں سنائی دے رہی ہیں، اقدامات کئے جا رہے ہیں، جس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ سب خیریت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اب فرقہ وارانہ جنون اس انتہا کو پہنچ چکا…

  • گفتگو ختم نہ ہو ۔۔۔

    گفتگو ختم نہ ہو ۔۔۔

    پروفیسر اختر الواسع  ہم ایک عرصے سے سرکار اور مسلمانوں دونوں پر یہ زور دیتے آئے ہیں کہ ان کے بیچ میں ایک مو¿ثر اور مثبت مکالمے کا آغاز ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہم برابر اس بات پر بھی زور دیتے آئے ہیں کہ مسلمانوں اور برادرانِ وطن کے درمیان بھی ایک خوشگوار ماحول میں…

  • مسلم پرسنل لاء: ایک بار پھر قانون کی زد میں

    مسلم پرسنل لاء: ایک بار پھر قانون کی زد میں

    پروفیسر اخترالواسع  حالیہ دنوں میں ملک کی عدالت عالیہ کے اندر پھر سے مسلم پرسنل لاء کے چند مسائل کو زیر بحث لانے کی راہ اختیار کی گئی ہے۔ان میں طلاق احسن، حلالہ اور تعدد ازدواج پر بحث متوقع ہے۔ یہ عجیب بد قسمتی ہے کہ ملک میں باشندوں کو در پیش بے شمار سنگین…

  • مدارسِ اسلامیہ پر آسام اور یوپی سرکاروں کی نظرِ عنایت !

    مدارسِ اسلامیہ پر آسام اور یوپی سرکاروں کی نظرِ عنایت !

    پروفیسر اخترالواسع  ایک دفعہ پھر مدارسِ اسلامیہ سرکاروں کی عناد کی پالیسی کا شکار ہیں۔ خصوصاً آسام میں وہاں کے وزیر اعلیٰ شری ہیمنت وشوا شرما کو مدارسِ اسلامیہ سے خدا واسطے کا بیر ہے یا پھر انہیں واقعی ہر مدرسہ دہشت گردی کا مرکزنظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض مدرسوں میں…

  • کچھ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور کے حوالے سے

    کچھ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور کے حوالے سے

    پروفیسر اختر الواسع   ایک بات جگ ظاہر ہے کہ مسلمان اس ملک میں تعلیمی اعتبار سے سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔ خود موجودہ حکومت بھی اس کی قائل ہے۔ آزادی کے بعد کچھ تو تقسیم وطن کے بداثرات اور کچھ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات نے مسلم قیادتوں اور جماعتوں کو اپنے وطن میں ہی…

  • فرقہ پرستی کے بڑھتے قدموں کو روکنے کی ضرورت!

    فرقہ پرستی کے بڑھتے قدموں کو روکنے کی ضرورت!

    پروفیسر اخترالواسع مدھیہ پردیش ہو یا اترپردیش، آسام ہو یا پھر تریپورہ، ہر جگہ مٹھی بھر فرقہ پرست سارے ہندوستان کو یرغمال بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو بلاوجہ اور بے موقعہ اپنی فسطائی اور فرقہ پرستانہ روش سے تکلیف پہنچانے اور ان کی کردار کشی کا کوئی موقعہ چھوڑنے کو تیار نہیں…

  • کاسٹ سینسس مسلم پسماندگی کا کھولے گا راز

    کاسٹ سینسس مسلم پسماندگی کا کھولے گا راز

    پروفیسر اختر الواسع ہندوستان میں کمزور طبقات کو پسماندگی کے منجدھار سے باہر نکالنے اور ان کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ذات پات کا نظام ہے۔ گو کہ آئین کے التزامات نے اس سسٹم کے شکار لوگوں کوراحت دینے کی سمت میں پیش رفت کی، لیکن ذات پر…