Category: خبر در خبر

  • یوجی سی کو تبدیل کرکے اعلی تعلیمی نظام پر قابض ہونے کی کوشش

    یوجی سی کو تبدیل کرکے اعلی تعلیمی نظام پر قابض ہونے کی کوشش

    اگر اس کی جگہ تبدیل ہوکر ہائر ایجوکیشن کمیشن ایکٹ نافذ ہوجاتاہے تو ہندوستان کے اعلی تعلیمی نظام پر حکومت کا کنٹرول ہوگا ۔یہ بات اب مکمل طور پر واضح ہوچکی ہے کہ بی جے پی حکومت تمام محکموں اور شعبوں میں آر ایس ایس ذہنیت کے لوگوں کو بحال کررہی ہے اور اس کیلئے…

  • ایل جی اور سی ایم کے درمیان حقوق کی جنگ :سپریم کورٹ کا قابل ستائش فیصلہ

    ایل جی اور سی ایم کے درمیان حقوق کی جنگ :سپریم کورٹ کا قابل ستائش فیصلہ

    سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بتارہاہے کہ کجریوال حکومت کی جیت ہوئی ہے ،مرکزی حکومت اور بی جے پی کی دلیل سپریم کورٹ نے مسترد کردی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ مین اسٹریم میڈیا میں اسے کجریوال کی فتح بتانے کے بجائے پنچایتی فیصلہ اور سمجھوتہ کہاجارہاہے خبر درخبر (560) شمس تبریز قاسمی دہلی…

  • ہندوستان میں رویت ہلال کا اختلاف :اسباب و وجوہات

    مسلم دور حکومت میں رویت ہلال کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں ہوتاتھا۔ ایک ہی دن پورے ہندوستان میں روزہ رکھنے کا اہتمام ہوتاتھا اور ایک ہی دن عید کی نماز ادا کی جاتی تھی ،عصر حاضر کے مسلم ملکوں میں حکومت کی طرف سے باضابطہ چاند کمیٹی کی تشکیل کی جاچکی ہے جس کی…

  • پرنب داکا آر ایس ایس پریم

    اب کانگریس کیلئے سنگھ پر حملہ کرنا اور آر ایس ایس کے خلاف بولنا آسان نہیں ہوگا ،جب بھی سنگھی نظریات کے خلاف کانگریس بولے گی اسے پرنب دا کا یہ جملہ یاد دلایا جائے گا ۔ ملک کے ہندﺅوں کو بھی انہوں نے خاموشی کے ساتھ یہ پیغام دے دیاہے کہ ہیڈ گیوار نے…

  • مسلمانوں میں بڑھتی انتہاءپسندی !

    ہم اپنے اختلافات کے وقت عدم تحمل کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں جس کی غیروں میں بھی کبھی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔شدت اور انتہاءپسندی کا یہ مظاہر ہ ہم مسلمان دوسری قوم کے بجائے اپنی قوم کے ساتھ زیادہ کرتے ہیں خبر درخبر (567) شمس تبریز قاسمی تبلیغی جماعت دنیا کی سب سے…

  • مودی حکومت کے چار سال

    ۔عوام نے اندازہ کرلیاہے کہ مودی صاحب کے پاس جملہ بازی سے زیادہ کی صلاحیت نہیں ہے اور ہر کسی زبان پر یہ سوال گردش کررہاہے کہ چار سال بعد بھی ملک کے زوال کیلئے اگر کانگریس ہی ذمہ دار ہے تو پھر بی جے پی نے چار سالوں میں کیا کارنامہ انجام دیا ؟۔…

  • قسمت کے دھنی کمار سوامی !

    اس تقریب میں 22 پارٹیوں کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلی کو مدعو کیا گیاتھا ۔سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بھی شرکت کی تھی ۔مسلم لیگ۔ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکرییٹک فرنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ذمہ داروں کو بھی بلایاگیاتھا ۔جس میں سے…

  • کرناٹک اسمبلی انتخابات :آخری امید بھی دم توڑ گئی!

    کرناٹک انتخاب سے ایک سبق کانگریس کو یہ ضررو لینا چاہیے کہ علاقائی پارٹیوں کو نظر انداز کرنے کی سیاست اب وہ بند کردے کیوں کہ انہیں نظر انداز کرکے کامیابی نہیں مل سکتی ہے ۔آسام ،یوپی اور اب کرناٹک سمیت کئی ریاستوں میں کانگریس کی شکست کی وجہ علاقائی پارٹیوں کو نظر انداز کرناہے…

  • اے ایم یو تنازع اور میڈیا کاغلط پیر وپیگنڈہ

    نیشنل میڈیا نے ہمیشہ کی طرح اصل معاملہ کو موضوع بحث بنانے کے بجائے ایک غیر ضروری معاملے کو موضوع بحث بنادیاجبکہ موضوع بحث حامد انصاری کو نشانہ بنایاجانا ہے ۔ ہندو یووا آہنی کا دہشت گردانہ حملہ ہے ۔اے ایم یو کے سابق وی سی ضمیر الدین شاہ کی زبان میں پولس کا لاٹھی…

  • کرناٹک میں کانگریس کی واپسی یقینی کیوں ؟

    گذشتہ چار سالوں میں یہ دیکھابھی گیاہے کہ جب بھی بی جے پی کو اپنی شکست یقینی نظر آتی ہے تو وہ پاکستان یا فرقہ پرستی کا مسئلہ چھیڑ کر جذباتی بنیاد پر ہندوووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر تی ہے خبر درخبر(562) شمس تبریز قاسمی جنوبی ہند کی معروف ریاست کرناٹک میں اسمبلی انتخابات…