نئی دہلی، 10/ مئی 2026: سابق سرپرست اعلیٰ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز وجنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل کے تخلیقی خیال اور ان کی رہنمائی نے ملک وملت کو جو کچھ دیا، وہ سنہرے حروف میں تحریر کی جائیں گی۔ کانسٹی ٹیوشن کلب کے اسپیکر ہال میں منعقد ان کے یادگاری پروگرام میں ڈاکٹر منظور عالم کی حیات ومیراث کے حوالے سے ہفتہ کے دن بے حد اہم پروگرام کا انعقاد ہوا، جس میں ملک وبیرون ملک کی قابل ذکر شخصیات نے اُن کی قربانیوں اور اہم کارناموں کو یاد کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا اور مستقبل کے لیے دیئے گئے گائڈنس کو عملی بنانے پر زور دیا۔
اس موقع پر ملک وبیرون ملک کی مایہ ناز شخصیتوں نے جو اظہار خیال کیا، ان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا کے پروفیسر تعلیمات، داؤد اے یحییٰ الہدابی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم نے تعلیمی لیڈر کے طور پر ایک نقش چھوڑا ہے۔ وہ ایک دانشور تھے اور ان کا نظریہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کی پسماندگی پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ اسلامی اصولوں پر گامزن رہتے ہوئے انھوں نے بین مذہبی مذاکرات کو آگے بڑھایا۔ مسلمانوں میں آپسی میل ملاپ اور سماجی اتحاد پر وہ ہمیشہ زور دیتے تھے۔ انھوں نے علوم اسلامی کو سماجیات سے جوڑنے کی کوشش کی، سماجی انصاف کو فروغ دینے میں ان کی بڑی خدمات ہیں۔
مقاصد انسٹی ٹیوٹ گلوبل، امریکہ کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر جاسر عودہ نے کہا کہ مجھے کئی بار ہندوستان آنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ڈاکٹر منظور عالم کی قومی وفکری سوچ ہندوستان تک ہی محدود نہ تھی بلکہ دنیا بھر میں گونجتی تھی۔ انھوں نے اوقاف اور اسلامی معاشیات کے مطالعے کے لیے بڑی کوششیں کیں، پوری نئی نسل پر ان کے نظریات اثر انداز ہوئے۔ مدینہ منورہ میں رہ کر ڈاکٹر منظور عالم نے قرآن کریم کے انگریزی ترجمے میں اپنا اشتراک کیا، یہ ترجمے انگریزی پڑھنے والے طلبہ وطالبات کے لیے تھے۔ بلاشبہ اپنے پیچھے انھوں نے ایک قیمتی ورثہ چھوڑا ہے۔ ان کا یہ ورثہ آگے بھی چلتا رہے گا۔
جماعت اسلامی ہند کے امیر، سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ان کی متعدد خصوصیات قابل ذکر ہیں، آپ کا علمی، فکری وتحقیقی کام بہت اہم ہے، جن سے جہد وعمل کو کمک ملتی ہے۔ بغیر تحقیق کے اچھے کام بھی بے فیض رہتے ہیں، ہم علم وتحقیق کی بنیاد پر ہی اپنے کاموں کو بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر منظور عالم بہت ہی اختراعی منصوبوں کو عمل میں لاتے تھے۔ اختلاف رائے کے باوجود الگ الگ رجحانات کے لوگوں کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے لوگوں کی بہتر رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ ہندوستان میں رہتے ہوئے عالمی روابط کو کام میں لائے اور وسائل کو صحیح نہج پر استعمال کیا۔ اللہ ان کے تمام کاموں کو امت کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔
ملک کے معروف عالم دین اور ملی کونسل کے رکن تاسیسی، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم صاحب نے اختلاف رائے کی ہمیشہ قدر کی۔ تعاون دینے یا تعاون حاصل کرنے میں انھیں کہیں کسی قسم کی قباحت نہیں تھی، جو بڑی کامیابیوں کی ضمانت ہے۔ انھوں نے ہر میدان میں کام کیے، مختلف صلاحیتوں کو جمع کیا، جو شخص بھی ملت مسلمہ کے لیے مفید نظر آیا، اسے اپنا لیتے تھے۔ وہ اس راز کو سمجھ چکے تھے کہ کس سے کب اور کہاں فادئدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے شانہ بہ شانہ کام کرتے رہے، فقہی مسائل میں بھی وہ اعتدال پر قائم تھے، غور وفکر کے نتیجے میں ہی وہ اپنی حتمی رائے بناتے تھے، ان کے اندر حسین توافق وتعاون کا مزاج تھا، ان کے تجربوں سے نئی نسل کو یقینی فائدہ پہنچے گا۔
