امریکا میں جنگی اختیارات پر سوال: کیا ٹرمپ یکم مئی کے بعد ایران کے خلاف جنگ جاری رکھ سکیں گے؟

Zafar Siddiqi

Zafar Siddiqi

25 April 2026 (Publish: 02:46 PM IST)

امریکی صدر Donald Trump کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں یکم مئی کی ایک اہم داخلی ڈیڈ لائن کا سامنا ہے، جس کے تحت انہیں امریکی کانگریس سے جنگ جاری رکھنے کی منظوری حاصل کرنا ہوگی، ورنہ قانونی طور پر فوجی کارروائی محدود کرنا پڑ سکتی ہے۔

امریکی قانون War Powers Resolution 1973 کے مطابق صدر کو کسی بھی بیرونِ ملک جنگی کارروائی شروع کرنے کے 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو آگاہ کرنا ہوتا ہے، جبکہ وہ 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس مدت کے بعد جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی باقاعدہ منظوری ضروری ہوتی ہے، بصورت دیگر کارروائیاں روکنا لازم ہو جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی صدر نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان تو کیا، مگر مذاکرات کی کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی۔ اس کے ساتھ ہی امریکا نے ایران پر بحری دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے، جس میں خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں سرگرمیاں شامل ہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق صدر کو 60 دن کے بعد مزید 30 دن کی توسیع مل سکتی ہے، بشرطیکہ وہ کانگریس کو تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرائیں کہ فوجی کارروائی ناگزیر ہے۔ تاہم 90 دن کی اس مجموعی مدت کے بعد بغیر منظوری کے جنگ جاری رکھنا قانونی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کانگریس میں موجود شدید اختلافات کے باعث ایران کے خلاف جنگ کے لیے منظوری ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ ووٹنگ میں صدر کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش ناکام ہوئی، تاہم کئی ارکان نے واضح کیا ہے کہ 60 دن کے بعد کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی۔

ادھر زمینی حقائق یہ ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز کو تحویل میں لیا، جبکہ ایران نے ردعمل میں غیر ملکی جہازوں کو قبضے میں لے لیا، جس سے خطے میں تناؤ برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ ماضی کی طرح دیگر قانونی راستے بھی اختیار کر سکتے ہیں، جن میں Authorization for Use of Military Force (AUMF) شامل ہے، جس کے تحت مختلف امریکی صدور نے وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے لیے یہ جنگ سیاسی طور پر ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں فوجی دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدر کانگریس کی منظوری حاصل کر پاتے ہیں یا ماضی کی طرح کسی متبادل قانونی راستے کے ذریعے جنگ کو جاری رکھتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top