Category: شعر و شاعری

  • شبِ قدر آئی ہے 

    شبِ قدر آئی ہے 

    ہرسُو جہاں میں رحمت و برکت سے چھائی ہے اٹھ جاؤ مومنو! کہ شب قدر آئی ہے توبہ کرو گناہ سے سجد ے میں رہو تم جو دل میں دبے درد ہیں وہ رب سے کہو تم رحمان اس کا نام ہے عالم میں جدا ہے بخشے گا گناہوں کو وہی سب کا خدا ہے…

  • آرزو بس یہی رکھتا ہوں مدینہ آ کر نقش پا ڈھونڈھوں مِری جان رسول اکرمؐ

    آرزو بس یہی رکھتا ہوں مدینہ آ کر نقش پا ڈھونڈھوں مِری جان رسول اکرمؐ

    نعت پاک یاد ہے آپ کا فرمان رسول اکرمؐ میرے ہاتھوں میں ہے قرآن رسول اکرمؐ ہند میں فرقہ پرستی کی ہوا پھیل گئی ہوگیا ہوں میں پریشان رسول اکرمؐ آرزو بس یہی رکھتا ہوں مدینہ آ کر نقش پا ڈھونڈھوں مِری جان رسول اکرمؐ مجھ کو دولت سے محبت تو بہت ہے لیکن تجھ…

  • ہمیں کہتے ہیں گودی میڈیا  (نظم) 

    ہمیں کہتے ہیں گودی میڈیا (نظم) 

     جمیل اختر شفیق ہمیں کہتے ہیں گودی میڈیا ہم رقص کرتے ہیں  غریبوں کے سسکنے پر  یتیموں کے بلکنے پر کسی بےبس کی آنکھوں میں  اُبلتے آنسوؤں پر بھی ! ہماری زندگی کا  ایک ہی مقصد ہے  بس پیسہ ….. ! ہمیں دولت سے مطلب ہے  وہ چاہے جس طرح آئے  کسی کا دل دکھانے…

  • جشن اظہر عنایتی و عالمی مشاعرہ 2020  زیر اہتمام کاروان اردو قطر

    جشن اظہر عنایتی و عالمی مشاعرہ 2020 زیر اہتمام کاروان اردو قطر

    16/جنوری ۲۰۲۰ کی شب کاروان اردو قطر نے جناب اظہر عنایتی صاحب کے اعزاز میں اپنا چوتھا عالمی مشاعرہ منعقد کیا ۔ کاروان نے اپنے عالمی مشاعروں اور ممتاز ہندوستانی شعرا کے جشن منانے کا سلسلہ 2017 میں جناب منور رانا صاحب کے جشن سے شروع کیا تھا، اس سے اگلے برس (2018) میں جشن…

  • نظم: شاہین نہیں گھبرائیں گے : عمران خان

    نظم: شاہین نہیں گھبرائیں گے : عمران خان

    دشمن کی ہو سازش کتنی، شاہین نہیں گھبرائیں گے ہو دھمکی یا گیدڑ بھبکی، شاہین نہیں گھبرائیں گے جس مٹی سے پیدا ہیں ہم، اس مٹی پر جینا مرنا دہشت پھیلانے والوں سے، اب اور نہیں ہم کو ڈرنا اب دینے سے ہر قربانی، شاہین نہیں گھبرائیں گے دشمن کی ہو سازش کتنی، شاہین نہیں…

  • ایک نظم شاہین باغ کے نام

    ایک نظم شاہین باغ کے نام

    تبسم فاطمہ جتنی گولی چاہے داغ پورا ملک ہے شاہیں باغ نفرت کے متوالو ہم کو اپنی صورت مت دکھلاؤ گونج رہا ہے نعرہ پھر سے انگریزو ، تم باہر جاؤ تم بارود بچھانے آئے ملک میں آگ لگانے آئے پہلے بھی گجرات ہوا تھا تم گجرات بنانے آئے دھوکہ دے کر ملک ہتھیایا اپنوں…

  • قلم اٹھاؤ!

    قلم اٹھاؤ!

      قلم اٹھاؤ اداس لوگو ! اداسیوں کا لباس تن سے اتار پھینکو اے خواہشوں کے اسیر لوگو ! حقیقتوں سے نظر نہ پھیرو کئی سسکتی ہوئی سی بے سود خواہشوں کا  جو آج نوحہ سنا رہے ہو اسی پہ رونا شعار تم نے بنالیاہے  ذرا بتاؤ ! کہ خواب تکنا  انہیں میں جینا  انہیں…

  • آؤ ہم پھر سے ایک ہوجائیں

    آؤ ہم پھر سے ایک ہوجائیں

    غزل شفیق شہپر تو مرے دل سے بھاگتا کیا ہے اس سے بہتر بتا جگہ کیا ہے زخم سے چور ہوں بتاؤں کیا درد سے پوچھ لو ہوا کیا ہے بس یہی کہہ رہا ہوں برسوں سے زندگی موت کے سوا کیا ہے ہر طرف قدرتی مناظر ہیں ہم کو سائنس نے دیا کیا ہے…

  • کسی نے میری غم خواری نہیں کی

    کسی نے میری غم خواری نہیں کی

    غزل تری ظالم طرف داری نہیں کی “خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کی” عبادت میں ریاکاری نہیں کی محبت میں ادا کاری نہیں کی ہمیشہ حق بجانب ہی رہا ہوں کبھی ہم نے طرفداری نہیں کی نصیحت کی بہت، یاروں نے لیکن کسی نے میری غم خواری نہیں کی بلندی پر پہنچ جاتا میں…

  • بلا سیلفی ہی لوٹ آئے یہ حاجی

    بلا سیلفی ہی لوٹ آئے یہ حاجی

    غزل یہ جھوٹے تھے طرف داری نہیں کی “خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کی” امیر شہر بس اس پر خفا ہے کہ اس کی ناز برداری نہیں کی تجھے اے ہند سینچا ہے لہو سے کبھی بھی ہم نے غداری نہیں کی بلا سیلفی ہی لوٹ آئے یہ حاجی تعجب ہے ! ریا کاری…