ہم ہندوستان کو کدھر لے جانا چاہتے ہیں؟

73

پروفیسراخترالواسع
نہ جانے کیوں جب صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن قریب آتے ہیں ہمارے سیاسی رہنماؤں کے دل و دماغ میں ایک بھونچال سا آ جاتا ہے اور وہ ایسے ایسے نادر خیالات کے بیج بوکر اپنے سیاسی عزائم کی کاشت کرنے لگ جاتے ہیں کہ جس کا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے اور یہ حاصل اس لئے نہیں ہوتا کیوں کہ ان کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ ابھی یوپی کے الیکشن قریب آئے ہی ہیں کہ لو جہاد ہو یا آبادی پر قدغن یا پھر اظہار رائے کی آزادی پر یک طرفہ پابندی ہو سب کی یاد ہمارے سیاسی قائدین کو ایک دم آنے لگی ہے۔ آسام میں مندروں کے پانچ کلومیٹر کے علاقے میں، ہندو، سکھوں اور سبزی خوروں کی اکثریت والے علاقوں میں گوشت بیچنے پر پابندی، آسام ہی میں مدارس کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش جیسے اعلانات و اقدامات کتنی نیک نیتی کا نتیجہ ہیں یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اس لئے کہ اگر ان سب کی کوئی عصری معنویت یا سماجی افادیت ہے تو اس کی یاد اب ہی کیوں آ رہی ہے؟ بی جے پی کی سرکار مرکز میں پہلے 1998 سے 2004 تک رہی اور پھر 2014سے تا ہنوز قائم و دائم ہے۔ یوپی میں بھی 2017 میں پہلی بار بی جے پی کی سرکار نہیں بنی بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار بی جے پی مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات، ہریانہ، کرناٹکا، چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ سمیت اترپردیش میں مسندِ اقتدار پر فائز رہ چکی ہے مگر اس نے اس سلسلے میں ان تمام امور پر کبھی قانون سازی کی بات نہیں سوچی۔
جہاں تک خاندانی منصوبہ بندی کا سوال ہے، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ خاندان کی بہبود ہی میں سماجی فلاح مضمر ہے لیکن زور زبردستی سے خاندانی منصوبہ بندی کے بجائے خاندان کے فروغ پر پابندی لگانا، اس کی تحدید کرنا یہ بالکل مناسب نہیں۔ سماج میں بچے کم پیدا ہوں، اس کا حل قانون کے پاس نہیں۔ نہ اقتدار کی دھونس اور دادا گیری کے ذریعے اس کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو 1975-77 تک سنجے گاندھی کے خواب صد فی صد شرمندۂ تعبیر ہو گئے ہوتے اور ہر سال 26 جون کو بی جے پی کی لیڈرشپ ایمرجینسی میں سنجے گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو کانگریس پر تبرہ نہ بھیجتی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عام آدمی کانگریس سے 1977 میں بیزار سنجے گاندھی کی خاندانی منصوبہ بندی کی جبریہ پالیسی کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔ اگر یوپی میں موجودہ حکمراں بھی وہی روش اپنائیں گے تو کوئی دوسرا نتیجہ نہیں نکلنے والا ہے۔ ملک میں آبادی کا جو دباؤ ہے اور جس طرح ہمیں کثرت آبادی کی وجہ سے پریشانیو ں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا کارگر حل یہ ہے کہ آپ بچیوں کو خود مختار بنائیں، سماج میں تعلیم کو یقینی بنا کر لوگوں میں وہ شعور پیدا کریں کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ سکیں۔ ساتھ میں معاشی فراغت کا وہ یقینی اور لازمی انتظام ہونا چاہیے کہ لوگ ایک منہ اور دو ہاتھ ہونے کو اس کا عذرِ لنگ نہ بنائیں۔ ہم یہاں اس بات کو سب پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس بِل اور کوشش کو مسلم مخالف نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس لئے کہ دو سے زیادہ بچے پیدا ہونے پر جن تادیبی اقدامات کی بات کہی جا رہی ہے اس سے ایسا کوئی قانون نہ ہوتے ہوئے بھی مسلمان کون سی فراخ دلی اور فراخ دستی سے بہرہ مند ہو رہے ہیں؟ انہیں اپنی آبادی کے کون سے تناسب سے آدھا حصہ بھی سرکاری ملازمتوں میں مل رہا ہے؟اور اب جب کہ ہر قانون سب کے لئے ہی ہوگا تو اس سے سب سے زیادہ متاثر اکثریتی طبقہ ہی ہوگا۔
