Category: پروفیسر اختر الواسع
-

ہم ہندوستان کو کدھر لے جانا چاہتے ہیں؟
پروفیسراخترالواسع نہ جانے کیوں جب صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن قریب آتے ہیں ہمارے سیاسی رہنماؤں کے دل و دماغ میں ایک بھونچال سا آ جاتا ہے اور وہ ایسے ایسے نادر خیالات کے بیج بوکر اپنے سیاسی عزائم کی کاشت کرنے لگ جاتے ہیں کہ جس کا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے اور یہ حاصل…
-

شری موہن بھاگوت کا بیان: دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؟
پروفیسر اخترالواسع راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ شری موہن بھاگوت نے دہلی میں ایک کتاب کی رسم اجراءکرتے ہوئے کچھ بڑی حقیقت پسندانہ اور معنی خیز باتیں کہیں۔ انہوں نے ماب لنچنگ کو ہندتو کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں کا ڈی این اے…
-

ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی: تعارف و توقعات
پروفیسر اخترالواسع ایران عالم اسلام کے ان چند گنے چنے ملکوں میں سے ہے جہاں 1979 میں اسلامی انقلاب کے برپاہونے کے بعد پابندی سے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ولایت فقیہ کے شیعہ عقیدے کے مطابق 1979-89 تک پہلے رہبر معظم امام آیت…
-

کورونا کے نئے اور خطرناک روپ: پرہیز علاج سے بہتر
پروفیسراخترالواسع کورونا کی وبا کا ایک دور ختم نہیں ہو پاتا کہ اگلے دور کی آمد آمد کا شور اتنا زور پکڑ لیتا ہے کہ ڈر اور خوف کا نیا ماحول انسانوں کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ گزشتہ سوا سال میں دنیا بھر نے کووڈ19- کی جو قہر سامانی دیکھی ہے اس نے…
-

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
پروفیسر اخترالواسع زندگی کی اگر سب سے اٹل سچائی کوئی ہے تو وہ موت ہے لیکن کچھ لوگوں کی موت ہمیں ہلا کے رکھ دیتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ایسا لگتا ہے کہ ہم صرف ماتم کرنے کے لیے ہی جی رہے ہیں۔ اپنوں میں سے کیسے کیسے اس دنیا سے چلے گیے اور…
-

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
پروفیسر اختر الواسع 8مارچ یعنی آج ہی کے دن دنیا بھر میں یومِ خواتین منایا جا رہا ہے۔ یومِ خواتین کی ان تقریبات کا مقصد ان تمام خواتین کی قدر شناسی ہے جنہوں نے اپنے اپنے میدانوں میں غیرمعمولی اعزاز و افتخار کے ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس طرح یہ تقریبات علامت…
-

مولانا آزاد کی تہذیبی و سیاسی بصیرت: آج کے تناظر میں
پروفیسر اختر الواسع مولانا آزاد (پیدائش مکہ مکرمہ ۱۱نومبر ۱۸۸۸:وفات دہلی ۲۲فروری ۱۹۵۸ء)کو تاریخ کے ایک ایسے لمحے میں پیدا ہوئے جب ساری دنیا ایک زبردست سماجی، اقتصادی، سیاسی اور تہذیبی کش مکش سے دو چار تھی۔ تاریخ و تہذیب کا ایک عہد ختم کر دوسرا دور شروع ہو رہا تھا۔ یہ اتھل پتھل سب…
-

جناب حامد انصاری کو تنازعات کے گھیرے میں لینے کی کوشش
پروفیسر اختر الواسع سابق نائب صدرِ جمہوریہ جناب حامد انصاری کی خود نوشت سوانح ابھی منظرِ عام پر آئی بھی نہیں کہ اس کو لے کر ایک واویلا مچا دیا گیا ہے اور یہ کا م ایک ٹی وی چینل کے نمائندے کے ذریعہ ہوا جس نے ہمیشہ تنازعات سے اپنے کو دور رکھنے والے…
-

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی: نئی صدی کے نئے سفر کا آغاز
پروفیسر اختر الواسع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے تقریباً ۴۴۱سال بعد اپنے بانی سرسید احمد خان کی اس روایت کو دوہرایا جس میں انہوں نے ۸جنوری ۷۷۸۱کو ایم اے او کالج کا سنگ بنیاد رکھتے وقت گورنر جنرل لارڈ لیٹن کے ذریعے علی گڑھ تحریک کی اہم چیزوں اور بعض نوادرات کو ایک کیپسول میں…
-

کیا خبر تھی یہ زمانے بھی ہیں آنے والے؟
پروفیسر اختر الواسع جو کچھ بھی پچھلے دنوں امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن ڈی سی میں دیکھنے کو ملا وہ ساری دنیا کے جمہوریت پسندوں کے لیے اعصاب شکن تھا تو دنیا کے تمام آمریت اور فسطائیت پسند حکمرانوں کے لیے اپنی بغلیں بجانے اور پیٹھ تھپتھپانے کا سنہری موقعہ تھا کیونکہ امریکہ کو اپنے تمام…