بابری مسجد کے بعد اب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اور تاریخی مسجد کو مندر قرار دے دیا

mt-staff

mt-staff

15 May 2026 (Publish: 01:44 PM IST)

بابری مسجد کے بعد اب کمال مولا مسجد پر فیصلہ، کیا 1991 کے ورشپ ایکٹ کی روح کمزور ہو رہی ہے؟

بھارت میں مذہبی مقامات کو لے کر تنازعات کوئی نئی بات نہیں، لیکن بابری مسجد فیصلے کے بعد جس طرح ایک ایک کرکے تاریخی مساجد اور مسلم مذہبی مقامات کو عدالتوں اور سروے کے دائرے میں لایا جا رہا ہے، اس نے ملک کے مسلمانوں کے اندر شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اب مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں موجود تیرہویں صدی کی تاریخی کمال مولا مسجد کے بارے میں آیا ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

کمال مولا مسجد صرف ایک عمارت نہیں بلکہ صدیوں پرانی ایک مذہبی اور تاریخی شناخت ہے۔ مالوا سلطنت کے دور میں ایک بزرگ صوفی کمال شاہ نے یہاں ایک مذہبی مرکز قائم کیا تھا اور اسی احاطے میں مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ تیرہویں صدی سے لے کر آج تک یہ مقام مسلمانوں کی عبادت گاہ رہا ہے۔ اس مقام پر مسجد کی تمام نشانیاں موجود ہیں — گنبد، محراب، اسلامی طرزِ تعمیر اور مسلسل نماز کا سلسلہ۔ مقامی تاریخ میں بھی یہ جگہ ایک مسجد اور صوفی مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدیوں تک اس مقام کو لے کر کوئی بڑا تنازع سامنے نہیں آیا۔ یہاں تک کہ برطانوی حکومت کے دور تک بھی اس مقام کی شناخت مسجد کے طور پر برقرار رہی۔ پہلی بار 1904 میں کچھ ہندو تنظیموں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ یہاں کبھی سرسوتی مندر تھا، جسے راجا بھوج نے دسویں صدی میں تعمیر کروایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقام اصل میں بھوج شالہ ہے اور بعد میں اسے مسجد میں تبدیل کیا گیا۔

لیکن اس وقت برطانوی حکومت نے ان دعوؤں کو قبول نہیں کیا۔ انتظامیہ نے اس تنازع کو مسترد کر دیا اور یہ مقام مسجد کے طور پر ہی استعمال ہوتا رہا۔ اس کے باوجود ہندو تنظیموں کے دعوے آہستہ آہستہ مضبوط ہوتے گئے اور برسوں بعد یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچ گیا۔

سال 2003 میں حکومت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی جانب سے ایک انتظامی فارمولہ طے کیا گیا۔ اس کے تحت منگل کے دن ہندوؤں کو پوجا کی اجازت دی گئی جبکہ جمعہ کے دن مسلمان نماز ادا کرتے رہے۔ اس طرح ایک ہی احاطے کا مشترکہ استعمال شروع ہوا۔ اگرچہ مسلم فریق مسلسل یہ کہتا رہا کہ یہ ایک مسجد ہے اور مشترکہ انتظام عارضی نوعیت کا ہے، جبکہ ہندو فریق پورے کمپلیکس کو مندر قرار دینے کا مطالبہ کرتا رہا۔

اس تنازع نے نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب 2024 میں ASI کو اس مقام کا تفصیلی سروے کرنے کا حکم دیا گیا۔ سروے کے دوران ASI نے دعویٰ کیا کہ احاطے میں کچھ سنسکرت کے کتبے، مخصوص ستون اور ایسے آثار ملے ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ ڈھانچہ ممکنہ طور پر دسویں صدی کا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ “ایسا لگتا ہے” کہ یہاں کبھی سرسوتی مندر موجود تھا اور یہ راجا بھوج کے دور میں تعمیر کیا گیا ہوگا۔

یہیں سب سے بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے۔ کیا کسی مذہبی مقام کی صدیوں پرانی شناخت کو صرف “امکان” اور “ایسا لگتا ہے” جیسے الفاظ کی بنیاد پر تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ کیا شک اور قیاس کو تاریخی حقیقت مان لیا جائے گا؟ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ مسجد ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ یہاں صدیوں سے نماز ادا کی جا رہی ہے، اسلامی طرزِ تعمیر موجود ہے، تاریخی ریکارڈ موجود ہیں، لیکن مندر ہونے کا کوئی حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود ASI کی تقریباً دو ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ کو بنیاد بنا کر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا کہ یہ مقام راجا بھوج کے تعمیر کردہ سرسوتی مندر کا حصہ ہے۔

عدالت نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ مسجد کے لیے کسی دوسری جگہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس تنازع کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ مسلم طبقے کے اندر یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ بابری مسجد کے بعد اب ایک نئی عدالتی اور سیاسی مہم کے ذریعے کئی تاریخی مساجد کی مذہبی شناخت تبدیل کی جا سکتی ہے۔

اس فیصلے پر سب سے بڑا سوال 1991 کے ورشپ ایکٹ کے حوالے سے اٹھ رہا ہے۔ یہ قانون اس وقت بنایا گیا تھا جب ملک بابری مسجد تنازع کی وجہ سے شدید کشیدگی کا شکار تھا۔ اس قانون کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ 15 اگست 1947 کو ملک کے مذہبی مقامات کی جو حیثیت تھی، اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ یعنی کوئی بھی فریق کسی دوسرے مذہبی مقام پر تاریخی دعویٰ کرکے اس کی موجودہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

اس قانون کو بھارتی جمہوریت اور مذہبی ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن کمال مولا مسجد کے بارے میں آیا فیصلہ اس قانون کی روح پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ اگر صدیوں سے مسجد کے طور پر استعمال ہونے والی جگہ کو محض سروے اور تاریخی تعبیرات کی بنیاد پر مندر قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر ورشپ ایکٹ کی اصل اہمیت کیا رہ جاتی ہے؟

مسلم تنظیموں اور کئی آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ملک میں نئے تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر مذہبی مقام کو تاریخ کی مختلف تشریحات کی بنیاد پر چیلنج کیا جانے لگا تو ملک میں مستقل امن اور سماجی ہم آہنگی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔

دوسری طرف ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی انصاف کا معاملہ ہے اور جن مقامات پر پہلے مندر تھے انہیں واپس ہندو سماج کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صدیوں پرانے تاریخی دعوے موجودہ سماجی امن سے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں؟ کیا جدید بھارت کو ماضی کے تنازعات میں دھکیلنا ملک کے مفاد میں ہے؟

کمال مولا مسجد کا معاملہ اب صرف ایک مذہبی مقام کا تنازع نہیں رہا بلکہ یہ بھارت کے آئین، عدالتی نظام، مذہبی آزادی اور سماجی توازن سے جڑا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے، جہاں یہ طے ہوگا کہ 1991 کے ورشپ ایکٹ کی آئینی طاقت کتنی مضبوط ہے اور کیا تاریخی دعوؤں کی بنیاد پر مذہبی مقامات کی موجودہ حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔

فی الحال اتنا طے ہے کہ بابری مسجد کے بعد کمال مولا مسجد پر آیا یہ فیصلہ ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ یہ بحث صرف تاریخ کی نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل، آئین اور مذہبی ہم آہنگی کی بھی ہے۔

ا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top