اسی طرح ایک مسئلہ یکساں سول کوڈ کا بھی ہے۔ اس کو بار بار اٹھانے کا مقصد سماجی فلاح کی کسی کوشش سے زیادہ ایک مخصوص فرقے یعنی مسلمانوں کو چڑھانا مقصود ہے اور ہمارے نزدیک مسلمانوں کا اس طرح کی بے تُکی باتوں پر چڑنا یا پریشان ہونا صحیح نہیں ہے۔ اس ملک میں آبادی کا مسئلہ ہو یا یکساں سول کوڈ کا، وہ مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے لئے اور خاص طور پر سناتن دھرم کو ماننے والے ہندوؤں کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ دوسری بات جو یہ ہے کہ وہ لوگ جو یکساں سول کوڈ کی بات کرتے ہیں وہ بھی آج تک اس کا کوئی نمونہ یا قانونی مسودہ سامنے لے کر نہیں آسکے۔ ایک مذہبی تکثیریت والے ملک میں جہاں دنیا کے تقریباً تمام عقائد کے پیرو موجود ہیں اور مذہبی وابستگیوں میں بڑے راسخ العقیدہ بھی ہیں، کس طرح یکساں سول کوڈ پر راضی ہو سکتے ہیں؟ پھر یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مذہبی پابندیوں سے آزاد رہ کر بھی ایک ہی مذہب یا الگ الگ مذہبوں کے پروردہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے بہ رضا و رغبت سول میرج ایکٹ کے تحت شادی کر سکتے ہیں اور اس صورت میں ان کے مذہب کی ازدواجی زندگی سے تعلق رکھنے والی شرائط اور قانون ان پر لاگو نہیں ہوں گے۔ نہ نکاح نہ پھیرے، نہ چرچ نہ گرودوارا، نہ طلاق اور نہ وراثت کے مسائل مذاہب کے نام پر یشان کریں گے اور یکساں سول کوڈ کا مطالبہ کرنے والوں کو یہ بخوبی معلوم ہونا چاہیے کہ جب ہندوستانیوں کی غالب ترین اکثریت سول میرج ایکٹ کو اپنا لے گی تو پھر انہیں کوئی نیا قانون بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ یہاں ایک بات جو ایک مذہب کے ماننے والے کو دوسرے سے ممیز کرتی ہے وہ تو اپنی جگہ ہےں ہی لیکن ہم میں سے بہت سے لوگوں کو شاید یہ پتا نہ ہوگا کہ اس ملک میں پرسنل لاءہی علیحدہ نہیں ہیں بلکہ مذہب کے نام پر مالی (ریوینیو) قوانین بھی الگ الگ ہیں۔ اگر کوئی شخص ایک ہندو جوائنٹ فیملی کا حصہ ہے اور انکم ٹیکس ریٹرن بھرتے وقت اس کی تصدیق کرتا ہے تو وہ انکم ٹیکس کی ادائیگی میں بہت ہی اہم رعایتوں کا حقدار ہوگا، جب کہ آپ کا دوسرا ہم مذہب یا دیگر مذہب سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی ہندوستانی شہری جو مشترکہ ہندو خاندان کا حصہ نہیں ہے اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ ہم یہاں یہ بات صاف کرتے چلیں کہ ہمیں بھی اس رعایت پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیوں کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں وہ لوگ جو کبھی ضمیر دشت و دریا ہوتے تھے اب دردِ تنہا کا شکار ہوکر اپنے اپنے گرد ہی طواف کر رہے ہیں۔ خاندانوں کی ٹوٹ پھوٹ نے سماج میں انتشار اور بحران کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اس میں ایک مشترکہ خاندان کا حصہ ہونا انفرادی طور پر قابل افتخار بھی ہے اور اجتماعی طور پر سماج کے لئے سودمند بھی، لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ رہتا ہے کہ وہ لوگ جو یکساں عائلی قوانین کی باتیں کرتے ہیں وہ یکساں مالی قوانین پر کیوں گونگے بن جاتے ہیں؟
دنیا کے ہر مہذب معاشرے کی پہچان آزادی کا وہ چلن ہے جس میں ہر شخص کو اپنی پسند سے زندگی گزارنے، کیا کھائے، کیا پہنے، کیا اوڑھے، کیا بچھائے، کہاں پڑھے اور کیا پڑھے، کس سے باہمی رضامندی سے شادی کرے،اس کا اختیار اس کو خود کو ہونا چاہیے، لیکن ہمارے وطن عزیز میں کچھ لوگ اس آزادی کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کے نزدیک ہر شخص کو زندگی اس طرح گزارنا چاہیے جیسا کہ وہ اس کی اجازت دیں۔ بقول فیض:
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
آر ایس ایس کے سربراہ نے کچھ دنوں قبل غازی آباد کی میواڑ یونیورسٹی کیمپس میں اپنے خطاب میں معقول اور متانت کی حامل جو باتیں کہیں وہ باتیں بی جے پی اور ہندو سماج کے کچھ مٹھی بھر افراد کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی ہیں، یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اب تک جو لوگ مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو،سردار پٹیل، بابو راجیندر پرساد، سی راج گوپال آچاریہ، سروجنی نائیڈو اور ڈاکٹر امبیڈکر کی نفی کر رہے تھے، ان کے گفتار اور کردار پر نکیر بھیج رہے تھے وہ اب شری موہن بھاگوت کے کہے پر بھی کان نہیں دھررہے ہیں، یہ تکلیف دہ حد تک تعجب خیز بھی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ہمیں مسلمانوں کو نہیں بلکہ ملک کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے کیوں کہ جو ہندوستان کے مفاد میں ہے ہمارے نزدیک وہی مسلمانوں کے مفاد میں بھی ہے اور مسلمانوں کا مفاد ہندوستان کے مفاد سے کوئی کتنا ہی چاہے علیحدہ نہیں کر سکتا۔
(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس ہیں۔)

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں