Category: ناول و افسانہ
-

محرومی
سیدہ تبسم منظور ڈاکٹر کے پاس آج ہمارا چیک اپ تھا۔ شام کا وقت طے ہوا تھا ۔ہسپتال جانے کے لیے جب باہر نکلے تو دیکھا کہ سورج ڈھل چکا تھا۔پنچھی اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ چکے تھے ۔ آہستہ آہستہ رات کی سیاہی ہر طرف اپنا ڈیرا جما رہی تھی۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا…
-

پلکوں کے سائے میں !!!
سیدہ تبسم منظور شہر میں کام تھا اس لیے فجر کی نماز پڑھ کر نکلنے کا سوچا تھا۔ مگر ڈرائیور کسی وجہ سے لیٹ ہوگیا۔ ایک خاص کام کے سلسلے میں ہمیں اپنے خاندانی ایڈوکیٹ سے گیارہ بجے ملنا تھا۔ ساڑھے چھ بجے ڈرائیور کار لے آئے تو ہم گھر سے روانہ ہوئے۔برسات کا سہانا…
-

بہت دیر کردی
سیدہ تبسم منظور سہیلیوں نے دلہن بنی شازیہ کو گھیر رکھا تھا مگر وہ سب سکھیوں کے بیچ بھی خود کو اکیلا محسوس کر رہی تھی۔ ماریہ جو اس کی سب سے اچھی دوست تھی اس کی وجہ جانتی تھی۔ بہت سمجھایا بھی ہنسانے کی بھی کوشش کر رہی تھی پر جب دل…
-

گوہرِ نایاب
کاشف شکیل وہ روز ساحل سمندر کی سیر کو آتا تھا، ریت سے کھیلتا، مدوجزر (جوار بھاٹا) کا نظارہ کرتا،بحر نا پیدا کنار کو ساحل سے ہمکنار ہوتے دیکھ عجیب سی لذت محسوس کرتا، اسے محسوس ہوتا کہ وہ خود بھی ظلمتوں کا بحر بیکراں ہے مگر اسے ہمکنار ہونے کے لیے کوئی ساحل نہیں…
-

اپنے جو اپنے نا ہوئے … !
سیدہ تبسم منظور رحمت باراں کی آمدآمدتھی ۔۔۔۔۔۔۔ آسمان پر بادل رقصاں تھے۔۔۔۔ تھوڑی دیرگزری کہ بارش کی ننھی ننھی بوندیں زمین پر پہنچنے کی بیقراری میں تیزی سے زمین کی طرف آنے لگیں۔باسی عید کا دن تھا اور اس وقت ہم مع شیرخرما اور سیویاں اپنی بائیک پرسوارایک عزیز کے یہاں ملنے جارہے تھے۔گھر…
-
ہاتھ جلے گھر کے چراغ سے
سیدہ تبسم منظور ناڈکر موسم گرماجاری تھا اورگرمی اپنے شباب پر تھی۔۔۔۔ہر کوئی پسینے میں شرابور ہورہا تھا۔وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا اور ہم اندر ہال میں بیٹھے بیٹھے بور ہورہے تھے۔۔۔ابھی ظہر کی اذان ہونے میں بھی وقت تھا اس لیے اٹھ کر گیلری میں آکر کھڑے ہوئے کہ تھوڑی باہر…
-
دو ناؤ
آنیناز جان علی فواد میں خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ زندگی کے ہر میدان کا نمبر ایک کھلاڑی تھا۔ اس نے موریشس کے ایک نامور اسکول سے ایچ۔ ایس۔ سی تک تعلیم حاصل کی۔ وہ اچھے نمبروں سے کامیاب ہو کر ملیشیا کی ایک معتبر یونیورسٹی میں زیرِتعلیم رہا۔ ملیشیا سے…
-
دوراہا
آبیناز جان علی راجیش بہت خوش ہے کیونکہ کل اس کی شادی ہونے والی ہے۔ چار سال سے وہ جس لڑکی کے عشق میں گرفتار تھا کل وہ اس سے شادی کرنے والا ہے۔ شادی ایک ایسا مقدس اور اٹوٹ بندھن ہے جو میاں بیوی کو ہمیشہ کے لئے جوڑدیتی ہے۔ کل اس کا پیار…
-
اعتراف ….. مجھ سے نہیں ہوگا!
ثناءاللہ صادق تیمی دیکھو بات یہ ہے کہ یہ تم سے نہیں ہوگا ۔ تم ایک چھوٹے دل دماغ کے آدمی ہو، تمہارا تعلق ایک ایسی قوم سے ہے جو اس نعمت سے محروم ہے ، حد درجے میں گری ہوئی کمیونٹی ہے تمہاری ۔ ہر طرف سے انہيں اسباب کی بنیاد پر تم پر…
-
گھر گھر کی نانی
محمد شمشاد قاضیین نانی کی موت کی خبر سنتے ہی گاؤں کے سارے لوگ انکے دروازے پر جمع ہو گئے اور سر جوڑ کر انکے تجہیز و تکفین اورتدفین کے بارے میں غوروفکر کرنے لگے تو کچھ لوگ انکی ماضی کی باتیں کرید نے لگے کوئی کہتا ’’بے چاری مرنے کا مر گئیں لیکن کبھی…