Category: متقرقات
-
فریادوں کی برات – – ایک مطالعہ
عمرفاروق قاسمی ٌَُُمیرے بغیر اس جہان رنگ وبو کی دلکشی ادھوری ہے. میں محض خوبصورتی کی ہی مالک نہیں ہوں، بلکہ باعث کشش بھی ہوں، میں پھولوں کا تبسم، چاند کی چاندنی، سورج کی تابانی، جھرنوں کا ترنم، دریاؤں کی روانی، پہاڑوں کی صلابت، تاروں کی جگمگاہٹ، چرخ کی بلندی، اور زمین کی پستی کا…
-
والد کی برسی کے موقع پر چند بے ربط یادیں
سیمیں کرن وہ شخص مجھ سے انہی دنوں میں ،انہی رُتوں میں بچھڑا تھا ۔۔۔ ہر برس میں ان ہی دنوں خود کو کہیں رکھ کر بھولنے کی کوشش کرتی ہوں ۔جیسے نظریں چُراتی ہوں ،جیسے میرے بھولنے سے بُھلانے کی اداکاری سے یہ دن شاید کلنڈر سے کہیں دور جا گری نگے،ہٹ جائیں گے۔…
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبح سے شام تک کے معمولات
افادات: علامہ شبلی نعمانی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ صبح نماز فجر پڑھ کر ( جانماز پر) آلتی پالتی مارکربیٹھ جاتے ،یہا ں تک کہ آفتاب اچھی طرح نکل آتا(اوریہی وقت دربار نبوت کاہوتا،لوگ پاس آآکر بیٹھتے ،اورآپ ان کو مواعظ ونصائح تلقین فرماتے۔) (اکثر صحابہ ؓ سے پوچھتے کہ…
-
محمد سلمان کے اس جذبہ کو سلام ، رکشہ چلاکر وہ بننا چاہتے ہیں ڈاکٹر
مولانا مجاہد حسین حبیبی دوستو اس لڑکے نے تو حیران کردیا مجھے کہ اس دور میں بھی ایسے بچے ہیں جنکے حوصلے کے سامنے ہمالیہ بھی چھوٹا نظر آتا ہے ۔ پیارے دوستو! مجھے نثر میں بالکل ہی مہارت نہیں ہے کچھ لکھنا نہیں آتا یقین ،جانیئے جو میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے…
-
فکری یلغار: ٹوٹتے حصار
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی قدیم زمانے میں لڑائیاں جسمانی طاقت وقوت، چستی پھرتی اور حکومتوں کی فوجی منصوبہ بندی کے ذریعہ ہوا کرتی تھیں، مقابلہ آمنے سامنے کا ہوتا تھا ، اور جیت ہار کا فیصلہ فوجوں کی شکست پر ہوا کرتا تھا ،لیکن اب لڑائیاں آمنے سامنے نہیں ہوتی ہیں؛ سائنسی ترقیات نے…
-
ایمانداری کا ایک انوکھا واقعہ
مفتی جسیم الدین قاسمی آج دیوبند، مظفر نگر، دہلی اور آگرہ کے دس روزہ سفر کے بعد ممبئی واپسی ہوئی، دادر اسٹیشن پہ مجھے اترنا تھا لیکن میں گہری نیند میں تھا اور مری آنکھ اس وقت کھلی جب ریلوے کے ایک اسٹاف نے مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ جلدی اتریے سارے لوگ اتر…
-
ہمت کر اے انسان
محمد عنصر عثمان ینوجوان ہمارے سامنے اداس بیٹھا تھا ۔اس کے چہرے سے کئی رنگ نمو دار ہو رہے تھے۔مایوسی کے گہرے بادلوں نے سایہ کر رکھا تھا۔ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ہم کیا کہیں ۔ آخر سوچ بچار کے بعد ہم نے اس سے کہا ، بات سنو ! اللہ نے ہمیں…
-
پریشان حال ماں کی امید اب بھی برقرار
ہررات کو جب اترپردیش کے بدایوں میں ایک خاموشی طاری ہوجاتی ہے اور لوگ محو خواب ہوتے ہیں ‘ فاطمہ نفیس جاگتی رہتی ہیں۔ گھر کے باب الدخلہ کے قریب میں واقعہ اپنے کمرے میں رکھے ہوئے بیڈ پر وہ لیٹ کر دروازے پر دستک کا اس امید کے ساتھ انتظار کرتے ہیں کہ ان…
-
اپنی مظلوم بیٹی کے نام، علامہ قرضاوی کا خط
ترجمہ: محی الدین غازی میری چہیتی بیٹی ’’ عُلا ‘‘ میرے جگر کا ٹکڑا، میرے دل کی زندگی، میری روح کی ٹھنڈک۔ میری پیاری بیٹی، تم پر میرا پورا دل نثار ہے، میرے دل کی ساری محبت نثار ہے، میری محبت کی ساری صداقت نثار ہے، اور میری صداقت کا سارا خلوص نثار ہے۔ میری…
-
ٹیلی گرام کیوں ضروری ہے
شعیب عالم قاسمی عصر حاضر سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع ابلاغ کا دور ہے،جدید ذرائع ابلاغ نے ہر شخص کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا کیا ہے، خصوصا سوشل میڈیا، کہ جس کے استعمال نے لوگوں کو ٹی وی، ریڈیو اور نیوز پیپروں سے بے نیاز کردیا ہے، فیس بک واٹس ایپ…