شری موہن بھاگوت کا بیان: دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؟

شری موہن بھاگوت کا بیان: دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؟

پروفیسر اخترالواسع
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ شری موہن بھاگوت نے دہلی میں ایک کتاب کی رسم اجراءکرتے ہوئے کچھ بڑی حقیقت پسندانہ اور معنی خیز باتیں کہیں۔ انہوں نے ماب لنچنگ کو ہندتو کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں کا ڈی این اے ایک ہی بتایا، چاہے وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں، اس پر ہندوؤں یا مسلمانوں کا غلبہ نہیں ہو سکتا۔ صرف ہندوستانی ہی غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایک ہندو کہتا ہے کہ کسی مسلمان کو یہاں نہیں رہنا چاہیے تو وہ ہندو نہیں ہے۔ انہوںنے ہجومی تشدد کے خلاف قانون کو بلا تفریق کام کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
شری بھاگوت کے مذکورہ بالا بیانات کو روا روی میں نہیںلینا چاہیے اور نہ ہی اسے آر ایس ایس کی روایتی مسلم دشمنی کی عینک سے دیکھا جانا چاہئے۔ اقتدار کی منطق ایک الگ چیز ہوتی ہے۔ حکومت کی آسائش بلا شبہ نظریاتی آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں اکثر اپنا نقطۂ نظر بدلنا پڑتا ہے۔ گزشتہ سات برس کے لگاتار سب و شتم نے یہ تو ثابت کر دیا کہ گھر واپسی ہو، لو جہاد ہو، گﺅ رکشا ہو، ہجومی تشدد ہو، تبدیلی مذہب ہو، ان تمام حربوں سے مسلمانوں کو ایک حد سے زیادہ خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ موہن بھاگوت صاحب اس سے پہلے بھی ایک آدھ موقعے پر خیرسگالی کی بات کر چکے ہیں اور ایسا نہیں کہ مسلمانوں نے اپنی طرف سے بھلمنساہت کا ثبوت نہ دیا ہو۔ یہاں تک کہ مولانا سید ارشد مدنی، صدر جمعیة علماءہند، جو ابھی ۲جولائی کو امیرہند بھی منتخب ہوئے ہیں، خود آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت صاحب سے ملنے جھنڈیوالان دہلی میں گئے تھے۔ خود وزیر اعظم نے بھی، جو آر ایس ایس کے پرچارک رہ چکے ہیں، ۴۱۰۲ءکا انتخاب جیتنے کے بعد، سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کہی تھی اور ۹۱۰۲ءمیں چناو¿ جیتنے کے بعد اس میں سب کا وشواس کو بھی جوڑ دیا، جس سے یہ امید بندھی تھی کہ اب شاید اچھے دن آنے والے ہیں لیکن جو کچھ سامنے آیا وہ ناخوشگوار حد تک تکلیف دہ تھا۔
اگر مذہبی تفریق کے باوجود سب کا ڈی این اے ایک ہے تو پھر سی اے اے کی کیا ضرورت ہے؟ بلا شبہ ہم سب ہندوستانی ہیں اور جہاں تک مسلمانوں کا سوال ہے وہ ہندوستان کو اپنا مادرِ وطن ہی نہیں بلکہ پدری وطن بھی مانتے ہیں کیوں کہ ان کے عقیدے کے مطابق جب حضرت آدمؑ جنت سے زمین پر بھیجے گئے تو ان کا پہلا مسکن سرزمین ہند ہی تھی۔ مسلمان اس ملک پر بلا شبہ آٹھ سو سال تک حکومت کرتے رہے لیکن انہوں نے حکومت کی طاقت کا سہارا لے کر اپنی اقلیت کی حیثیت کو اکثریت میںکبھی تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے ایک استبدادی سماج میں بلاشبہ حکمرانی کی تو وہ اس ملک کی اکثریت کے اشتراک سے کی اور اس کے لئے بیربل، ٹوڈرمل اور سوائی مان سنگھ کے نام ثبوت کے طور پر کافی ہیں۔ اسی طرح اس حقیقت سے بھی کوئی منکر نہیں ہو سکتا کہ اس ملک کی پہلی جنگ آزادی بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں جن جیالوں نے لڑی اس میں بڑی تعداد غیر مسلموں ہی کی تھی جن میں جھانسی کی رانی، تانتیا ٹوپے، نانا جی پیشوا اور منگل پانڈے کے نام سرِ فہرست ہیں۔ غیر ملکی استعمار سے بعد ازاں بھی جنگ آزادی ہندو اور مسلمانوںنے مل کر لڑی۔ پہلی آزاد ہند حکومت جو جلا وطنی میں کابل میں قائم ہوئی اس کے صدر ایم اے او کالج کے پروردہ اور سرسید احمد خاں کے تربیت یافتہ راجا مہیندر پرتاپ تھے، تو وزیر اعظم مولانا برکت اللہ بھوپالی اور وزیر خارجہ دارالعلوم دیوبند کے سند یافتہ مولانا عبیداللہ سندھی تھے۔ جب ملک میں دو قومی نظریے کے بیج بویے گئے تو اس میں ویر ساورکر اور محمد علی جناح دونوں کی برابر کی حصے داری تھی بلکہ جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے تقسیم کے ریزولیوشن کے پاس ہونے سے پہلے ہندو مہا سبھا نے یہ ریزولیوشن پاس کر دیا تھا۔ اب جب کہ تقسیم وطن کو ۴۷سال ہوا چاہتے ہیں اور اس بیچ میں مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ترک وطن نہیں کریں گے اور ہندوستان جنت نشان کو پاکستان پر ترجیح دیں گے تو ان کے اس جذبے کی قدر کرنے کے بجائے انہیں طنز و تشنیع کا نشانہ اور ہجومی تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
