Category: ادبی شخصیات
-

ڈاکٹر عبد القادر شمس قاسمی کچھ یادیں کچھ باتیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے ڈاکٹر محمد اجمل قاسمی جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں 1998 میں علی گڑھ سے ایم اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دہلی آ گیا اور ذاکر نگر واقع گلی نمبر 12 میں قیام پذیر ہوا۔ مولانا اسرار الحق قاسمی مرحوم کے زیر نگرانی…
-

بہار آنے سے پہلے خزا ں چلی آئی
نامور نوجوان صحافی اور صاحب بصیرت عالم ڈاکٹر عبد القادر شمس کا سانحہ ارتحال مفتی احمد نادر القاسمی ایک انمول ، شگفتہ مزاج ، بااخلاق ، ہنس مکھ ، شائستہ صحیفہ نگار ، ہمہ جہت خوبیوں کا مالک ، اپنوں میں اپنا غیروں میں اپنائیت کی چھاپ چھوڑنے والا ، زعفرانی سیاست کو قریب سے…
-

راحت اندوری مرحوم: انقلاب و قومی یکجہتی کا ایک عظیم شاعر رخصت
افتخار رحمانی فاخر راحت اندروی کا نام [ جنہیں اب ’مرحوم‘ لکھنا پڑ رہا ہے ] پہلی بار میں نے دیوبند میں سنا تھا ،جب وہ دیوبند میلہ کے تحت ہونے والے آل انڈیا مشاعرہ میں شر کت کیلئے تشریف لائے تھے ۔راحت اندوری مرحوم کی آمد کے باعث ہمارے کئی ساتھی پرجوش تھے ،…
-

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ….
مشرف عالم ذوقی بہار کا ارریہ ضلع … میں اس شہر سے زیادہ واقف نہیں ، لیکن میں اس شخص سے بھی کتنا واقف تھا جو ارریہ کی سر زمین سے نکلا ، مدرسے کے دروازے میں داخل ہوا ، دار السلطنت دلی کی کشادہ سڑکوں ، گلیوں کو فتح کرنے کے ارادے سے ،…
-

دروازۂ دل پر یادوں کی دستک ساحل انکل، ذہن کے پردوں سے نہ مٹنے والا نام
تحریر سلمیٰ نسرین ، آکولہ دن کے اجالے، شب کے اندھیروں میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں اور رات کی سیاہیاں دن کی روشنیوں کو نگلتی جارہی ہیں۔ لیکن اداسیوں کا موسم، لگتا ہے بس ایک ہی جگہ ٹھر گیا ہے۔ نیا دن نیا زخم۔ کتابوں کی دنیا میں اگر پہلے پہل کسی نام سے آشنائی…
-

آہ! ڈاکٹر عبداقادر شمس قاسمی ایک شمع اور بجھی اور بڑھی تاریکی
عبدالغنی ملک کے مشہور ومعروف صحافی ڈاکٹر عبدالقادر قاسمی شمس صاحب موذی مرض کورونا کو مات نہیں دے سکے۔ اور وہ غیر متوقع طور پہ ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے ہیں ۔آج دوپہر دلی کے مجیدیہ اسپتال میں علاج کے دوران ان کی روح قفص عنصری سے پرواز کرگئی ۔وہ گزشتہ ایک ہفتہ سے کورونا…
-

عبدالقادر شمس اے فلکِ پیر‘ عارف ابھی جواں تھا
معصوم مرادآبادی ”ان سے ملئے یہ عبدالقادرشمس ہیں۔ روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ میں کام کرتے ہیں۔“ برادرم مزمل حسینی نے دونوں جملے ایک ساتھ ادا کرتے ہوئے میرا رخ ایک مسکراتے ہوئے نوجوان کی طرف موڑدیا۔اس نوجوان کی جس خوبی نے مجھے حددرجہ متاثر کیا‘ وہ اس کی عاجزی اور انکساری کا انداز تھا۔ یہ برسوں…
-

آہ! مرتضی ساحلؔ تسلیمی بھی رخصت ہو گئے
کامران غنی صباؔ (شعبۂ اردو نتیشور کالج، مظفرپور) مرتضی ساحل تسلیمی۔بچپن میں یہ نام زندہ قلمکاروں میں سب سے پہلے رول ماڈل بن کر ابھرا۔ ہمارے یہاں ماہنامہ نور، بتول اور ماہنامہ ہلال یہ وہ رسالے تھے جو پابندی سے آتے تھے۔ ان رسالوں کا کریز اتنا تھا کہ ہم بھائی بہنوں میں جس کے…
-

حرف و صوت کا شہنشاہ : راحت اندوری
فوزیہ ربابؔ راحت اندوری بھی سدا کے لیے روٹھ چلے۔وہ شاعر جس نے چالیس پینتالیس برسوں تک حرف و صوت پر حکمرانی کی۔ جس نے تمام رنگوں، رسوں، روشنیوں اور خوشبوؤں کو پُر شکوہ شعری پیکر عطا کیا۔ جس نے ایوانِ مشاعرہ کے بہت سے مسلّمات کو رد کیا اور اپنی شرطوں پر عوامی سماعتوں…
-

میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا!
حبیب اللہ ہاشمی راحت اندوری جیسے عظیم شاعر جس کے قلم کی ایک جنبش ارباب اقتدار میں ہلچل پیدا کردیتی تھی، جس کا ایک مصرع افسردہ دلوں کے تسکین کا ساماں ہوا کرتا تھا، جس کا منفرد لہجہ جرات اظہار کا نمونہ ہوتا تھا، جس کے کلام میں شائستگی اور شگفتگی ایسی کہ بے قرار…