سابق وزیر خارجہ اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر، سلمان خورشید نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی فکر یہ تھی کہ ہندوستان کے مستقبل کو کس طرح تحفظ حاصل ہو، انھوں نے اکثر بڑے دانشوروں کو اکٹھا کرکے اس بات پر ہر لحاظ سے زور دیا کہ ہمارا سماج اور بالخصوص مسلمان کس طرح ملک کو پہنچنے والے اندیشوں وخطرات سے نکالا جائے۔ سچر کمیٹی وکندو کمیٹیوں کے ساتھ فکر سطح پر غیرمعمولی تعاون دیا۔ ان کے جو ادھورے کام ہیں، ہم انھیں پورا کرنے کی طرف ان کے گائیڈنس سے فائدہ اٹھائیں۔
پروفیسر امریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈاکٹر اخترالواسع نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماضی بعید میں مسلمانوں کے درمیان جو گلہ وشکوہ اور گالم گلوج کا طریقہ تھا، ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی محنت وجتن کے ساتھ آئی او ایس جیسا تھنک ٹینک قائم کرکے ایک عہدساز کارنامہ انجام دیا۔ انھوں نے آئی او ایس کے ساتھ متعدد اور اداروں کا قیام کرکے مختلف الخیال لوگوں کو مجتمع کیا اور بڑے تاریخی کارنامے انجام دیئے۔
معروف کانگریسی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایر نے کہا کہ ان کے گہرے رشتے ڈاکٹر منظور عالم سے تھے۔ وہ الگ الگ راستوں سے ملک وقوم کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ غیرجانبدارانہ انداز میں وہ کاموں کو انجام دینے کے عادی تھے۔
معروف انگریزی صحافی اور عیسائی لیڈر، ڈاکٹر جان دیال نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی زندگی بڑی منفرد تھی، ان کے کاموں میں کوالیٹی کا عنصر غالب تھا، وہ دوسری کمیونٹی کو بھی ساتھ لے کر چلنے اور آپسی میل جول وفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔
ڈاکٹر عبداللہ اللحیدان، وزارت تعلیم، حکومت سعودی عرب نے اپنے آن لائن خطاب میں کہا کہ منظور عالم نے سعودی عرب میں وزارت معاشیات سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اپنے کام میں انھوں نے کامیابی حاصل کی، تمام اداروں سے تعاون میں ان کا مکمل یقین تھا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملیشیا کے تمام پروجیکٹوں سے وہ جڑے رہے، ان کا نظریہ ہمیشہ مقصد سے جڑا رہا۔ انھوں نے سماجیات ومعاشیات کو میڈیا سے جوڑا۔ وہ عملی آدمی تھے، انھوں نے اپنے سامنے مثبت نصب العین رکھا اور حاصل بھی کیا۔ انھوں نے ایسے کئی کام کیے جن کی گونج پاکستان، بنگلہ دیش، جدہ اور ملیشیا میں ہے۔
اس موقع پر ملک کی کئی مایہ ناز شخصیتوں نے اظہار خیال کیا، جن میں ملی کونسل کے کارگزار صدر، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری، مولانا فضل الرحیم مجددی، اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری برائے علمی امور، مولانا عتیق احمد بستوی، پروفیسر حسینہ حاشیہ، وائس چیئرپرسن، آئی او ایس، ڈاکٹر محمد افضل وانی چیئرمین آئی او ایس، ساؤتھ افریقہ کے معروف دانشور اور سعودی عرب میں واقع انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹس کے سکریٹری جنرل پرفیسر عمر حسن کاسولے، پروفیسر ایم ایچ قریشی جامعہ ملیہ اسلامیہ، معروف بی بی سی نامہ نگار اقبال احمد، معروف صحافی اے یو آصف، معروف تجزیہ کار ومصنف پیوش بابلے، بھوپال، قطر کے انٹرنیشنل یونین آف مسلم لیڈرس کے چیئرمین، ڈاکٹر علی محی الدین القرہ داغی، شیخ نظام الدین، معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل، ڈاکٹر آفتاب عالم، کٹیہار میڈیکل کالج کے چیئرمین اور سابق ایم پی راجیہ سبھا، احمد اشفاق کریم، سابق ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم ودیگر نے اپنے مثبت تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور عالم کی خدمات کا اعتراف کیا، نیز ان کے متعلقین کے تئیں اظہار ہمدردی بھی کی۔ اس موقع پر آئی او ایس کے سکریٹری جنرل محمد عالم کی ذاتی محنت اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ آل انڈیا ملی کونسل، اسلامک فقہ اکیڈمی، تعاون ٹرسٹ اور فیچر ونیوز الائنس کے ذمہ داران وکارکنان نے اس پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ اس اہم ترین پروگرام کی خوبصورت ترین نظامت شیخ نظام الدین، اسسٹنٹ جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل نے کی۔ چار گھنٹے تک چلا یہ پروگرام مولانا انیس الرحمن قاسمی، کارگزار صدر ملی کونسل کی مستجاب دعاؤں پر اختتام پذیر ہوا۔