ہمیں بلا شبہ اپنے ہندو بھائیوں کے بعض معاملات میں حساسیت کا پورا احساس ہے۔ مثلاً شمالی ہندوستان کے ایک بڑے حصے کے رہنے والے گﺅ کشی کے خلاف ہیں اور اسی لئے مسلمان بھی اس پر راضی ہیں کہ گؤ کشی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بابر سے سرسید تک، حمید الدین ناگوریؒ سے خواجہ حسن نظامی تک نے گؤکشی سے ہمیشہ پرہیز کی تلقین کی لیکن مسلمان گائے کے دودھ کا کاروبار بھی نہ کریں،وہ زراعت کے جانوروں کے لئے گائے کے ذریعے افزائش نسل کا بھی کام نہ کریں، کرن ریجی جو کو کھلے عام گوشت کھانے اجازت ہو اور اس پر مختار عباس نقوی سے مذہبی مطابقت رکھنے والوں کو تریپورہ میںاسی گائے کے گوشت کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ ایسا تو نہیںہونا چاہیے۔
وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کی آبائی ریاست گجرات میں تو شراب بندی ہو لیکن اسی ریاست سے تعلق رکھنے والا ایڈمنسٹریٹر غالب ترین مسلم اکثریت والے لکشا دیپ میں شراب بندی کو ختم کرنے کا حکم جاری کرے، اس کا کیا جواز ہو سکتا ہے؟ وہ خصوصی مراعات جو شمال مشرقی ہندوستان میں مختلف ریاستوں کو حاصل ہیں وہ بدھسٹ اکثریت والے لداخ، مسلم اکثریت والے کشمیر اور ہندو اکثریت والے جموں سے کیوں ختم کئے جائیں؟ اس کا جواب دینے کو کوئی تیار نظر نہیں آ رہا ہے۔
ان باتوں کو اعادہ یہاں اس لئے نہیں کیا جا رہا کہ ہم اپنے زخموں کو ایک بار پھر کرید کر ہرا کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کو دوہرانے کی وجہ صرف اتنی ہے کہ شری موہن بھاگوت نے بہت کچھ نہ کہہ کر سب کچھ کہہ دیا ہے۔ ہم نہ تو ان کی کہی ہوئی باتوں کو جھٹلائیں گے اور نہ اس کو منافقت پر محمول کریں گے اس لئے کہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شری بھاگوت کو کسی دکھاوے کی اور بناوٹی باتیں کرنے کی کوئی ضرورت ہے، بلکہ ہم تو یہ چاہیں گے کہ آر ایس ایس کے چیف جو بی جے پی کے بھی نظریاتی سربراہ اور سپریم لیڈر ہیں، وہ اس بات کو حکومت کے ذریعے یقینی بنائیںکہ اقلیتوں کے ساتھ کوئی بھید بھاو¿ نہیںہوگا۔ اقلیتوں کو دستورِ ہند میں جو بنیادی حقوق عطا کئے گئے ہیں ان کی پاسداری بھی ہو اور ان کے تحت اس ملک کی اقلیتوں کو اپنی تعلیم و ترقی اور ملک کی تعمیر میں حصہ لینے کی پوری آزادی ہو۔
اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے اعتبار و اعتماد کی بحالی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دریدہ دہن لوگ جو ”جوتے مارو سالوں کو“ کا نعرہ لگوا رہے تھے، دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر کی موجودگی میں مسلمانوں اور سرکار کو دھمکا رہے تھے، مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے تھے، اور شری موہن بھاگوت کے برعکس مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے پھر رہے ہیں، ان پر سخت کارروائی نہیں ہوتی ہے۔ لکشا دیپ کے ایڈمنسٹریٹر کو وہاں فساد پھیلانے سے نہیں روکا جاتا۔ جو لوگ جیلوں میں بند ہیں انہیں ضمانت پر رہا نہیںکیاجاتا۔ اس رہائی کا مقصد یہ بالکل نہیں ہے کہ قصوواروں کوسزانہ ملے لیکن ان کا جرم ثابت ہونے تک انہیں جیلوں میں رکھنا کہاں تک درست ہو سکتا ہے؟
شری موہن بھاگوت اور وزیر اعظم شری نریندر مودی کو عملی سطح پر ایک نئی شروعات کرنی چاہیے۔ وہ جو کچھ زبان سے کہہ رہے ہیں اس کو حقیقت میں سامنے آنا چاہیے۔ جب تک ایسا ممکن نہیں ہوتا اس وقت تک آپ نہ بھارت ماتا کے ساتھ انصاف کر پائیں گے اور نہ ہی ملک میں خیرسگالی اور باہمی یگانگت کا وہ ماحول پیدا کر پائیں گے جس کے لئے ہندوستان دنیا بھر میں جانا اور پہچانا جاتا رہا ہے اور جس پر بجاطور پر فخر کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا:
کچھ بات ہے ہستی مٹتی نہیں ہماری
برسوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپو رکے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *