Category: شعر و شاعری
-

افلاک رو رہے ہیں زمیں بھی اداس ہے آنسو بہا رہی ہے فضا تیری موت پر
کلمات غم بر سانحۂ ارتحال استاد محترم حضرت مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب علیہ الرحمۃ و الرضوان جیسے گرا ہو کوہِ گراں مجھ پہ ٹوٹ کر کوئی گیا ہے آج یوں دنیا سے روٹھ کر دل دھک سے ہو کے رہ گیا سنتے ہی یہ خبر تم چل دیے ہو آج ہمیں تنہا چھوڑ کر…
-

جو بات کہتے ڈرتے ہیں سب، تو وہ بات لکھ
نظم ——– جاوید اختر جو بات کہتے ڈرتے ہیں سب، تو وہ بات لکھ اتنی اندھیری تھی نہ کبھی پہلے رات لکھ جن سے قصیدے لکھے تھے، وہ پھینک دے قلم پھر خونِ دل سے سچے قلم کی صفات لکھ جو روزناموں میں کہیں پاتی نہیں جگہ جو روز ہر جگہ…
-

غزل
زخموں سے پریشان ہیں سب درد کے مارے انسان پکارے تو بھلا کس کو پکارے اک دور ہوا صدمۂ گجرات کو ، لیکن آنکھوں میں ابھی تک ہیں لہو رنگ نظارے مسلم بھی ہے تہذیبِ برَہْمن سے ہم آغوش اب چشمۂ زمزم بھی ہے گنگا کے کنارے اس عہد میں ہر شخص…
-

ؐنعت پاک
سرورِ دین سا دلربا چاہیے کیوں کہ جینے کا اک آسرا چاہیے ہند میں اب طبیعت بہلتی نہیں اب مدینے کی آب و ہوا چاہیے وہ سجالے کوئی بزمِ نعتِ نبی جس کے تاریک دل کو ضیا چاہیے حشر کی سختیوں سے میں بچ جاؤں گا کالی کملی کا تھوڑا سِرا چاہیے خود کو…
-

مرثیہ بر وفات فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی رحمہ اللہ ناظم جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنہواں، سیتامڑھی بہار
اداسی کیوں ہے چھائی آج تم پہ باغِ رمضانی ہوا رخصت ہے شاید وہ تمہارا میر حقانی زبیر احمدؒ کی رحلت کا اثر ہے تم جدھر دیکھو دکھی ہے ہر نفس آہ و بکا کی ہے یہ سامانی بڑی حکمت سے سینچا پھر بہایا خوں پسینہ بھی نمایاں ہے در و دیوار سے ان کی…
-

فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی کے سانحہ ارتحال معروف شاعر احمد علی برقی اعظمی کا منظو م خراج عقیدت
زبیر احمد جہان رنگ و بو سے ہوگئے رخصت دلوں پر نقش ہے جن کی سبھی کے حرمت و عظمت تھی عملی زندگی درس عمل سب کے لئے ان کی تھے وہ عہد رواں میں پاسبان و محسن ملت تھے عملا وہ مدبر اور محدث عہد حاضر کے تھا ان کا مشغلہ تا عمر ملک…
-

یاد رفتگاں
بیاد ممتاز عالم دین اور ہمہ جہت خوبیوں کے حامل باکمال خطیب و ملی و سیاسی رہنما، ممبر پارلیمنٹ و بانی آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن جناب مولانا محمد اسرار الحق قاسمی مرحوم تاریخ وفات : ۷ دسمبر ۲۰۱۸ احمد علی برقیؔ اعظمی مولانا اسرارالحق کی اپنی الگ تھی اک پہچان اُن کے پیشِ…
-

غزل
غزل کاشف شکیل صنم کا آستانہ دیکھتا ہوں ولایت کا زمانہ دیکھتا ہوں خزاں آلود پتوں کی رگوں میں بہاروں کا فسانہ دیکھتا ہوں تمھارے ہجر کے لمحوں میں جاناں زمانے کا زمانہ دیکھتا ہوں ہزاروں حسن کے مالک یہاں ہیں مگر تم کو یگانہ دیکھتا ہوں سہام دید کو پہلو بدل کر میں سوئے…
-

میں کہ اک معلم ہوں نظم بموقع یومِ اساتذہ
ڈاکٹر خالد مبشر تم ہو علم کے طالب تم نے مجھ سے پوچھا ہے مرتبہ معلم کا میں کہ اک معلم ہوں کس طرح خود اپنی ہی عظمتیں بتاؤں میں یہ تو خود ستائی ہے لیکن اک معلم ہوں سو یہ فرض ہے میرا تم پہ منکشف کردوں راز ہائے سربستہ جانتے ہو کیا ہوں…
-

مجاہد سے دلہن کی طرح شرماتی ہے آزادی
ضیاء الرحمن اصلاحی دوام امن کا اعلان بن جاتی ہے آزادی سر گیتی کا تاج فخر کہلاتی ہے آزادی مٹا کر تفرقے سب رنگ و نسل و قوم و ملت کے خوشی کے شہر میں پھر رقص فرماتی ہے آزادی جِلا دیتی ہے زنگ آلود شمشیر تصور کو تو بخت خفتہ کو بیدار کر جاتی…