پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن Raghav Chadha اور عام آدمی پارٹی (AAP) کے دیگر چھ ارکان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شمولیت نے پنجاب کی سیاست میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف AAP نے اسے عوام کے ساتھ “غداری” قرار دیا ہے، تو دوسری جانب بی جے پی نے آنے والے دنوں میں مزید سیاسی تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب Bhagwant Mann نے صدر جمہوریہ Droupadi Murmu سے ملاقات کا وقت طلب کیا ہے، جہاں وہ باغی ارکان کی نااہلی سے متعلق اپنا موقف پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ راگھو چڈھا پنجاب سے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔
وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے ایک دلچسپ مثال دیتے ہوئے کہا:
“ادرک، لہسن، زیرہ، میتھی، لال مرچ، کالی مرچ اور دھنیا — یہ سات چیزیں مل کر سبزی کو ذائقہ دیتی ہیں، لیکن الگ الگ یہ خود سبزی نہیں بن سکتیں۔”
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی رہنما Nayab Singh Saini نے اسے کسان مخالف تبصرہ قرار دیا۔
ادھر آج پنجاب میں ان راجیہ سبھا ارکان کے گھروں کے باہر مظاہرے بھی ہوئے، جنہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی، جن میں سابق کرکٹر Harbhajan Singh کا گھر بھی شامل ہے۔ لدھیانہ میں باغی رکن راجندر گپتا کے گھر کے باہر مظاہرین نے “غدار” کے نعرے بھی درج کیے۔
’پنجاب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘
پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال چیمہ نے پارٹی چھوڑنے والے ارکان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ای ڈی اور سی بی آئی کے دباؤ میں آ کر عوام سے غداری کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اس کا جواب دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام رہنما وزیر اعلیٰ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور راگھو چڈھا کے اس فیصلے سے پنجاب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
AAP نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ باغی ارکان کے خلاف انسدادِ انحراف قانون کے تحت کارروائی کی درخواست کرے گی، کیونکہ جن ارکان کے دستخط ظاہر کیے گئے ہیں، وہ سب اس وقت موجود نہیں تھے۔
بی جے پی کا ردعمل
پنجاب بی جے پی کے ورکنگ صدر اشونی شرما نے کہا کہ ان ارکان کی علیحدگی AAP کے لیے بڑا دھچکا ہے، جس کی وجہ اروند کیجریوال کی “آمرانہ پالیسی” ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے اثرات پنجاب میں بھی نظر آئیں گے۔
بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری ترون چُغ نے کہا کہ “انڈیا اگینسٹ کرپشن” تحریک سے جڑے لوگ اب Arvind Kejriwal کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اشوتوش، شازیہ علمی، کرن بیدی اور کمار وشواس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فہرست طویل ہے۔
انہوں نے AAP پر منظم بدعنوانی اور انتظامی نظام کو مفلوج کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
مزید سیاسی تبدیلیوں کا امکان
بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں AAP کی حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، خاص طور پر منشیات کے خاتمے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے۔
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا کہ پنجاب کے عوام اب وزیر اعظم Narendra Modi کی قیادت میں ترقی چاہتے ہیں اور مستقبل میں “کمل” کے نشان تلے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
مجموعی طور پر، راگھو چڈھا اور دیگر ارکان کی بی جے پی میں شمولیت نے پنجاب کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
