Category: شعر و شاعری

  • غزل

    غزل

     پیار سے پوچھو کبھی ناراض ہو کیوں ہو یوں گم صم اجی ناراض ہو  مجھ سے کچھ رہتی ہو کترائی ہوئی تم بھی کیا اے زندگی ناراض ہو  تو ہے راضی تو ہو کیا دنیا کا غم کوئی مانے یا کوئی ناراض ہو یوسفی کرتی رہے گی درگزر کیا دھوئیں سے روشنی ناراض ہو  سیدھے…

  • تمہارے دل میں کیا ہے کچھ تو بولو   (غزل)

    تمہارے دل میں کیا ہے کچھ تو بولو (غزل)

    غزل افتخار راغب مصیبت میں زمیں بھی کم نہیں ہے سو بے چینی کہیں بھی کم نہیں ہے تمھارے دل میں کیا ہے کچھ تو بولو  تمھارا کچھ نہیں بھی کم نہیں ہے نہیں جھکتا کسی کے خوف سے دل یہ ننھی سی جبیں بھی کم نہیں ہے گماں میرا رہے ہردم سلامت اُنھیں مجھ…

  • حمد پاک

    حمد پاک

    خداکے فضل سے مجھ کو ملی حیات مری خداکے حکم سے آئے گی پھر ممات مری اسی سبب سے میں طالب ہوں رحمت رب کا کہ اس کے رحم پہ ہے منحصر نجات مری خداکا حکم سناؤں گا ہرسو جا جاکر بلاسے ہووے مخالف یہ کائنات مری میں اپنے آپ کو تب کامیاب سمجھوں گا…

  • نعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

    ہے بعدِ خدا سب سے تری ذات مکرم تو سیدِ ابرار ہے تو مرسَلِ اعظم تو عرش کا مہمان ہے تو رب کا دلارا تو مونسِ آدم ہے تو ہی نوح کا ہمدم والشمس ترا چہرہ ہے “نشرح لک” سینہ واللیل ترے گیسو ہیں اے نورِ مجسم تو مرکزِ ایمان ، تو قرآن کی تفسیر…

  • کبھی حیات کی زنجیر سا لگے ہے مجھے

    غزل کبھی حیات کی زنجیر سا لگے ہے مجھے کبھی وہ عکس کبھی آئنہ لگے ہے مجھے جنون عشق کا چہرہ بھی کیا لگے ہے مجھے کبھی امید کبھی حوصلہ لگے ہے مجھے کبھی حیات کی زنجیر سا لگے ہے مجھے میں تیرے در پہ جبیں کیا جھکا لیا تب سے زمیں زمان سبھی زیرِ…

  • اک پھول چمن کا بکھر گیا

    اک پھول اک پھول چمن کا بکھر گیا وہ پھول جسے ابھی کھلنا تھا جسے جگ کو خوشبو بانٹنی تھی ابھی عمر ہی کیا تھی یا مولا کچھ وحشی اس پر جھپٹ پڑے ان ظالم وحشی کتوں نے اک ہوس کو تن ہر پہن لیا اور ننھے پھول کو روند دیا اسے روند دیا اسے…

  • گہوارۂ تہذیب کی معمار ہے عورت

    احمد علی برقیؔ اعظمی آرائش و تزئین سے سرشار ہے عورت فطرت کے ہر اک حسن کا اظہار ہے عورت ماں، بیٹی ، بہن ، بیوی کی صورت میں ہمیشہ بس پیار ہے ، بس پیار ہے بس پیار ہے عورت ماں وہ ہے نہیں جس کا کہیں کوئی بھی ثانی ہر شخص کی تعظیم…

  • غزل

    ترے خیال سے نکلیں تو داستاں ہو جائیں نصیب ہو جو ترا ساتھ، جاوداں ہو جائیں   ہماری راکھ اڑانے کو آئے گا وہ شخص سو اس سے پہلے بھلا کیسے ہم دھواں ہو جائیں؟   تمہارے ملنے تلک قادر الکلام رہیں تمہارے سامنے آئیں تو بے زباں ہو جائیں   ہمارا مسئلہ، دیکھو! ہمارا…

  • غزل

      پاس ہر شخص کے زر ہو یہ ضروری تو نہیں ہر کوئی شاہ ظفر ہو یہ ضروری تو نہیں اپنی خودّاری کا رکھتا ہوں ہمیشہ احساس تیرے درپر مرا سر ہو یہ ضروری تو نہیں مانگتے رہتے ہیں دن رات دعائیں کچھ لوگ سب دعاؤں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں زیست فٹ…

  • نظم اویسی بول رہا ہے

    نظم اویسی بول رہا ہے دلت مسلم کے دل کا پیار جگا دو بڑھ کے اب بھی یار گرا دو نفرت کی دیوار بنا دو جنگل کو گلزار سمئے پٹ کھول رہا ہے اویسی بول رہا ہے یہ فرضی سیکولر سرکار کرے نفرت کا کاروبار مسلماں غربت سے دوچار دلت پر ٹوٹے اتیاچار سمئے پٹ…