Category: قاسم سید

  • تیرے سوا سب کافر!

    قاسم سید ہندوستانی مسلمانوں نے قدم قدم پر ثابت کیا ہے کہ وہ سادہ لوح ‘ معصوم اور بھولے ہونے کے ساتھ ہی حب الوطنی سے سرشار اور ایمانی غیرت و حمیت سے مالا مال ہیں۔ شریعت کے تحفظ کے لئے جان نثاری کا جذبہ بے پناہ اور حب رسولؐ کا بحرِ بیکراں ان کی…

  • آصفہ ! ہمیں معاف کر دے

    قاسم سید کیا ہم واقعی مہذب‘ باشعور سماج کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ کیا ہمیں اس بات پر فخر کرنے کا حق ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے باشندے ہیں اور کیا سماج مذہبی‘ لسانی ‘ تہذیبی اورثقافتی بنیادوں پر اتنی بری طرح منقسم ہوگیا ہے کہ وہ صحیح اور غلط ‘سچ…

  • تاریخی غلطی سدھار نے کا موقع

    قاسم سید اس بات کا اعتراف کرلینا چاہئے کہ ہم اکثریتی جمہوریت والے ملک میں رہتے ہیں جس کو سیکولرازم کے میک اپ میں چھپاکر رکھا گیا۔ یہ غلط فہمی بھی دور کرلینی چاہئے کہ اگر ملک میں جمہوریت باقی ہے اور اس کی سیکولر روح زخموں سے چور ہونے کے باجود زندہ ہے تو…

  • اس جنگ میں ہم کہاں ہیں

    قاسم سید اس بات میں شک کی کوئی گنجائش ہے کہ ہندوستان ذات پات کی آہنی زنجیروں کے نظام میں جکڑا ہوا ہےاور یہ معاملہ صرف ملک کی اکثریت کے ساتھ ہی نہیں اسلام کے نام لیوا بھی اس کے بد اثرات سے محفوظ نہیں۔ نسلی برتری کا تفاخر اور خاندانی نسبتوں کا امتیاز بدرجہ…

  • گورکھپور اور پھول پور کا پیغام

     قاسم سید سیاست کے بارے میں چند باتیں بڑی اہم ہیں اس میں مستقل دوستی اور مستقل دشمنی نہیں چلتی۔ وقت اور ضرورت کے مطابق تبدیلی کرلی جاتی ہے۔ ایک دوسرے پر غرانے، چڑھ دوڑنے اور نوکیلے پنجوں سے زخمی کرنے اور گلا پکڑنے والے کب گلے میں بانہیں ڈال کر ادائے دلفریبی کے ساتھ…

  • یہ خود فراموشی مہنگی پڑے گی

    قاسم سید ہمارا ملک جس نظریاتی کشمکش سے دوچار ہے اس کے راون کی طرح متعدد چہرے ہیں ہر چہرے کی جداگانہ شناخت ہے۔ مگر اس کے ڈانڈے ہندوتو سے ہی جاکر ملتے ہیں جس کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ نے سند جواز عطا کردی ہے۔ اس لڑائی میں جو بظاہر یکطرفہ ہے کیونکہ…

  • نظریاتی جنگ کا آخری پڑاؤ

    قاسم سید وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر جو صدر جمہوریہ کے خطبہ پر شکریہ تحریک پر بحث کے جواب میں کی گئی اس میں کئی خفیف اور کھلے اشارے ہیں ‘مستقبل کی چھپی تصویر اور ایجنڈا اور اقلیتوں کے لئے واضح پیغام بھی۔ آئیڈیا آف انڈیا جو نیو انڈیا کے غلاف میں لپٹا ہوا ہے…

  • جنگ دروازے تک پہنچ گئی ہے

    قاسم سید مصنوعی قوم پرستی ایسا جن ہے اگر بوتل سے باہر آجائےتو پھر وہ الہ دین کے قبضہ میں بھی نہیں آتا۔ خوف اور نفرت کی دیواروں پر اٹھائی گئی یہ عمارت انسانوں کے گاڑھے خون سے بنائی جاتی ہے اور یہ خون سماج کے کمزور‘ دبے کچلے طبقات اور اقلیتی اکائی کی رگوں…

  • سیاسی پارٹیوں کے بدلتے اہداف

    قاسم سید کیا ہندوستانی سیاست میں ہندوتو کا ابھار اچانک ہوگیا یہ صرف ساڑھے تین سال کی مودی سرکار کا کرشمہ ہے کہ اس نے 60 سال سے ملک کی رگ وپے میں دوڑ رہے سیکولرازم کے خون کو منجمد کرکے اسے ڈائیلاسس پر ڈالدیا اور ہندوتو کی بنیادوں پر نیا سماج کھڑا کرنے میں…

  • کچھ پیغام ہمارے لئے بھی

    قاسم سید سیاسی اقتدار میں تبدیلی کے ساتھ ہی نئی سیاسی عبارت لکھے جانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا وہ تھما نہیں ہے جو لوگ اقتدار پر قابض ہیں ان کی تیاری کمال کی ہے شاید ہی کوئی ایسا شعبہ زندگی ہو جس پر ہوم ورک نہ کیا ہو۔ اس سے متعلق تربیت یافتہ افراد…